Sei dabei beim 2. Ahmadiyya Charity Walk Würzburg, organisiert von @ansarullahDe, der Herrenorganisation der @AhmadiyyaDE – am Sonntag, den 20. September 2026, in Würzburg.
Anmeldung unter:
https://t.co/MkcfMTpqqN
Jetzt anmelden und mitlaufen!
#AhmadiyyaCharityWalk#würzburg
Im Rathaus in Neufahrn bei Freising fand die Pressekonferenz für den 11. Ahmadiyya Charity Walk statt. Ein herzlicher Dank gilt allen Pressevertretern für ihr Kommen und ihr Interesse. Besonders erfreulich war die Teilnahme des Bürgermeisters der Gemeinde Herrn Franz Heilmeier.
Every year these unlawful actions by authorities to deprive patriotic, peace-loving Pakistani Ahmadis of their rights, merely to appease extremist groups, is unacceptable. When will this cycle of deprivation end? The govt must take immediate action to stop this unlawful practice
It is a blatant violation of Ahmadis religious freedom. There is no legal basis for forcing Ahmadis to submit such writings. These acts are not just discriminatory they are unconstitutional and inhumane. Why are Ahmadis are being punished for peacefully practicing their faith?
Ahmadis are being forced to sign different statements in various districts across Punjab and in some parts of Sindh. Punjab government officials are issuing threats and harassing individual Ahmadis while issuing conflicting statements on the matter.
As Eid-ul-Adha approaches, Ahmadis in Pakistan are being harassed, detained, and pressured by police to sign illegal affidavits stating that they would not perform qurbani even within their own homes.
@homedptpunjab@OfficialDPRPP@MaryamNSharif@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
The Police not only ignored the Court’s ruling but also vandalised the property. In this month 4 Ahmadiyya worship places have been desecrated by the authorities. The Police must stop appeasing the extremists & should safeguard Ahmadis' religious freedom & ensure their safety.
Religious extremists pressurised the police to demolish these minarets despite Lahore High Court's Order by Hon'ble Jutice Tariq Saleem Shiekh that Ahmadiyya places of worship built before 1984 can neither be razed nor altered.
Following the above event, another incident occurred in Gujranwala where @OfficialDPRPP desecrated Ahmadiyya worship place, built in 1953, in Gakhhar Mandi by demolishing its minarets & vandalised the property.
@CMShehbaz@MaryamNSharif@MohsinnaqviC42
Two Ahmadiyya worship places desecrated. On October 11 at around 02:15 am @OfficialDPRPP from Ahmednagar Chatha PS desecrated the worship place by demolishing its minarets in Mohlanke Chatha, Gujrawala. It was built in 1954 thus making this action in violation of the LHC’s order
Today in a targeted attack, an Ahmadi, Mr. Zaka ur Rehman of age 53 years was shot dead in his clinic in Lala Musa, Gujrat. He was a practicing dentist. This is the 4th faith based Ahmadiyya killing this year.
@OfficialDPRPP@MaryamNSharif@CMShehbaz
Karachi Police “arresting” Qurbani Meet from an #Ahmadi home under the “protection” of TLP Gooms to make their Eid ul Asha more Islamic #Unislamic Republic of Pakistan
🔴افسوسناک واقعہ!
کوٹلی شہر (آزاد کشمیر) میں جماعت احمدیہ کی مسجد پر حملہ، فائرنگ کی اطلاعات۔ مینار اور محراب کو شہید کر دیا گیا
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مورخہ ۱۶ اور ۱۷ جون ۲۰۲۴ کی درمیانی شب قریبا پونے تین بجے آزاد کشمیر کے معروف شہر کوٹلی میں قائم جماعت احمدیہ کی مسجد پر چالیس سے پچاس افراد پر مبنی ایک ہجوم نے حملہ کر دیا۔ اس افسوس ناک واقعے میں پُرتشدّد ہجوم نے فائرنگ کی اور مسجد کے محراب اور مینار کو شہید کر دیا۔
یاد رہے کہ جماعت احمدیہ کو آج سے قریبا نصف صدی قبل پاکستان میں “ناٹ مسلم” قرار دیا گیا تھا۔ جبکہ قانون میں کی جانے والی اس قابل مذمت ترمیم کے دس سال بعد بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے صدارتی آرڈیننس نمبر بیس بعنوان “امتناع قادیانیت آرڈیننس” متعارف کروایا جس کے مطابق احمدی مسلمان اپنے آپ کو مسلمان ظاہر بھی نہیں کر سکتے۔
جماعت احمدیہ خلافتِ احمدیہ کے بابرکت سائے میں اسلامی تعلیمات پر کاربند ایک پُرامن جماعت ہے جس کا وطیرہ ایسے پُرتشدّد واقعات کے جواب میں قانون کے دامن کو تھامے رکھنا، ہر حالت میں پُر امن رہنا اور ہر حالت میں اپنے خالق و مالک کی طرف رجوع کرتے ہوئے معاملات اُسی پر چھوڑ دینا ہے۔
جمعۃ المبارک مورخہ ۱۴/ جون ۲۰۲۴ کو امام جماعت احمدیہ عالم گیر حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پاکستان میں احمدی مسلمانوں کے خلاف چلنے والی تشدّد کی حالیہ لہر کے پیش نظر دُعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
مَیں پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی خاص طور پر دعا کے لیے کہنا چاہتا ہوں۔ ان پر آج کل پھر سختیاں وارد کی جارہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلد پاکستانی احمدیوں کو بھی ان ظالموں سے نجات دلائے۔ اور وہاں بھی ہمارے حالات بہتر ہوں۔ (آمین) ذرا ذرا سی بات پر مقدمے اور تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ چند روز سے پاکستان میں احمدیوں کے خلاف ہونے والے پُرتشدّد واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اور محب وطن پاکستانی احمدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عبادات سے روکا جا رہا ہے۔
پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں تقریباً ہر ضلع میں احمدیوں کو شرپسند عناصر کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اہلکاراحمدیوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ عید سے ایک روز قبل پنجاب میں پولیس نے مزید سات احمدیوں کو بکروں سمیت حراست میں لے لیا۔ انتظامیہ کی جانب سے احمدیوں کو چار دیواری میں بھی قپنےطمذہبی شعائر پر عمل کرنے کی اجازت نہ دے کر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
جماعت احمدیہ کے مرکزی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر احمدیوں کو قربانی کرنے سے زبردستی روکنے،احمدیوں کو ہراساں کرنے اور سرکاری انتظامیہ کی جانب سے ماورائے قانون اقدامات قابل افسوس اور شرمنا ک ہیں۔ سرکاری انتظامیہ کی جانب سے بلاجواز احمدیوں کی نظر بندی، زبردستی شورٹی بانڈز لینے اور قربانی کرنے سے روکنے کے اقدامات آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 اور جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ کے12 جنوری 2022 کو دیے گئے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ سپریم کورٹ نے Cr1.P.916-L/2021میں قرار دیا تھا کہ احمدی اپنی چار دیواری کے اندر اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی رکھتے ہیں۔ تاہم اس سا ل احمدیوں کو قربانی کرنے سے روکنے کے واقعات میں گذشتہ سال کی نسبت زیادہ شدت محسوس کی گئی۔
16 جون کومزید سات احمدیوں کو بکروں سمیت پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ندیم آباد ڈسکہ سیالکوٹ میں ایک احمدی اور کھوکھرکی ضلع گوجرانوالہ میں ایک احمدی، نیز تھانہ موترہ ضلع سیالکوٹ میں پانچ احمدیوں کو بکروں سمیت پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس کے یہ اقدامات سراسر غیر قانونی ہیں ۔ ریلوے کالونی لاہور میں پولیس ایک احمدی کے گھرمیں زبردستی داخل ہوئی اور ان کے اہل خانہ کو روایتی انداز میں ہراساں کیا۔ لودھی ننگل فیصل آباد میں پولیس ایک احمدی کے گھر زبردستی داخل ہوئی اور بکرے سمیت اسے حراست میں لے کرپولیس چوکی لے گئی اور وہاں اس احمدی کو مجبور کیا گیا کہ وہ 50 ہزا کا بکرا 25 ہزار میں انتہاپسندوں کو فروخت کرے۔اس میں سے بھی 6000پولیس اہلکاروں نے خود رکھ لیے۔ گوجرانوالہ میں ایک احمدی کے گھر میں دو ماہ کا بکرا تھا جو انہوں نے پالنے کی غرض سے رکھا تھا اس احمدی کو بکرے سمیت پولیس نے حرادت میں لے لیا۔قبل ازیں چکوال میں ڈپٹی کمشنر نے بلا جواز تین احمدیوں کے ایک ماہ کے لیے نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ گذشتہ روزسیالکوٹ میں ایک احمدی کو سات یوم کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر قائدآبا نے گذشتہ سال ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے خط کی بنیاد پر اس سال احمدیوں کے قربانی کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔نیزآزاد کشمیر میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ میر پور کی جانب سے سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ عید کے تین روز احمدی کسی قسم کا ذبیحہ یا قربانی وغیر ہ نہیں کریں گے۔اسی طرح کا حکم نامہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کوٹلی کی جانب سے بھی جاری کیا گیا ہے جس میں یہ بھی درج ہے کہ احمدیوں پر عید الاضحیٰ کے دوران جانوروں کی قربانی / ذبح اور گوشت تقسیم کرنے پر پابندی ہے۔
انتہا پسندوں کے دباؤ پر پنجاب پولیس عید قربان کے موقع پر احمدیوں کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور محب وطن اور پر امن احمدیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ نہ تو نماز عید ادا کریں اور نہ ہی چاردیوار ی کے اندر قربانی کا فریضہ ادا کریں۔مختلف اضلاع میں احمدیوں کو تھانوں میں بلا کر دھمکایا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے چار دیواری کے اندر بھی قربانی کی تو تحریک لبیک کے شر پسند عناصر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔لہذا احمدی اپنی سلامتی کی خاطر نماز اور قربانی کا فرض ادا نہ کریں۔
عید قربان کے موقع پر احمدیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے امکان پر مبنی ایک تھریت الرٹ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری ہونے کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے۔ قانون کے مطابق احمدی اپنی چاردیواری میں مذہب پر عمل کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کرے۔ اس وقت پاکستان بھر میں احمدی عید کے پرمسرت موقع پر عدم تحفظ محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اپنی جان ومال کے تحفظ کے حوالہ سے سنگین خدشات ہیں۔کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کی بجائے مذہبی انتہا پسندوں کی خوشنودی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ترجمان جماعت احمدیہ عامر محمود نے کہا ہے کہ مذہب کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے انتہا پسند عناصر اور ان کی پشت پناہ پولیس کی جانب سے احمدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا موجب بن رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شرارت کرنے والی متعصبانہ سوچ کو مسترد کیا جائے ۔ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حراست میں لئے گئے احمدیوں کو فوری رہا کیا جائے اور احمدیوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
https://t.co/qYYjhqiKJq
محب وطن پاکستانی احمدیوں کو عبادات سے روکنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں تقریباً ہر ضلع میں احمدیوں کو شرپسند عناصر کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اہلکاراحمدیوں کو ہراساں کر رہے ہیں ۔
اس حوالے سے جاری کی گئی پریس ریلیز
Ahmadis continue to be facing the never-ending persecution the latest act is the desecration of the Minarets of the Ahmadiyya Worship Place at Jahman, Lahore. The act was carried out by 10/12 Policemen in Uniform & 4 persons in Civil Dress at around 1 o clock at night on 12/6/24.
Die Majlis Ansarullah Neu Isenburg hat vorgestern und Majlis Ansarullah Dreieich hat gestern Essen an Bedürftige verteilt.
#AhmadiyyaLangr#AhmadiyyaFoodtruck
Another innocent Ahmadi succumbs to the extremism as today the Local President of the Ahmadiyya Community Tahir Iqbal of Chak 84 Hasilpur, Bahawlpur was shot twice and he died on the spot. He had no issues with anyone and was on his normal morning walk when all of this occurred.