مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے ۔
امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے۔امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ پر حملے کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔سعودی عرب پر حملے نے امریکہ اور مغربی دنیا کے دوغلے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ۔
اسلامی تاریخ کے لازوال ہیرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!
سعودی عرب کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کی سلامتی پر حملہ ہے،سعودی عرب پر حوثی دہشتگردوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہے،مسلم ممالک متحد ہوکر اسلامی بلاک بنائیں جس پر مؤثر سیاسی،معاشی اور دفاعی حکمت عملی بنائیں،موجودہ حالات میں مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر ہے۔
پاکستان کو مسلم دنیا کے اتحاد اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔
میرے آقا علیہ السلام کی ختم نبوت ھمارا ایمان اور اسلام کی روح ھے، پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اس مملکت کا وجود اور اسلام کی روح ختم نبوت لازم وملزوم ھیں جو اس کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
جیو نیوز کی جانب سے محرم الحرام ٹرانسمیشن میں رسولِ اکرم ﷺ کے خاکے نشر کیے جانے کی خبر نے پوری اُمتِ مسلمہ کے دل زخمی کر دیے ہیں۔
یہ عمل کروڑوں مسلمانوں کے جذبات، ایمان اور محبتِ رسول ﷺ پر کھلا حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یا اللہ! ہمارے ملکِ پاکستان کو ایسے فتنوں سے محفوظ فرما اور ہمیں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی توفیق عطا فرما۔
آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟
اس بچے کا نام محمد یوسف اور والد کا نام محمد رفیق ہے۔
انکی رہائش بہاولپور میں ہے۔
لاہور کے علاقے راج گڑھ کے ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ 6 اپریل 2026 کو کام سے چھٹی کرکے گھر کی طرف جارہا تھا اس دوران لاپتہ ہوچکا ہے۔عمر 14 سال ہے۔
گھر والے بہت زیادہ پریشان ہیں۔بچے کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
برائے مہربانی پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں بچہ کہیں بھی موجود ہو نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں
03162529829
12 may 2026
#waliullahmaroof
اپنا بچہ سمجھ کر ایک بار ضرور شئیر کریں۔۔۔!!
یہ معصوم بچہ نومبر 2025 میں فیصل آباد کے ڈی ٹائپ پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔
یہ صرف اپنا نام “موسیٰ” بتاتا ہے، اس کے علاوہ اسے اپنے والدین، گھر، خاندان یا پتے کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔
نہ ماں کا نام معلوم ہے، نہ باپ کا… نہ یہ جانتا ہے کہ اسکا گھر کہاں ہے۔
آج یہ بچہ ایک ادارے کی تحویل میں ہے، اسکی آنکھیں آج بھی اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتی ہیں۔
ماں دن رات اپنے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی ہوگی…
خدارا… اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
ہوسکتا ہے آپ کا ایک شئیر موسیٰ کو اسکے گھر والوں تک پہنچا دے اور ایک بچھڑا ہوا لخت جگر خاندان کو دوبارہ مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کی صورت میں نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں
03162529829
7 May 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #MissingChild
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
عوامی مطالبہ
بے نظیر بھٹو دور کے لگائے گئے تمام آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹس ختم کرو۔ ان کو دی گئی توسیعات، کم قیمت ایندھن کی سہولتیں ختم کرو۔ حکومت جتنی بجلی خریدے، اتنی رقم ادا کرے۔ کیپیسٹی چارجز ختم کرو۔ مشکل وقت ہے، صرف قوم ہی کیوں قربانی دے، یہ بھی قربانی دیں۔ کئی گنا زیادہ منافع کما چکے ہیں۔
آواز اٹھائیں اگر آپ متفق ہیں تو
مستشار عمران خان ، شهباز غل من أمريكا يهاجم السعودية و باكستان ، مرت العلاقات بين البلدين أثناء حكم عمران خان بفترة جمود بسبب سياساته الخاطئة
#Pakistán#Saudi
ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ھے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ھیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ھے ھم بار بار اس کی نشاندھی کررھے ھیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاھرہ کرنا ھوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ھوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ھم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ھوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ھوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ھیں
ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی وقت کی سب سے بڑی اور اھم خبر ہے وزیراعظم شہباز شریف انکے نائب اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس انتہائی نازک موقع پر جو سفارتی کوششیں کیں وہ نہایت قابل مبارکباد اور ملک کے لئے فخرو اعزاز کی بات ھیں آخری دن ایران کا سعودی عرب پر حملہ بلاجواز تھا لیکن سعودی عرب نے اس پورے عرصے میں جس تحمل کا مظاھرہ کیا وہ اسکے ایثار کی دلیل ہے جسکے بغیر جنگ بندی ممکن نہ ھوتی
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
پاکستانی حکمرانوں کے عوام پر پٹرول بموں کے حملے افسوسناک ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
حکمران اپنی عوام کو بھوک اور پیاس سے مروانا چاہتے ہیں ۔اسلم غوری
خطے کے کسی بھی ملک میں پیٹرول کی قیمتیں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔ترجمان جےیوآئی
آئی ایم ایف کے دبائو پر حکمران گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔اسلم غوری
پاکستانی عوام کو مودی ،ٹرمپ اور نیتن یاہو سے زیادہ اپنے حکمرانوں سے خوف ہے ۔ترجمان جےیوآئی
جنگ سے متاثرہ ایران سے زیادہ مہنگائی کا ظلم رات کے اندھیرے میں پاکستانی عوام پر کیا گیا ۔ترجمان جے یوآئی
حکومت کی ناقص پالیسیوں نے پاکستانی عوام پر جنگ مسلط کر دی ہے ۔اسلم غوری
وزیروں مشیروں کا لاؤ لشکر کم کر کے عوام پر بوجھ کم کیا جائے ۔ترجمان جےیوآئی
حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے اپنا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے ۔اسلم غوری
حکمران اپنے ہی عوام کی جان کے درپے ہوچکے ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان