اس پھدو پچیس کروڑ عوام کے ساتھ صحیح ہوتا چلا آ رہا ہے۔
ہر وقت کسی نا کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے اور یہ لگ جاتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا اور سب سے زیادہ تکلیف پاکستانیوں کو ہوئی، جس کا فائدہ کرپٹ فوج اور سیاستدانوں سے اٹھایا ثالثی کا منجن بیچ کر۔
کوئی ان پچیس کروڑ بیوقوفوں سے پوچھے ان کی روز مرہ کی زندگیوں کا کتنا فائدہ ہوا ہے اس ثالثی سے تو ان کےپاس جواب بھی نہیں ہو گا۔
یہ ابھی بھی مزید مہنگائی اور ظلم ناچ ناچ کر بھکتیں گے حب الوطنی اور مذہبی چورن کے نام پر۔
یہ فوج اور کرپٹ سیاستدان اپنی لوٹ مار اور ظلم میں مزید اضافہ کریں گے لیکن گدھے پاکستانیوں کو کوئی فرق نہیں پڑھنا۔
آئیے غریب کے عمران خان سے ملیے!
یہ شام تھی، جب اچانک گھر کی ملازمہ نے بیل بجائی۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ میں نے پوچھا، خدا خیر کرے، گھر میں سب خیر ہے؟ کہنے لگی باجی سنا ہے عمران خان کو پولیس نے پکڑ لیا، باجی بتائیں یہ جھوٹ ہے نا؟
شدید حیرت کے ساتھ میں نے کہا، ''یہ سچ ہے عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے مگر تم کیوں رو رہی ہو؟‘‘ زبان پر بے ساختہ آئی مسکراہٹ روک کر میں نے کہا، ''مجھے نہیں پتہ تھا ہماری رفیع بھی قوم یوتھ سے ہیں۔‘‘ اسے سمجھ تو کچھ نہیں آئی میری بات کی لیکن آنسو صاف کر کے میری جانب متوجہ ہوئی۔
باجی عمران کیسے کچھ غلط کر سکتا ہے بھلا؟ دیکھیں وہ مجھے نہیں جانتا، مجھے چالیس سال ہو گئے لوگوں کے گھروں میں کام کرتے، دھکے کھائے ساری عمر، کبھی کسی نے نہ سوچا ہم غریبوں کا لیکن باجی عمران خان آیا تو میری امی کی آنکھوں کا آپریشن اے سی والے ہسپتال میں ہوا۔ میرے بیٹے نے وہ جو کمپیوٹر والا کورس ہوتا ہے وہ بس دو ہزار میں کر لیا، بڑا مہنگا کورس تھا وہ۔
وہ انگلیوں پر کچھ گننے لگی۔ پھر بولی، ''میں نے حساب لگایا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ہسپتال میں میرے گھر والوں پر کوئی تین، چار لاکھ روپے لگے، پر میں نے نہیں دیے اور باجی عزت بھی بہت دی ڈاکٹروں نے۔‘‘
یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، ہاں ایک اپنی ذات میں مگن رہنے والی عام سی عورت کے منہ سے یہ سننا میرے لیے حیران کن تھا کیونکہ عموماً دیہات میں رہنے والے ایسے سادہ لوگ ووٹ صرف برادری کے نام پر دیتے ہیں، انہیں اس کے لیے سیاست یا حکمران سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔
صحت کارڈ کے حوالے سے بات کی جائے تو ایک نجی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ہیلتھ کارڈ سے مفت علاج کے لیے 794 سرکاری ونجی ہسپتالوں کو منتخب کیا گیا۔ 189سرکاری، 605 نجی ہسپتالوں سے علاج معالجہ کی مفت سہولت حاصل کی گئی، صوبے میں چار لاکھ 89 ہزارسے زائد افراد نے ہیلتھ کارڈ سے مفت ڈائیلسزکروائے۔
51 ہزار سے زائد افراد نے ہیلتھ کارڈ سے مفت کورونری انجیوگرافی کی سہولت حاصل کی، ہیلتھ کارڈ سے 44 ہزار سے زائد خواتین نے نارمل ڈلیوری، ایک لاکھ87 ہزار سے زائد نے سیزیرین کی سہولت لی۔
محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں 32 ہزار سے زائد افراد نے صحت سہولت کارڈ سےکیموتھراپی کی مفت سہولت لی۔ زبیر کی عمر 39 سال ہے، اس کا تعلق صوابی سے ہے، میٹرک تک تعلیم ہے۔ اس کے والد اے این پی کے کارکن تھے اور اب بھی اے این پی کے ہی ہم درد ہیں۔ زبیر سے اگر پوچھا جائے کہ الیکشن ہوئے تو ووٹ کس کو دو گے تو ایک لمحہ توقف کیے بغیر جواب دے گا کہ عمران خان کو۔
زبیر کہتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اس کے بھائی کا چھت سے گر کر بازو ٹوٹ گیا تھا۔ بڑے ہسپتال لے کر گئے، ڈیڑھ لاکھ کا ایسٹیمیٹ بنا، غریب آدمی کدھر سے دیتا۔ لیکن ادھر شناختی کارڈ دیا، صحت کارڈ پر سب کام مفت ہو گیا بلکہ ایک بندہ دس دفعہ پوچھنے آیا کہ کسی نے دوائی، ایکس رے یا کسی اور کام کے لیے پیسہ مانگا ہو تو بتاؤ؟ زبیر کے مطابق ایسا خیال تو ان کا کبھی کسی نے نہیں کیا۔
زبیر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ''دوسری بات یہ کہ جب پہلے دیگر حکومتیں رہیں تو پولیس ہمیں بہت ذلیل کرتی تھی۔ یہ سمجھیں کہ ہم کُتے تھے ان کے لیے۔ پی ٹی آئی حکومت میں ان کا رویہ بدل گیا۔ اب پہلے سلام کرتے ہیں، پھر پوچھتے ہیں اگر کچھ پوچھنا ہو۔ ابھی زیادہ دن کی بات نہیں ہمارے بزرگ کا سامان اڈے سے اٹھا کر گھر تک پہنچایا۔ ہم نے تو ایسا پولیس کا رویہ نہیں دیکھا۔ غریب کو اور کیا چاہیے؟ اس کو صحت کی گارنٹی مل گئی، تھانے کچہری کا ڈر کم ہو گیا۔ کافی ہے نا، تو ووٹ تو عمران خان کا ہی ہے۔‘‘
پاکستان میں بسنے والے غریب کے لیے عزت نفس اس عیاشی کی طرح ہے، جو خواب ہی کی طرح ہوتی ہے۔ حیرانی ہوتی ہے اپوزیشن کو کہ خان ایک کال دیتا ہے اور سڑکیں لوگوں سے بھر جاتی ہیں، کیوں؟
پناہ گاہیں، بے سہارا، غریب اور لاچار کے لیے ان کے گھر ہی کی طرح کی جگہیں تھیں اور دسترخوان بھی، وہ لنگر، جس پر کہنے والوں نے عمران خان کو کشکول تھمانے تک کے طعنے دیے۔
کلیم اللہ، دیہاڑی کرتا ہے، روزانہ کا ہزار روپیہ ملتا ہے اسے۔ گرمی ہو یا سردی، موسم کی سختی اسے کام نہ کرنے سے روک نہیں سکتی۔ احساس کفالت پروگرام ان کے لیے بازو بنا۔ کلیم اللہ نے مجھے بتایا، ''وہ بے یقینی، جو دیہاڑی ملنے نہ ملنے کی صورت مجھے فاقوں کا خوف دلاتی تھی، اس مدد نے مجھے اس سے آزاد کیا اور دن بھر مزدوری کر کے یا مزدوری کا انتظار کر کے پیٹ کا ایندھن عمران خان کے لنگر خانے سے بھرنے لگا۔ آپ نہیں جانتے غریب کے لیے یہ سو روپے کی بچت کتنی بڑی بچت ہے، جس سے مجھے اپنی روٹی خریدنے پڑتی تھی۔ میرے لیے خان فرشتہ ہے، رحمت کا فرشتہ۔‘‘
سرکار ہم پاکستانی ایک انتہائی جذباتی ہجوم ہیں۔
دنیا میں اصل value creation کے کئی طریقے ہیں اور ایلون مسک @elonmusk جیسے لوگ ،value creation بلا وجہ کی charity سے نہیں بلکہ دیگر معنی دیگر خیز اقداات سے کرتے ہیں اور اس کے لئیے ایسے لوگوں کی فہرست میں اس نوعیت کی charity کہیں آخر میں آتی ہے۔
یہ لوگ کئی کئی لاکھ ڈالر ادھر ادھر روز charity کرتے رہتے ہیں جو کہ سوشل میڈیا کی زینت بنانے کی ضرورت نہی سمجھتے۔
پاکستان کی فوج اس ملک کے قانون کی کیسے دھجیاں اُڑاتی ہے ایک اور مثال دیکھیں۔
یہ عمارت بنے یا نا بنے، اس عمارت کا اجازت نامہ سول ایویشن سے حاصل کر لیا گیا ہے۔
ڈی ایچ اے سٹی کراچی عین کراچی کے بین القوامی ہوائی اڈے کے رن وے RWY 25L اور رن وے RWY 25L کے راستے میں ہے۔
کراچی کے رہائشی اکثر جہازوں کی لینڈنگ کا منظر دیکھتے رہتے ہیں جب ہواوں کے رُخ کے مطابق جہاز حیدرآباد کی سمت سے لینڈ کرتے ہیں۔ یہ لینڈنگ رن وے RWY 25L یا رن وے RWY 25L پر کی جاتی ہیں۔
اگر ہواوں کا رُخ بدلا ہو تو ٹیک آف RWY 07L یا RWY 07R سے کیا جاتا ہے، جو کہ RWY 25L اور رن وے RWY 25 کی مخالف سمت ہے۔
دونوں صورتوں میں ڈی ایچ اے سٹی کراچی ٹیک آف یا لینڈ کرتے ہوئے جہازوں کے راستنے میں صرف تقریباً 17 DME (ناٹیکل مائلز) پر موجود ہے۔
ایک عام مسافر بردار جہاز کو لینڈنگ کے لئیے رن وے سے 12 DME سے 20 DME کا فاصلہ درکار ہوتا ہے۔
اس میں مزید کافی تیکنیکی نقطے ہیں جن کی وجہ سے یہ اجازت نامہ جاری ہی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ملک خداداد میں اس ڈفر فوج کو کون سا ادازہ لگام ڈال سکتا ہے موجودہ دور میں؟
پہلے ہی کراچی ائیر پورٹ کے بغل میں اسی فوج نے ایک عددعسکری 4 تعمیر کیا ہوا ہے جو کہ بلکل غیر قانونی ہے۔
اور اب یہ نیا تماشہ ڈی ایچ اے سٹی میں۔
اندھی گونگی بہری عوام اس فوج کو چاٹتے رہیں اور یہ فوج اس ملک کو کھاتی رہے گی قانون کا مذاق بنا بنا کر۔
@ikstaaanacc وہ فوٹو کاپی کی دکان میری تھی، وزیر اعظم عمران خان صاحب کے پاس کھلا نہیں تھا، میں نے اپنی دکان کے ساتھ مرغی والے کی دکان سے کھلا کروا کر مسلہ حل کیا تھا۔
وہ مرغی والا آج بھی موجود ہے۔ ریاست اس مرغی والے کی حفاظت کا بند و بست یقینی بنائے۔
اکثر پاکستانی صحافی سب کو اپنی طرح بیوقوف سمجھتے ہیں۔
دنیا کی کس فوج یا انٹیلجنس ایجنسی کا تعلق کسی شہر یا صوبے میں ہونے والی بدعنوانی سے ہوتا ہے؟
یہ سب صرف پاکستان میں اسی لئیے ہوتا آ رہا ہے کیونکہ اس ملک کی فوج براہ راست اس ملک میں ہونے والی کرپشن میں نا صرف شامل رہی ہے، بلکہ ملک میں منشیات اور جسم فروشی کے اڈے اور اس نوعیت کی درآامد و بر آمد بھی اس ملک کی فوج کی سرپرستی میں ہو ہوتی ہے۔
بارڈر پر ملک کی فوج کھڑی ہے۔
ہر بڑے شہر میں ان کے یہی سیکٹر کمانڈر بیٹھے ہیں۔
سارے تھانے یہ کنڑول کرتے ہیں۔
ائیرپورٹ پر یہ موجود ہیں
بندر گاہوں پر یہ بیٹھے ہیں۔
پھر بھی ملک میں ہونے ہر مالی و اخلاقی بند عنوانیوں کو یہ روکیں گے۔
کمال صحافت کی کمال فوجی چاپلوسی۔۔
صحافتی ذرائع کے مطابق سندھ کی کرپٹ مافیا کے لیے بُری خبر یہ ہے کہ بریگیڈیئر اعجاز اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔
میں کراچی سے تعلق رکھتی ہوں اور ایک صحافی ہونے کے ناطے تمام سیاسی جماعتوں، کاروباری شخصیات اور معاشرے کے مختلف طبقات سے رابطہ رہتا ہے ۔
مختلف ادوار میں بریگیڈیئر اعجاز، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی سندھ، کے خلاف سوشل میڈیا پر کئی campaigns دیکھی اور پڑھیں۔ تاہم کراچی کے تقریباً ہر طبقے سے یہی سننے کو ملا کہ وہ ایک ایماندار، محنتی اور اپنے کام سے مخلص افسر ہیں۔ یہ بھی عام تاثر رہا ہے کہ مختلف مافیا عناصر کافی عرصے سے ان کے تبادلے کے خواہاں تھے، مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔
کراچی کی صحافی برادری بھی مسلسل یہ مؤقف دیتی رہی ہے کہ آج تک ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل چار سال سے سیکٹر کمانڈر سندھ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ اگر کسی افسر کے خلاف کوئی الزام ثابت ہو جائے تو فوج اسے ہرگز نہیں بخشتی۔ ادارے کے اندر ترقیوں اور تبادلوں کا ایک منظم نظام موجود ہے۔ گزشتہ دنوں ترقیوں کا مرحلہ مکمل ہوا اور اب تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صحافتی حلقوں کے مطابق اگلے عہدے کے لیے لازمی کمانڈ تعیناتی کے تحت ان کا تبادلہ اسی فیز میں متوقع تھا۔
بریگیڈیئر اعجاز پر لگنے والے حالیہ الزامات پر کچھ لوگوں سے رابطہ کیا کے حقیقت جان سکوں لیکن کسی ایک شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ انہوں نے کبھی کسی غلط کام میں کردار ادا کیا یا کسی ناجائز عمل کی حمایت کی ہو۔ اس کے برعکس، اکثر لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ کرپٹ عناصر کے خلاف مؤقف اپنایا اور اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے کئی ایسے عناصر کو قابو میں رکھا۔
The Ambanis and Adanis would never be as close to > 100 Billion marks if they were in any other country than India.
Such capital cronyism is only allowed in India and Russia and now they are bringing the same culture in Trump-led US.
Breaking News: The Justice Dept. is planning to drop charges against India’s richest man, Gautam Adani, after a lawyer for the billionaire made an unusual investment offer. https://t.co/08sl331XCJ
برطانیہ میں اس وقت سیاسی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، حالیہ کاونسل انتخابات میں وزیر اعظم اسٹارمر کی جماعت کے ہزار سے زیادہ کاونسل سیٹیں ہارنے کی وجہ سے۔
وزیر اعظم اسٹارمر کی اپنی پارٹی کے عہدیدار ان سے استفعے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لیکن مجال ہے جو برطانیہ میں جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہو۔
اور سب سے اہم یہ ہے کہ برطانوی فوج کو اس سارے بحران کے شروع ہونے سے کوئی سر وکار نہیں۔
یہ خوش قسمتی صرف پاکستان کی ہے کہ اس ملک کی فوج کو سب سے پہلے ملک کے ہر شعبے کے مسائل کی وجہ سے تکلیف اٹھتی ہے۔
Welcome back to Canada, President @BarackObama.
Thank you for joining us in Toronto for important conversations on how we can build a better and more just future — and empower more people to build with us.
’’امی کو بلاؤ‘‘
ڈیفنس کراچی میں پولیس نے جعلی نمبر پلیٹ اور پولیس لائٹس لگے ویگو کو روکا، ویگو میں سوار نوجوان نے کہا اس کی والدہ SP ہیں، پولیس سے بدتمیزی کی، ساتھیوں کو کہا ’’امی کو بلاؤ‘‘۔ پولیس نے پرچے دے کر گرفتار کر لیا
زیدی صاحب یہ بتائیں اصل میں صحافی ہوتا کون ہے؟
پاکستان میں یہ نام نہاد صحافی نا کوئی مطالعہ کرتے ہیں، نا ان کی کوئی تحقیقی صلاحیتیں ہوتی ہیں، نا ان کو خبر، افواہ اور چھچھور پن میں فرق کا معلوم ہوتا ہے۔
جو بھی حکومت وقت اور وردی کے تلوے اور غیر پارلیمانی علاقے چاٹتا ہے وہی سب سے بڑا صحافی ہوتا ہے۔
The US Air Force agreed to buy an undisclosed number of interceptor drones from a company backed by Trump’s sons, according to the firm, deepening the military’s ties to defense contractors linked to the first family . https://t.co/3atoM2QCjx