“They’re trying to disappear him from public life because they know he’s the most popular leader in the country.” Sulaiman Khan and @Kasim_Khan_1999, sons of illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan, speak in their latest interview with @NosheenIqbal of The @guardian.
#FreeImranKhan
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
”کہتے ہیں کہ ہم گورنر راج لگائیں گے۔ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے اور عوامی مینڈیٹ کو روندنے کی کوشش کی گئی تو ہم لانگ مارچ کا قافلہ لے کر پشاور کا رخ کریں گے۔“
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، مردان میں لانگ مارچ سے خطاب
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
پی ٹی آئی کارکنان کو کوئی نکالتا نہیں وہ خود نکل آتے ہیں۔ آپ کی غلط فہمی ہے کہ قیادت کے بغیر یہ نہیں نکلیں گے، لیکن قیادت کے بغیر نکلنے سے پھر ان کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
"اس بار میں سب سے آگے ہوں گا،ہم نے ان کو اتنا ڈرایا ہوا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے،کارکنان میں نیا جوش و ولولہاب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،یہ للکار اسلام آباد تک سنائی دے گی"۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا ناگمان چوک چارسدہ میں پشتو خطاب!۔
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.
۱۱ اکتوبر کو پورے پاکستان سے لوگ صوابی انٹرچینج پر آئینگے۔ پورے پاکستان سے پارلیمینٹیرینز اور تنظیمی عہدیدار ورکرز کو صوابی انٹرچینج تک پہنچائے۔ کل سے کسی بھی طریقے سے اُن کا پہنچنا شروع کریں۔ تمام پاکستانی بھی اُسی دن پہنچے۔
۱۳ اکتوبر کو خیبرپختونخواہ کا پشاور ریجن، ملاکنڈ ریجن اور کوہاٹ ڈویژن بشمول کرک صوابی انٹرچینج پر پہنچے گا۔ تمام پارلیمینٹیرینز اور تنظیم کو میں نے ہدایت دے دی ہے کہ وہ ورکرز کو صوابی انٹرچینج پر پہنچائے۔
ہزارہ ریجن، بنوں ڈویژن اور ڈی آئی خان ڈویژن ۱۴ اکتوبر کو وہاں آئینگے جہاں ہم صوابی انٹرچینج سے آگے کا لائحۂ عمل دیں گے۔
انشاءاللہ ۱۴ اکتوبر کو ہم صوابی سے آگے پیش قدمی کریں گے۔
جو لوگ اس تحریک میں باقاعدہ شامل ہیں وہ ساری عمر فخر سے کہہ سکیں گے کہ "ہم کھڑے تھے"ـ
جو نہیں نکلیں گے وہ کبھی "سسٹم ہی خراب ہے" کہہ نہیں سکیں گے، کیونکہ وہ خود جس سسٹم سے نفرت کرتے ہیں، اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے نکلے نہیں تھےـ
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں گورنر کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر اجلاس منعقد کرنے کو غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی راستہ صرف عدم اعتماد ہے۔ حکومت اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لے گی اور کسی غیر آئینی اقدام یا جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی سکیورٹی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 22 سال میں ہزاروں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز، 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 80 ہزار جانوں کی قربانیوں کے باوجود امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے موجودہ پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو صوبائی حکومت 100 دن میں امن قائم کرکے دکھا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ وفاق کی پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے قبائلی عوام کے مالی حقوق اور معاوضے اب بھی مکمل ادا نہیں ہوئے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع کے مالی انضمام، این ایف سی شیئر اور صوبے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کر چکی ہے۔
انہوں نے صوبائی وزیر اور کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کو حکومت کو اشتعال دلانے کی کوشش قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہماری حکومت پرامن رہے گی اور صرف آئین و قانون کے دائرے میں کام کرے گی۔ انہوں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کرنے کی ہدایت کی اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا
میں سوشل میڈیاکےاپنےتمام جنگجوؤں کاشکریہ اداکرتاہوں جنہوں نےحکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کیخلاف ہماری جنگ کو دلیری سےسماجی میڈیاکےتمام پلیٹ فارمز تک توسیع دی۔🇵🇰کی خودمختاری وجمہوریت کی ہماری اس تحریک کوآگےبڑھاتےرہئے۔آپ ہمارےصفِ اوّل کے سپاہی ہیں!
#MarchAgainstImportedGovt
Supporters of Pakistan’s former prime minister Imran Khan are continuing their long march toward Islamabad, with the PTI convoy led by Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi moving through the Peshawar region.
The protesters are demanding Imran Khan’s release from prison. PTI plans to gather its convoys at Khairabad on October 8, where the party leadership is expected to announce the next phase of the march.
#ImranKhan #PTI #Islamabad #LongMarch
یہ جھلکیاں صرف کل کے دن کی ہیں، جن سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہر شہر ہر علاقے سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ لانگ مارچ اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہےـ
#سر_بکف_میدان_میں#جاگ_اٹھا_وطن_خان_کیلیے