جب ہم کہتے ہیں کہ یہ نام نہاد ایکشن کمیٹی را کی فنڈڈ اور بھارتی ایجنڈے پر چلنے والی کٹھ پتلی ہے، تو کچھ لوگوں کو بڑی مرچیں لگتی ہیں۔
ہم فیس بک پر پاکستان کے حق میں، الحاقِ پاکستان اور اپنی غیور پاک فوج کے حق میں مسلسل لکھ رہے ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے اس کالعدم کمیٹی کا اصل، گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر رہے ہیں۔ سچائی سامنے آنے پر تکلیف تو یہاں موجود اِن کے کارندوں اور تنخواہ دار کٹھ پتلیوں کو ہونی چاہیے تھی، لیکن چیخیں سرحد پار بھارت سے نکل رہی ہیں
یہی ثبوت ہے کہ ہماری تحریریں سیدھی نشانے پر لگی ہیں۔ اب ہماری پوسٹوں پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور سچ کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سن لو! جتنی مرضی پابندیاں لگا لو، الحاقِ پاکستان کا یہ سفر اور پاک فوج سے محبت کا یہ رشتہ رکنے والا نہیں۔ کشمیر پاکستان کا تھا، ہے اور رہے گا
کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ 🇵🇰
#الحاق_پاکستان #پاک_فوج_زندہ_باد #کشمیر_پاکستان_کی_شاہرگ
مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ سندھ کی تنظیم نو پر
اہم مشاورتی اجلاس، عقیل نجم ہاشمی اور بشیر میمن کی ملاقات
مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی نے صدر مسلم لیگ (ن) سندھ بشیر میمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی،
جس میں تنظیمی امور اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں یوتھ ونگ کی تنظیم تحلیل ہونے کے بعد نئی تنظیم سازی، کارکنوں کو متحرک کرنے اور سندھ میں پارٹی کو مزید منظم و فعال بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر حاجی مظفر شجرا، چوہدری سہیل، راجا انصاری، ہمایوں خان مغیری، حسنین عباسی اور رزاق شجرا سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یوتھ ونگ کو مزید فعال اور منظم بنا کر نوجوانوں کو پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں مؤثر کردار دیا جائے گا اور سندھ بھر میں پارٹی کو مضبوط کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر رہبر شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے تہران پہنچ گئے
ایران کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا۔
بات تو آٹے، دال، چینی اور سستی بجلی روڈز سکول ہسپتال کی تھی، یعنی بنیادی عوامی حقوق کی! چند تاجروں نے اسی ریلیف کے لیے ایک تحریک شروع کی تھی، لیکن اس جائز عوامی غصے کے پیچھے کون سا مکروہ کھیل کھیلا گیا، وہ اب دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔جب کالعدم ایکشن کمیٹی کا نام نہاد رہنما امان ادریس اسٹیج پر کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ پاکستان نے دیا، یہ تو انڈین کلیم ہے جو انڈیا دہائیوں سے اقوامِ متحدہ میں کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی مقامی تحریکِ آزادی نہیں، بلکہ پاکستان وہاں مسلح لوگ بھیجتا ہے۔ زبان امان ادریس کی ہے، لیکن الفاظ اور اسکرپٹ سو فیصد دلی اور مودی سرکار کا ہے،
انڈیا اب یقیناً اس مقامی کشمیری رہنما کے بیان کو عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف بطور ثبوت استعمال کرے گا، جس سے کشمیر کاز کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اصل سوال تو یہ ہے، بجلی دنیا میں سب سے زیادہ آزاد کشمیر میں ہے ،دنیا کا سستا ترین اٹا کشمیریوں کو مل رہا ہے تو کیا بھاڑ میں جائے پاکستان ، پاک فوج کشمیر سے نکل جائے جیسے گھٹیا نعرے کس کا ایجنڈا ہے ؟ پاک فوج کے نکلنے سے عوام کو ریلیف ملے گا یا انڈیا کے غاصبانہ قبضے کی راہ ہموار ہوگی؟یہ تحریکِ آزادیِ کشمیر پر اب تک کا سب سے بڑا اور خطرناک ترین حملہ ہے، جسے ایک غیرت سے عاری شخص کشمیری بن کر سرانجام دے رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیرت مند مجاہدین نے بھارتی مظالم کے خلاف خود ہتھیار اٹھائے تھے۔ برہان وانی جیسے کڑیل جوان اپنی عزت و ناموس اور آزادی کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت ظالم بھارتی افواج سے لڑے اور جانیں قربان کیں۔آج یہ کالعدم ایکشن کمیٹی ان ہزاروں شہداء کے خون کا سودا کر رہی ہے۔ انڈیا سے لڑنے والے کشمیری نوجوانوں کو پاکستان کا ایجنٹ کہہ کر تحریکِ آزادی کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ یہ آٹے دال کی تحریک نہیں، بلکہ حقوق کی آڑ میں پاکستان دشمنی اور بھارتی موقف کی بالواسطہ تائید ہے۔ عوام کو اب اس منافقت کو پہچاننا ہوگا!
#کشمیر_پاکستان_کی_شاہرگ #کشمیر_کاز
#asimmunir
#پاک_فوج_زندہ_باد
سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے واضح کیا ہے کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو درپیش مسائل، امن و امان کی صورتحال اور معاشی مشکلات سے حکومت پوری طرح آگاہ ہے۔ انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کے مطابق ان علاقوں کو ٹیکس سے استثنا دینا ضروری تھا تاکہ ترقی، روزگار اور استحکام کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے عوام کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ٹیکس کے نفاذ کو مؤخر کیا گیا اور اس رعایت میں مزید توسیع بھی دی گئی تاکہ عوام اور صنعتکاروں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
انجینئر امیر مقام نے بتایا کہ وہ مسلسل وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور علاقے کے منتخب نمائندوں، جرگوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ کوشش جاری ہے کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس کے نفاذ میں مزید توسیع دی جائے۔
ہم سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے حقوق، ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) وعدوں پر یقین رکھتی ہے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
#AmirMaqam #PATA #MergedDistricts #PMLN #KhyberPakhtunkhwa
الحمدللہ رب العالمین! آج جب سویٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن سربراہی اجلاس (Lake Lucerne Summit) کے موقع پر امریکہ اور ایران کے مابین انتہائی اہم مذاکرات اور جنگ بندی کے تاریخی عمل میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم دیکھا ، تو سر فخر سے بلند ہو گیا۔ یہ پرچم 25 کروڑ پاکستانیوں کی عزت، قومی خود مختاری، پائیدار امن اور وقار کی درخشاں علامت ہے اور اسی مخلصانہ و کامیاب سفارت کاری کو کہتے ہیں سبز پاسپورٹ کی اصل تکریم اور حقیقی پہچان۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو عالمی منظر نامے پر گوناگوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا تھا، لیکن آج حالات یکسر بدل چکے ہیں اور پاکستان نے اپنی متوازن سفارت کاری، مدبرانہ خارجہ پالیسی اور امنِ عالم کے لیے مسلسل کوششوں کی بدولت دنیا میں ایک معتبر اور باوقار مقام حاصل کر لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی دوراندیش قیادت میں آج ملک کی سفارتی تاریخ کا ایک نیا اور سنہری باب رقم ہو رہا ہے، جس کی بدولت پاکستان اب بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اور مفکرِ اسلام علامہ اقبال کے خوابوں کی سچی تعبیر بننے کی راہ پر گامزن ہے،ایک ایسا پاکستان جو حقیقی معنوں میں آزاد، خود مختار، اور عالمی برادری میں بلند سر اٹھا کر جینے والا ہو۔عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کا یہ کردار پہلے سے کہیں زیادہ کلیدی اور مؤثر ہو کر ابھرا ہے، جس کا اعتراف آج پوری عالمی برادری کھل کر رہی ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ طاقت کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور پرامن تصفیوں کی وکالت کی ہے۔ جھیل لوسرن کانفرنس کے عالمی اسٹیج سے پاکستان کا پیغام بالکل واضح اور دوٹوک تھا کہ ہم جنگ نہیں، بلکہ امن کے سفیر اور نقیب ہیں، ہماری عزم و ہمت غیر متزلزل ہے اور ہم عالمی ہم آہنگی، پائیدار امن اور مشترکہ ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ عالمی سیاست کے بڑے اور بااثر ممالک کے پرچموں کے ساتھ سبز ہلالی پرچم کا اس طرح نمایاں ہونا اس امر کی بین دلیل ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک اہم علاقائی قوت ہے، بلکہ عالمی امن کے لیے ایک ناگزیر ستون اور انتہائی قابلِ اعتماد شراکت دار بن چکا ہے جو عزت، وقار اور بلند عزم کے ساتھ عالمی برادری کو ایک پرامن اور بہتر مستقبل کی راہ دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ آج کے دن ہر پاکستانی کو اپنے وطن، اپنی غیور مسلح افواج، اپنی قیادت اور اس سبز ہلالی پرچم پر ناز ہونا چاہیے، اور انشاء اللہ یہ مملکتِ خداداد یونہی مستقل ترقی، پائیدار استحکام اور اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی کی جانب بڑھتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو مزید ترقی، لازوال استحکام اور عزتِ مآب مقام عطا فرمائے، اور ہمارے اس پرچم کو ہمیشہ افقِ عالم پر سربلند رکھے، پاکستان زندہ باد، پاک افواج پائندہ باد
#PakistanForPeace
آزاد کشمیر میں انتخابی بگل بجتے ہی حقوق کے نام پر دکان چمکانے والے انتشاری ٹولے کا بھیانک اور مکار چہرہ ایک بار پھر پوری قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ یہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے آخر عین الیکشن سے پہلے مارچ کیوں کرنا چاہتے ہیں اور انتخابات کو کیوں ملتوی کروانا چاہتے ہیں، اس کا جواب بالکل صاف ہے کیونکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ الیکشن میں آزاد کشمیر کے غیور عوام ان کو پانچ سو ووٹ بھی نہیں دیں گے۔ سوشل میڈیا کی جھوٹی چمک دمک اور فیک لائکس دیکھ کر جو جعلی مقبولیت انہوں نے کھڑی کی تھی، وہ انتخابی شیڈول آتے ہی ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے اور یہ بزدل اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ووٹ کی پرچی ان کی اوقات سیکنڈوں میں واضح کر دے گی، اسی لیے یہ جلدی جلدی میں نیا رولا ڈال کر اور 9 جون کے احتجاج کا ڈرامہ رچا کر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کشمیر کے دشمن ہیں اور یہاں کے امن اور معیشت کے قاتل ہیں جن کی منافقت کی انتہا یہ ہے کہ جو لوگ پہلے کہتے تھے کہ سیاحت ہماری معیشت کی لائف لائن ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے تھے کہ سیاحوں کو سہولیات اور تحفظ دیا جائے، آج ان کا اصلی چہرہ دیکھو جو اب گیدڑ بھبکیاں دے رہے ہیں کہ 9 جون سے پہلے سارے سیاح کشمیر سے نکل جائیں، 9 جون کے بعد کی تمام ٹورسٹ بکنگز کینسل سمجھیں اور پورے جون کے مہینے کوئی ٹورازم نہیں ہوگا یعنی 9 جون سے 30 جون تک پورے ایک مہینے کشمیر میں سیاحت کو زبردستی بند کرنے کا شیطانی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس ایک مہینے کی فاشسٹ بندش سے کشمیر کے ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، پٹرول پمپس، چھوٹے دکانداروں اور بیکری والوں کو تقریباً 11 ارب روپے کا کمر توڑ معاشی نقصان ہوگا جو کہ غریب کشمیریوں کا سرعام معاشی قتل عام ہے۔ بات اب صرف ہڑتال تک نہیں رہی بلکہ یہ تحریک اب کھلی بھتہ خوری اور غنڈہ گردی پر اتر آئی ہے اور گراؤنڈ پر موجود ویڈیوز گواہ ہیں کہ 9 جون کے احتجاج کے نام پر غریب دکانداروں سے زبردستی پرچیاں کاٹ کر رقوم بٹوری جا رہی ہیں ،یہ عوامی خدمت نہیں بلکہ سرعام ڈکیتی ہے۔ اگر اس تحریک کو واقعی عوامی حمایت حاصل ہوتی تو انہیں معصوم شہریوں کو ڈرانے، دھمکانے اور گن پوائنٹ پر دھونس جمانے کی ضرورت نہ پڑتی کیونکہ جو تحریک خوف، جبر اور ہندوستان کی فنڈنگ کے سہارے کھڑی ہو، وہ کبھی عوامی نہیں ہوتی بلکہ خالصتاً دہشت گردی اور انتشار ہوتی ہے، جب حکومت نے مذاکرات کے دروازے چوبیس گھنٹے کھول رکھے ہیں اور ان کے جائز مطالبات پہلے ہی مانے جا چکے ہیں تو پھر اس 9 جون کی ہڑتال اور غنڈہ گردی کا کوئی جواز نہیں بچتا جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف لا اینڈ آرڈر خراب کرنا، سڑکیں، دکانیں اور تعلیمی ادارے بند کرا کے دہلی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔ ریاست کو اس انتشاری ٹولے کے ہاتھوں بلیک میل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آزاد کشمیر کی غیرت مند اور محبِ وطن عوام اب ان کے ڈراموں سے تنگ آچکی ہے اور ہمیں حقوق کے نام پر دنگا فساد اور بھتہ خوری نہیں بلکہ امن، تحفظ، پرامن الیکشن اور قانون کی بالادستی چاہیے۔
کمپنی تو یہی چلے گی، انشاء اللہ!
یہ وہ کمپنی ہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معیشت کو درست سمت میں لا کھڑا کیا اور معاشی اشارے بہتر کیے۔اسی قیادت کے دور میں جب ہندوستان نے آپریشن سندور شروع کیا، تو الحمدللہ ہم نے بنیان المرصوص معرکہِ حق کا آغاز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے 10 مئی 2025 کو اسی کمپنی کے دور میں پاکستان کو فتحِ مبین عطا کی، ہندوستان کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ آج ہماری فوج، فضائیہ اور بحریہ کا دنیا بھر میں ڈنکا بج رہا ہے اور کئی ممالک پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے سودے کر رہے ہیں۔ اسی دوران ہم نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی دفاعی معاہدہ بھی کیا۔یہ تھی 2025 کی کامیابی اب 2026 کی طرف آتے ہیں ، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کی اور صدر ٹرمپ 6 ہزار سالہ تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، تو دنیا ایک بڑی تباہی کے دہانے پر تھی اور کوئی ملک سامنے آنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان سامنے آیا۔ ہماری کامیاب سفارت کاری کی بدولت وہ سیز فائر ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ 50 سال بعد ہم نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے سامنے بٹھایا۔آج پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر، ایک سوچ اور ایک سمت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی اس باوقار جوڑی کی مخلصانہ قیادت میں پاکستان کی عزت، وقار اور عالمی مقام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ الحمدللہ، آج پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور باوقار خارجہ پالیسی کے ساتھ اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کر رہا ہے۔اگر نیت مخلص ہو اور سمت درست، تو پاکستان وہی مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ آج کا پاکستان، قائد و اقبال کے خوابوں کا پاکستان ہے۔بھائی جی! کمپنی تو یہی چلے گی، اور ملک کو آگے لے کر بڑھے گی۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے 17-18 سال کے کم ذہن اور عقل سے پیدل بچے ہیں کسی عقل والے بندے کو بٹھائیں جو یہ بتائے کہ کس نے کام کیا ہے، کس کی پرسنیلٹی اچھی ہے، کس کی تعلیم اچھی ہے اور کس کا ویژن اچھا ہے۔ نواز شریف کے دور میں پاکستان خود مختار بن رہا تھا ۔۔
انعم فاطمہ کو تمغۂ امتیاز ملنا ان کی بے مثال جرأت اور فرض شناسی کا برحق اعتراف ہے۔جس دارالحکومت کو قبضہ مافیا نے یرغمال بنا رکھا تھا، وہاں اس نڈر خاتون افسر نے ڈٹ کر 612 ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کروائی۔شاباش پاکستان کو اس وقت ایسے ہی بے خوف اور فرض شناس افسران کی اشد ضرورت ہے