جس مرض میں عموماً آنکھ میں تین انجیکشن لگتے ہیں، پہلے ہی خان صاحب کی آنکھ میں پانچ انجیکشن لگ چکے ہیں
آخر کیا وجہ ہے کہ جمعرات کو بھی جب عظمیٰ آپا کی خان صاحب سے ملاقات ہوئی پمز میں تو انجیکشن لگایا گیا؟
آخر کون سے انجیکشن خان صاحب کو بار بار لگائے جا رہے ہیں؟
یکم اگست کو جب خان صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تھی تو کوئی دوائی دی گئی آخر کون سی دوائی دی گئی تھی؟
خان صاحب کے سر میں شدید درد ہوتا رہا ہے، کیوں ہوتا رہا ہے؟
خان صاحب نے یہ بات کیوں ہائی لائٹ کرنے کو بولی؟
خان صاحب نے بار بار یہ کیوں کہا کہ مجھ پہ بہت ظلم ہو رہا ہے؟
خان صاحب نے بار بار مرسی کا ذکر کیوں کیا؟
بار بار خان صاحب کیوں بلڈ ٹیسٹ کا بولتے رہے ہیں؟
اتنا عرصہ ہو چکا ہے خان صاحب کا بلڈ ٹیسٹ کیوں نہیں کیا جا رہا؟
آخر کیا وجہ ہے؟
کیا چھپایا جا رہا ہے؟
کیا یہ خان صاحب کو زہر دے چکے ہیں؟
کیا یہ خان صاحب کو مارنے لگے ہیں؟
سوال پوچھیں بار بار
پوچھیں آخر کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی توہین بھی کر دی لیکن خان صاحب کو شفاء انٹ��نیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا
شفاء انٹرنیشنل ہسپتال سرکاری نہیں ہے اور وہاں پہ ہر شعبے کے ڈاکٹرز موجود ہیں اور وہاں پر سب سے اچھا علاج ہوتا ہے
کیوں خان صاحب کو وہاں پر نہیں لے کر جا رہے ہیں؟
آخر عظمیٰ آپا نے خان صاحب کو کس حالت میں دیکھا کہ ان کی آواز کانپ رہی تھی؟
نورین آپا نے کس حالت میں خان صاحب کو دیکھا کہ وہ پریس کانفرنس میں رو رہی تھی؟
میں ��ے کبھی ان بہنوں کو ایسے روتے ہوئے نہیں دیکھا
آخر کیا وجہ ہے کہ وہ خان صاحب کو دیکھ کر ٹوٹ گئی؟
ان کی آواز ان کا ساتھ نہیں دے رہی؟
آخر کیا ہو چکا ہے؟
اخر کیا دے دیا ہے؟
آخر کیا دے دیا ہے جس کی وجہ سے خان صاحب کا وزن بہت کم ہو چکا ہے؟
آخر کیوں خان صاحب کے ڈاکٹر سے ان کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی؟
میرے پاکستانیوں وقت کم ہے
27 ستمبر بہت دور ہے
ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہے، ورنہ ہم خان صاحب کو کھو سکتے ہیں
جب ان لوگوں نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے
اس کا مطلب ایک ہی ہے یہ کچھ کر بیٹھے ہیں
کوئی بات ضرور ہے جس کو چھپا رہے ہیں
خدارا آواز اٹھائیں، اس سے پہلے ��یر ہو جائے۔۔۔
"ہم کہتے ہیں کیس لگائیں تو کیس سنے تو سہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اٹھارہ مہینے میڈیکل بنیاد پر اپیل نہ سنے جانا اور پھر کہنا اب مین اپیل پر بحث کرو اور پھر چھٹیاں ہوجاتی ہیں یہ پاکستان کی تاریخ کی انتہائی مایوس کن، سب سے زیادہ چیلنجنگ، آج تک نہ دیکھی نہ سنی، تاریخ کی بری ترین صورتحال ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملے گی"۔بیرسٹر سلمان صفدر
@BrSalmanSafdar
#PakistanUnderAsimLaw
بریکنگ نیوز 🚨صحافی سعید بلوچ کا بڑا تہلکہ خیز چونکہ دینے والا خوفناک انکشاف۔ جرنیلوں کا بڑا پلان، ساری سٹوری بتادی، عمران خان کے کورٹ مارشل کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں 🔥🔥
بظاہر عمران خان کے کورٹ مارشل کے لیے بندوبست کیا جا رہا ہے، اب تک کی اطلاعات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نومبر میں 28ویں ترمیم منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حامد میر صاحب کہتے ہیں آ��ف زرداری ایوانِ صدر خالی کرنے کو تیار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باوردی صدر کے راستے کی تقریباً تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔ اس بات کے بھی کچھ اشارے ہیں کہ جیسے ہی 28ویں ترمیم منظور ہوگی باوردی صدر کرسی پر براجمان ہوں گے تو عمران خان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کر دی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ 28ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے عمران خان کو فوج کی تحویل میں دے دیا جائے۔ نومبر سے فروری تک تین مہینے کا وقت ہے اور تین مہینوں میں کورٹ مارشل کی کاروائی بآسانی مکمل ہو جائے گی، حتیٰ کہ ایک سماعت میں ہی کاروائی مکمل ہو سکتی ہے۔ بظاہر حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایڈوانس فوج تعینات کر دی گئی ہے تاکہ عین وقت پر زیادہ شکوک وشبہات پیدا نہ ہوں۔ اس کا مطلب ہے آنے والے دنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے مقدمات کی میرٹ پر سماعت ہو سکتی ہے تاکہ ایک طرف پی ٹی آئی کو تھوڑا مطمئن کیا جائے اور پھر اچانک عمران خان کے خلاف کورٹ مارشل شروع کر کے ایک بڑا سرپرائز دیا جائے۔ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا کیونکہ اس وقت سے یہ پلان موجود تھا کہ جب ہم عمران خان کا کورٹ مارشل کریں گے تو اس کے پاس آرمی چیف کے علاوہ کسی دوسرے فورم پر اپیل کا حق ہی نہ ہو۔
غیر ملکی بلاگر اپنا علاج کروانے پمز ہسپتال پہنچا، مگر وہاں کی گندگی، ناقص صفائی اور بدترین انتظامات دیکھ کر اس کا دل ایسا خراب ہوا کہ بیماری ہی بھول گیا! 😳
وہ علاج کروائے بغیر ہسپتال سے واپس چلا گیا اور اپنے ویلاگ میں پمز کی حالتِ زار دنیا کو دکھا دی۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی ہسپتال کو سابق وزیراعظم عمران خان کے علاج کے لیے بہترین آپشن قرار دیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے: جس ہسپتال کے عام مریض بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں ملک کے سابق وزیراعظم کے علاج کے معیار کی کیا ضمانت ہے؟
علیمہ خانم ورکرز کی ڈیمانڈ پر نکلی تھی انتہائی شرمناک ہے ایسا ٹوئٹ کرنا کیا وقار خان عمران خان سے ملے کیا عمران خان علیمہ خان سے ملے کیا عمران خان کو باہر کے تمام حالات کا علم ہے۔۔!
ایسے ارسطو لوگوں سے دور رہیں اور انفالو کریں خان کے نام پر فالورز لے کر خان کی بہن کے خلاف ہی ٹوئیٹنا شروع کر دیا ۔۔
خان صاحب خوش تھے کہ مجھے شفاء لے کر جارہے ہیں۔۔۔
جب ہمیں خبر ملی کہ خان صاحب کو پمز سے واپس اڈیالہ لے گئے
تو یہ سوشل میڈیا پر بیٹھے کچھ لوگ کہنے لگے گئے
خان صاحب ڈٹ کر کھڑے ہیں۔۔
خدا کے بندوں وہ انسان ہیں
وہ 74 سال کے ہیں۔۔۔
ان کو جتنی تکلیف میں ڈالا ہے وہ تم جیسے جوان 10 دن بھی برداشت نا کرسکو۔۔۔
میں ایسی تمام سیاست پہ لعنت بھیجتا ہوں جس میں مجھے خان صاحب کو مائنس کرنا پڑے
خان صاحب نے کہا ہے یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔۔
خان صاحب سب کچھ داؤ پہ لگا کر آج قید تنہائی میں ہیں۔۔
8 فروری سے پہلے جب اطلاع آرہی تھی
کہ خان صاحب کی آنکھ میں تکلیف ہے
تب سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر گوہر علیعلی، سہیل آفریدی، علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ خان صاحب کی صحت بلکل ٹھیک ہے۔۔۔
اسی دن ان لوگوں نے خان صاحب کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پہ سائن کردیا تھا۔۔۔
سہیل آفریدی تمھیں خان نے سی ایم بنایا
اور تم ایک ملاقات نہیں کروا پایا۔۔۔
ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا
سوشل میڈیا خریدا
صحافیوں کو خریدا
کبھی عمران رہائی تحریک کا بولا
کبھی کنٹینر لے آئے۔۔۔
کبھی قلم توڑ احتجاج لے آئے
کبھی سٹریٹ موومنٹ کے نام پہ اس کی اسکی بول کر چپ کر گئے۔۔۔۔
اب تم کے پی سے باہر نہیں نکل رہے۔۔۔
کسی نے تو تمھیں منع کیا ہے پنچاب نہیں آنا۔۔۔۔
جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا۔؟ جنید اکبر کو تو کیا ہی بولیں۔۔۔
خان نے تمھیں ذمہ داری دی ہے۔۔
خان صاحب اغوا ہیں۔۔۔
خان صاحب نے تمھیں تحریک چلانی ذمہ داری دی تھی
پختونوں کے خون میں بے وفائی نہیں ہوتی
لیکن تمھارے ڈی این اے میں بے وفائی ہے۔۔
سلمان اکرم راجہ سے سوال کرو تو کہتے ہیں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے
تم ایک جنرل سیکرٹری ہو یا کلرک؟
تم سب نے مل کر خان کا سودا کیا ہے۔۔۔۔
تم سب نے خان کو بیچ دیا ہے
تم لوگ 26 نومبر کے قاتلوں کے ساتھ مل گئے ہو۔۔۔
خان صاحب نے کہا تھا مجھے ائسولیشن میں ڈالا جائے تو صوبے کو بند کرنا ہے
لیکن تم لوگوں نے کچھ نا کیا
5 اگست 2025 کو تحریک پیک پہ ہونی تھی
تم لوگوں نے اس سال بھی پیک پر نہیں لے کرگئے۔۔۔
تم لوگوں نے خان کا سودا کردیا ہے
خان کو کچھ ہوتا ہے
تو پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔۔۔
عمران خان کی بہنوں کے بیانات کے بعدانٹرنیشنل (بین الاقوامی) میڈیا میں ان کی صحت اور جیل میں سلامتی کے حوالے سے خدشات پر رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ ان خدشات نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی یاد تازہ کر دی ہے، جو 2019 میں دورانِ حراست عدالت میں انتقال کر گئے تھے۔
تاریخ کا سبق واضح ہے: سیاسی اختلاف جب انسانی جان اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے ٹکرا جائے تو اس کے نتائج صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری ریاست کے لیے ایک تاریخی داغ بن جاتے ہیں۔
آج سب سے اہم سوال یہی ہے کہ عمران خان کی زندگی، صحت اور طبی علاج کی مکمل ضمانت کون دے گا؟
بیرسٹر سلمان صفدر 🚨
قید تنہائی ختم کرنے کے بہت طریقے ہیں، پڑھنے کے لیے اخبار دے دیں، پڑھنے کے لیے کتابیں دے دیں، دیکھنے کے لیے ٹی وی دے دیں، سننے کے لیے ریڈیو دے دیں۔
یہ 74 سال کی عمر، ایک ایڈوانسڈ عمر ہوتی ہے لیکن عمران خان سے سارے حقوق چھین لئے گئے ہیں
یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اب بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ ورنہ اس نظام کا حصہ بن کر نئی آئینی ترامیم کروانے کی قیمت لینے کے بجائے استعفے دیں اور سڑکوں پر نکلیں
علیمہ خان عمران خان کی بہن ہیں اور ان مشکل ترین حالات میں انہوں نے اس بےحس فارم 47 حکومت کا ہر طرح کا غیر انسانی سلوک برداشت کیا۔
عمران خان کبھی بھی علیمہ خان کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔
علیمہ خان سے اصل تکلیف انہی کو ہے جو عمران خان سے نفرت کرتے ہیں۔
اگر خان نے علیمہ خان کو کسی بات پر سرزنش کرنی ہو��ی بھی تو اپنی باقی دونوں بہنوں کو کہتے، کسی صحافی یا PTI کے بزدل شخص کو نہ کہتے جو آ کر عوام کو یہ کہتا۔
Please use your common sense
سہیل آفریدی، جنید اکبر، سلمان اکرم راجہ سمیت تمام قیادت کو خان صا��ب نے بہت سخت پیغامات پہنچائے ہیں۔۔۔۔۔۔
خان صاحب قیادت پر غصہ تھے
خاص طور پر سہیل آفریدی پر بہت غصہ کیا ہے۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ خان صاحب کے اکاؤنٹ سے تعریفوں والی ٹویٹس یہ خود ہی کرواتے تھے
آپ لوگوں کو یہ نشان یاد ہے
محمد مرسی کیلئے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے ۔ لیکن مصری فوج نے ان پر ٹینک چڑھادئے ۔ سنائپرز سے نشانے لگا کر سروں پر گولیاں ماری گئیں ۔ سکیورٹی فورسز نے اونچی عمارتوں کی چھتوں سے مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ۔
یہ واقعہ 14 اگست 2013ء کو پیش آیا ۔ جب لاکھوں م��ری محمد مرسی کیلئے دھرنا دے رہے تھے ۔ یہ دھرنا قاہرہ میں رابعہ العدویہ مسجد کے باہر ہورہا تھا ۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور فوج نے بلڈوزروں، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحے کا استعمال کرکے دھرنے کے شرکاء پر دھاوا بول دیا۔
مصری فوج باقاعدہ ��نگی گاڑیاں لے آئی ۔کیمپوں کو آگ لگا دی گئی، مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس خونریز کارروائی میں ایک ہی دن میں سینکڑوں (تقریباً 5 ہزار سے زائد ) مظاہرین جاں بحق ہوئے، جسے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں جدید تاریخ کا بدترین قتلِ عام قرار دیتی ہیں۔
اس کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد موقع پر جاں بحق ہو ئے ۔ مجموعی طور پر ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے اور ہزاروں آج بھی جیلوں میں ہیں ۔
اطلاع ملی ہے کہ عاصم منیر نے 25 اکتوبر 2025 کو مصر کے ڈکٹیٹر عبدل فتاح سیسی سے قاہرہ میں ملاقات کی اور وہ chemical subtance لے کر آیا تھا جو سیسی نے سابق مصری صدر محمد مرسی کو جیل میں دیا اور تھا اور مرسی کو ہارٹ اٹیک ہوگیا تھا جس سے عدالتی پییشی کے دوران ان کی موت واقعہ ہوگئی۔
عمران خان کی صحت اکتوبر میں خراب ہونا شروع ہوئی تھی۔ خون میں clots بننا شروع ہوگئے جن سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے یا برین ہیمرج ہوتا ہے۔ عمران خان کی آنکھ پر حملہ ہوگیا اور نظر ضائع ہوگئی۔
اکتوبر کے مہینے میں ہی عاصم منیر نے عم��ان خان کو مکمل isolation میں ڈال دیا تا کہ کوئی میڈیکل چیک اپ نہ ہو سکے۔ تب سے عمران خان مکمل تنہائی میں ہے۔
@soldierspeaks @RealWaqarMaliks
@RodiumInsights
آپ کو صوبہ بند کرنا ہے یا وزارتیں بانٹیں ہیں ؟
@SohailAfridiISF
اور صوبہ کب بند کرنا ہے؟ صرف ہنگو میں 'movement' کرنے سے کیا ہو گا؟
میرا خیال ہے کہ آپ سے kpk کے غیور عوام سوال ضرور کریں گے.
مجھے ابھی تک یقین نہیں آتا کہ آپ نے خان کو اکیلا چھوڑ دیا ہے. آپ کیسےبرداشت کر رہے ہیں کہ ان پہ اتنا ٹارچر ہو رہا ہے اور اس کا آپ سب کو مہینوں سے پتہ ہے.
#ImranKhanHealthEmergency
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
ضروری تو نہیں کے 27 ستمبر کو ہی مارچ ہو
موجودہ حالات کے مطابق اسی اگست میں نکلنا چاہیے
اتنی کوتائیاں کیوں
خدا کی قسم بعد میں پچھتاوگے
پر پھر پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا
ہاں البتہ نقصان ہوگا بہت زیادہ ہوگا ناقابل تلافی ہوگا
پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہو کر
احتجاج کیلئے مولانا ٹائپ لوگوں کے پاس جانے کی دلیل صرف یہ ہے کہ
یہ لوگ یا تو احتجاج کرنا نہیں چاہتے
یا کتنا کرنا ہے یہ اسٹیبلشمنٹ سے پوچھ کر کرنا چاہتے ہیں
یہ عمران خان کے دشمن اور ان کے خلاف سازش کے سہولت کار نہیں بلکہ شریک ہیں
منگی ڈیم پر حملہ ہوا تو پولیس اہلکاروں کے پاس گولیاں ختم ہو گئیں تھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن ان کی مدد کو کوئی نہ گیا لیکن پی ٹی آئی پریس کانفرنس کرے تو بھاری نفری پہنچ جاتی ہے