نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔
(سنن ابی داؤد،۴۹۴۱)
ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو ۔
(سنن ابوداؤد،۲۵۹۴)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا :
جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔
(صحیح مسلم،۹۱۲)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔
(بخاری، حدیث نمبر ٥٠٢٥)
آپ ﷺنے فرمایا:
جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔
(صحیح مسلم،۱۷۳)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :
اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا۔
ـ (ابوداؤد، ٣٦٦٠)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۔
(سنن ابن ماجہ،۷۹۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ مایوسی کے بعد اچانک اسے مل گیا ہو حالانکہ وہ ایک چٹیل میدان میں گم ہوا تھا۔“
(صحیح بخاری حدیث نمبر ٦٣٠٩)
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى”
“اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔
( جامع ترمذی،۳۴۸۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کسی قوم میں علانیہ فحش ( فسق و فجور اور زناکاری ) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔
(سنن ابن ماجہ،۴۰۱۹)
عمر ؓشام کےلیےروانہ ہوئےجب مقام سرغ میں پہنچے توخبرملی کہ شام میں طاعون کی وباپھوٹ پڑی ہے۔پھر عبدالرحمٰن بن عوف ؓنےانکوخبر دی کہ آپ ﷺنے فرمایا
جب تم وباکے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہےتووہاں نہ جاؤاورجب کسی ایسی جگہ وباپھوٹ پڑےجہاں تم موجود ہو تووہاں سےبھی مت بھاگو۔
(بخاری،۵۷۳۰)