میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ، بزرگ رہنما صبغت اللہ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو دی گئی عمرقید کی سزاکی شدید مذمت کرتا ہوں
#ReleaseBYCLeaders
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹرس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کودی گئی سزا کا فوری نوٹس لیں اور اس سزا کےخاتمے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے پہلے انسانی حقوق کے بلوچ رہنما ماما قدیرملک بھر میں پیدل لانگ مارچ کرتے رہے، وہ لانگ مارچ کرتے ہوئے کئی بار اسلام آباد بھی گئے لیکن ان کی فریادیں نہ سنی گئیں۔ پھر بلوچ یکجہتی کمیٹی قائم ہوئی اورڈاکٹرماہ رنگ بلوچ سامنے آئیں۔ انہوں نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے پرامن مظاہرے،جلسے جلوس کئے،ماہ رنگ بلوچ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے ماؤں، بہنوں اور بچوں کولیکرکئی بار اسلام آباد آئیں لیکن حکمرانوں نے ان کی بات سننے کے بجائے پولیس کے ذریعے ان پر حملے کئے، گرفتاریاں کیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بناکر اسلام آباد سے نکال دیا اور اس ظلم کے ذریعے مظلوم بلوچوں کویہ پیغام دیاکہ آپ کو اسلام آباد آکرمظاہرہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔
لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں ماہ رنگ بلوچ اوران کی ساتھی بلوچ خواتین اوربزرگوں کوکئی بار ایم پی او کے تحت جیل میں نظربند کیا گیا، پھر انہیں جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا اور اب انہیں خصوصی عدالت سے عمرقید کی سزا دیدی گئی ہے۔
میں سوال کرتا ہوں کہ آخر قوم کی اس بیٹی ماہ رنگ بلوچ کا کیا گناہ تھا، اس نے کونسا جرم کیا تھا کہ اسے عمرقید کی سزا دیدی گئی ہے؟ کیا ماہ رنگ بلوچ نے ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی تھی؟ کیا ماہ رنگ بلوچ نے فوج سے دوبدو لڑائی کی تھی؟ وہ تو پرامن جدوجہد کررہی تھیں پھر انہیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے؟ میں اس سزاکی شدید مذمت کرتا ہوں اورانتباہ کرتا ہوں کہ اس سزا کے انتہائی منفی اثرات پڑیں گے، بلوچوں کی مزاحمت شدید اور جدوجہد مزید تیز ہوجائے گی۔بلوچوں پرکئی دہائیوں سے مظالم ہورہے ہیں، پشتونوں پر مظالم ہورہے ہیں، مہاجروں پر مظالم ہورہے ہیں، کشمیریوں اوردیگرقوموں پر مظالم ہورہے ہیں، ایسے مظالم سے ملک قائم نہیں رہتے۔
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹرس سے پرزور اپیل کرتاہوں کہ وہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کودی گئی اس ظالمانہ سزا کا فوری نوٹس لیں اوراس سزا کے خاتمے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور ظلم بندکرائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 420 ویں فکری نشست سے خطاب
23، جون 2026ء
@MahrangBaloch_@BalochYakjehtiC
ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران ڈھائے گئے بھیانک مظالم کی کہانی ……الطاف حسین کی زبانی
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے نام پر جتنا ظلم کراچی، حیدرآباد، سکھراورسندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے کارکنوں، اس کے ہمدردوں اور عام مہاجروں پرکیا گیا، پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، سوائے بلوچستان کے ایسا ظلم پاکستان کے کسی بھی علاقے یا کسی بھی قوم پرنہیں ڈھایا گیا۔
ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء کوشروع کئے گئے فوجی آپریشن میں ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں اورہمدردوں کو شہید کیا گیا، یہ آپریشن آج تک جاری ہے۔ آج ملک کے مختلف حصوں میں بھی اپنا حق مانگنے پر مختلف قوموں کے خلاف فوجی آپریشن کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے آج پورے پاکستان میں ان غیرآئینی وغیرقانونی اقدامات کے خلاف کہیں کہیں مزاحمت تو کہیں کہیں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اور کہیں کہیں خاموشی ہے لیکن وہاں بھی عوام ان یزیدی مظالم کے خلاف دلوں میں نفرتیں لئے بیٹھے ہیں۔
بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں غیور بلوچ عوام کئی دہائیوں سے ریاستی مظالم کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں اور ہر طرح کی قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ،کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں کے عوام اپنا حق مانگنے والوں کے خلاف فوج اور اس کی ایجنسیوں کے ایکشن کے بارے میں کیاسوچتے ہیں۔ پشتونوں میں ایک تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ بنی لیکن اس کی آوازکوبھی دبادیا گیا، وہاں اتنا ظلم ہوالیکن افسوس کہ اپنے حق کے لئےاٹھنے والےپشتون خاموش ہوگئے۔ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے اپنے حق کے لئے میدان عمل میں آکر جدوجہدشروع کی لیکن ایک سازش کے تحت کشمیری قیادت کے خلاف بھی پروپیگنڈے کرکے کشمیری عوام میں بھ نااتفاقیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایم کیوایم کے خلاف بحیثیت جماعت اور مہاجروں کے خلاف بحیثیت قوم 19جون 1992ء کو جو فوجی آپریشن کیا گیا وہ آج تک جاری ہے،اس دوران ہزاروں کارکنان ماورائے عدالت قتل کئےگئے،لاپتہ اوراسیر کئے گئے او ر34سال گزرجانے کے باوجود یہ آپریشن آج بھی جاری ہے۔
ملک کے دیگرصوبوں خصوصاًپنجاب کے لوگوں کوایم کیوایم پر لگائے جانے والے جھوٹے اور من گھڑت الزامات تویادہیں لیکن فوجی آپریشن کے دوران فوج اور اس کی ایجنسیوں نے ایم کیوایم کے رہنماؤں، کارکنوں اور اس کوسپورٹ کرنے والے مہاجر عوام پر جوبھیانک مظالم ڈھائے اس کے حقائق اورسچی داستانیں معلوم نہیں ہیں اور اگر انہیں بتائی بھی جائیں تب بھی بہت سے لوگ الزامات کے اسیررہتے ہیں۔
ایم کیوایم ایک جمہوریت پسنداورقانون کے تحت جدوجہد کرنے والی امن پسند جماعت ہے لیکن اس کے خلاف آپریشن کاجوازپیش کرنے کے لئے من گھڑت اور جھوٹے الزامات تیار کئےگئے، 1992ء میں ہم پرفوج کشی کی گئی،ہمارے بے گناہ کارکنوں کوپکڑ پکڑ کر ماورائے عدالت قتل کیا گیا، انہیں فوجی سیف ہاؤسز میں لیجاکرسفاکانہ تشدد کرکے صرف قتل ہی نہیں کیا گیا بلکہ شدید نفرت کااظہار کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کے جسموں سےکھالیں اتاری گئیں، ان کی آنکھیں نکالی گئیں، ان کے جسموں کو استری سے جلایا گیا، ان کے جسموں کی چربی نکالی گئی،ان کی لاشوں کومسخ کیا گیا اورپھران کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں اور کہاگیا کہ یہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ایک ایک دن میں، ایک ایک واقعہ میں کئی کئی مہاجرنوجوانوں کوگرفتارکرکے پولیس مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہمارے نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات اس بڑے پیمانے پرہوئے کہ ایک ایک گھرسے تین تین جنازے نوجوانوں کے جنازے اٹھے۔ MQM کے بہت سے کارکنان جوجیلوں میں قید تھے،انہیں ہتھکڑیاں لگے جیلوں سے نکالاگیا اور باہر لیجا کر گولیاں مار کرشہید کردیا گیا اور کہا گیا کہ یہ پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئےمارے گئے۔ جبکہ ان شہید کارکنوں کہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ کیاپنجاب میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف ایسا بھیانک آپریشن کیا گیا؟
19جون 1992ء کے آپریشن کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کئےگئے MQM کے کئی کارکنان آج تک لاپتہ ہیں، بہت سے لاپتہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے بعد اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفنادیا گیا، اس حوالے سے سابق وزیرداخلہ اور مسلم لیگ ق کے بزرگ رہنما چوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈ پر موجودہے۔کیا پنجاب یا خیبر پختونخوا میں کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں پر ایساظلم ہوا ہے؟
92ء کے آپریشن کے دوران فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کابھی یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نےبتایا کہ انہوں نے 400 سے زیادہ مسخ شدہ لاشوں کو دفنایا۔
1/2
2/2
#یوم_سیاہ_19_جون
ہماری معصوم بہنوں کوبھی گرفتارکرکے کئی کئی مہینوں تک لاپتہ رکھا گیا، انہیں فوج کے سیف ہاؤسز میں قید رکھ کر انہیں درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ نائن زیرو کی پڑوسی ایک 20سالہ مہاجربیٹی رئیس فاطمہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد میں کئی ماہ تک ایک سیف ہاؤسز میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی کوجب ساتھیوں سمیت گھرسے گرفتارکیا گیا تو ساتھ میں اس کی حاملہ بیوی شاذیہ فاروق کو بھی گرفتارکرلیاگیا، فاروق پٹنی اوراس کے ساتھیوں کولیجاکرسفاکی سےگولیاں مار کرشہید کردیاگیا جب کہ اس کی اہلیہ شاذیہ فاروق کوکئی ماہ تک فوج کے سیف ہاؤس اور اڈیالہ جیل میں رکھ کر تشدد کیا گیا، اس کے ہاں بیٹی کی ولادت تک قید میں ہوئی۔کیا ایسا ظلم پنجاب یاخیبرپختونخوا میں کسی پارٹی پرڈھایا گیا؟
فوجی آپریشن کے دوران یہ بھی ہوا کہ فوج اورپیراملٹری رینجرز نے کراچی کے پورے پورے علاقوں کےمحاصرے کرکے گھروں سےنوجوانوں اوربزرگوں کو گرفتار کرکے،ان کی قمیضیں اتارکر، آنکھوں پر باندھ کر24، 24 گھنٹوں تک میدانوں میں بٹھایااور اس دوران گھروں میں لوٹ مار کی گئی اور ماؤں بہنوں سے بہیمانہ سلوک کیا گیا۔کیافوج نے پنجاب کے کسی ایک علاقےمیں بھی کسی کمیونٹی کے خلاف ایساظلم کیا؟
آپریشن کے دوران ہم پر تویہ ظلم تک ڈھایا گیا کہ ہمارے کئی شہید کارکنوں کے جنازوں میں نوجوانوں اور بزرگوں کو شرکت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہماری ماؤں بہنوں نے اپنے شہیدوں کے جنازے خود اٹھائے،خود ان کی نمازجنازہ پڑھائی اورانہیں لیجاکردفنایا۔کیا پنجاب یاملک کے کسی اورعلاقے میں کہیں ایسا کوئی ظلم کیاگیا؟
میرے 72سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور28سالہ بھتیجے عارف حسین، جن کاایم کیوایم یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہیں بھی آپریشن کے دوران5دسمبر 1995ء کو گھرسے گرفتار کرکے تین روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سفاکی سے قتل کردیا گیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو گرفتارکرکے کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں قیدرکھ کرتشدد کیا گیا، پی ٹی آئی کے کتنے رہنماؤں کے بھائی بھتیجے یا بہنوئی کوگرفتارکرکے شہید کیا گیا؟ پاکستان کے کسی ایک لیڈرکانام بتائیں جس کے گھرکوفوج نے پہلے سیل کیاہو، پھراس کوآگ لگادی گئی ہواور پھر بلڈوز کردیاگیا ہو؟
ہماری رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور جامعہ کراچی کے بزرگ استاد اور فلسفہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو پیراملٹری رینجرز نے ایم کیوایم سے وابستگی کی بنیاد پر انہیں پہلے MQM چھوڑنے کے لئے دھمکیاں دیں اور پھر 13جنوری 2018ء کوانہیں گرفتارکرنے کے بعد سفاکانہ تشدد کانشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔
آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے دفاتر اور گھروں کی ٹنکیوں سے بے تحاشہ اسلحہ برآمدکرنے کے ڈرامے رچائے گئے، فوج اور پیراملٹری رینجرز کے افسران نے گرفتار شدگان کی رہائی کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کئے۔ افسوس کہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے نام پر اس قدر بھیانک مظالم ڈھائے گئے لیکن آج تک اس کےبارےمیں ایسی کوئی کتاب مرتب نہ کی جاسکی جسے پڑھ کرلوگ ان مظالم کی تفصیلات جان سکتے۔
ہمارے خلاف یہ ظالمانہ آپریشن 34سال گزرجانے کے باوجود اب بھی اسی طرح جاری ہے،11جون کواے ایم ایس او کے 48 ویں یوم تاسیس پرکیک کاٹنے کے لئے کراچی میں ایک کمرے میں جمع ہونے والے ایم کیوایم کی لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئررکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ، سینئر صحافی تحسین عباسی، ان کے 15سالہ بیٹے سمیت 11بزرگوں کو گرفتارکرکے ان پر دہشت گردی کامقدمہ بنادیا گیا ہے۔کیا ایک کمرے کے اندریوم تاسیس منانا جرم ہے؟ ہمارے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا جارہاہے۔ ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپنہور اوران کے بیٹے محسن پنہور، سینئر فوٹوجرنلسٹ فیصل مجیب اور کراچی کے دیگرساتھیوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ حیدر آباد میں عدالت کے باہر سے گرفتارکئے گئے کارکنان اب تک لاپتہ ہیں۔
یہ بڑاظلم وستم ہے کہ جن کے بزرگوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کانذرانہ پیش کیا، اپنا سب کچھ پاکستان کی خاطرقربان کیا، ان کی اولادوں پر اپنا حق مانگنے کے لئے جدوجہد کرنے پراس طرح کے بھیانک مظالم ڈھائے گئے۔اگرکسی کو آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے سینکڑوں ہزاروں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر شک ہے تووہ کراچی کے یاسین آباد قبرستان جاکرخود دیکھ سکتا ہے۔ میری تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبھی یہ دعوت ہے کہ وہ کراچی میں کیمپ لگاکر ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے ملکر خود ان سے تفصیلات معلوم کرسکتے ہیں۔
الطاف حسین
1992ء کے فوجی آپریشن کے 34سال ہونے پر ٹک ٹاک پر 419 ویں فکری نشست سے خطاب
21جون 2026ء
https://t.co/4XpdAPFqof
اگر 1992ء میں پورے ملک سے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک میں حقوق مانگنے والی قوموں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔ الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
یہ ایک المیہ ہےکہ جب 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور MQM کے کارکنوں، ہمدردوں اورپوری مہاجرقوم پر جس طرح سےمظالم ڈھائےگئے، اگر اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے MQM کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت کی جاتی، اس آپریشن کی بھرپور حمایت کرنےکے بجائے اس کےخلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک بھر میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔
پاکستان کی تاریخ میں 19جون نہ صرف ایک انتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ انتہائی حساس ترین بھی ہے۔ 19جون 1992ء کو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران کی گئی زیادتیوں کی داستانیں سنیں تو سننے والوں کویقین نہیں آئے گا۔
19جون 1992ء سےقبل کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اس قدر مثالی تھی کہ کراچی اورسندھ میں کسی بھی علاقے میں ایک گھنٹے کے لئے بھی کسی قسم کاکرفیو نافذکرنےکی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، علاقوں میں امن وسکون تھا،لوگ رات دیرگئے تک شادی بیاہ کی تقریبات میں آتے جاتے تھے، بازاروں میں رات دیرتک رونق ہوتی تھی،کاروباری سرگرمیاں عروج پر تھیں، لیکن فوج نے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کافیصلہ کرلیا تھا لہٰذا سندھ میں فوج کشی کے لئے اندرون سندھ اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے ڈاکوؤں اوران کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں جاگیرداروں کے خلاف فوجی آپریشن کرنےکااعلان کی گیا۔اس کےلئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست بھی تیارکی گئی جو چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔اس فہرست میں بینظیر بھٹو کے کامدار، آصف زرداری، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم اورکئی بڑے بڑے جاگیرداروں وڈیروں کے نام شامل تھے۔یہ عمل قوم کودھوکہ دینے کے لئے کیا گیا، کیونکہ فوجی آپریشن ڈاکوؤں اورانکی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کےخلاف نہیں کیا گیا بلکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف شروع کیا گیا،اس کے لئے آفاق احمد، عامرخان اور MQM کے وہ لوگ جنہیں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی اور غیرقانونی حرکتیں کرنےپر تنظیم سے خارج کیا گیا تھا،انہیں فوج نے استعمال کیا،ان لوگوں کوفوج پہلے پنجاب لےگئی جہاں انہیں ٹریننگ دی گئی، کراچی لاکر فوجی چھاؤنی میں ٹھہرایا گیا اورپھر انہیں اسلحہ دیکر19جون 1992ء کو فوجی گاڑیوں میں سوار کراکے MQM کے دفاتراوررہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے، دفتروں پر قبضے کرائے گئے،ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو اغوا کرکے شہید کیا گیا اورانہیں حملوں، دہشت گردی، لوٹ مار، اغوا، تشدد ہر طرح کی کارروائیوں کا لائسنس دیاگیا۔اس حوالے سے عامر خان نے ایکسپریس نیوز چینل پر شاہ زیب خانزادہ کودیے گئے انٹرویو میں واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیاکہ فوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں استعمال کیااوروہ اس آپریشن کاحصہ تھے اورانہیں ایم کیوایم کونقصان پہنچا کر خود اس خلاء کوپرکرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ انہی لوگوں نے MQM کے رہنماؤں، سیکٹرانچارجز اور دیگر ذمہ داروں اورکارکنوں کے نام پتے فوج کوفراہم کئے تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے۔
ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں سیاسی ومذہبی جماعتوں اورعوام نے MQM کے خلاف اس ظالمانہ فوجی آپریشن کی بھرپورحمایت کی، اسے درست اورجائزقراردیا۔ فوج ایم کیو ایم کے کارکنوں کوسفاکی اور بیدردی سے قتل کرکے انہیں سرکاری ٹی وی پر دہشت گرد اورملک دشمن بناکرپیش کررہی تھی اورملک بھر کے عوام فوج کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن اور اخبارات میں پیش کی جانے والی جعلی جھوٹی کہانیوں پر یقین کرتے رہے اورMQM کوملک دشمن دہشت گرد جماعت کہتے رہے۔اگر اس وقت ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف کئے جانے والےاس فوجی آپریشن کی بھرپور حمایت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تو آج پی ٹی آئی، بلوج یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیرعوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن نہ ہورہا ہوتا، آج بلوچستان، خیبرپختونخوا، قبائلی علاقوں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور پورے ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی اورمظالم نہ ڈھائے جارہے ہوتے۔
1/2
2/2
افسوس یہ ہے کہ آج بھی کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتاکہ 19جون 1992ء کو MQM کے خلاف فوجی آپریشن کیوں کیا گیا؟ بلکہ بہت سے لوگ آج بھی ایم کیوایم کے بارے میں وہی الزامات دہراتے ہیں جو 1992ء میں فوج نے لگائے تھے۔
اگر آج بھی پاکستان کے عوام اپنی سوچ کواسی طرح رکھیں گے ایم کیوایم کے خلاف فوج کاایکشن درست تھا، لیکن فوج کی جانب سے پی ٹی آئی، پشتون تحفظ موومنٹ، بلوچ یکجہتی کمیٹی، کشمیرجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف ایکشن کیاجارہا ہے وہ غلط ہے تواس سوچ کے ساتھ ہم ایک دوسرے کے قریب نہیں آسکیں گے اورہم ایک دوسرے کے مسائل، پریشانیوں اوران کے اسباب کو نہیں سمجھ سکیں گے۔
میں پوچھتاہوں کہ PTI والے جب یہ نعرے لگاتےہیں کہ ”ہم چھین کےلیں گے۔آزادی …تمہیں دینی پڑے گی۔ آزادی“ تووہ کس سے آزادی مانگتے ہیں؟ یہ”تم “ کون ہے؟ پشتون تحفظ موومنٹ والے جب کہتےہیں کہ ہمیں ہماری حقوق دیے جائیں تووہ کس سے حقوق مانگ رہے ہیں؟ بلوچوں کاحق کس نے چھینا ہے؟ کشمیرعوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما کس سے اپنا حق حکمرانی مانگ رہے ہیں؟ کس سے آزادی مانگ رہے ہیں؟ جب تک آپ اپناحق غصب کرنے والے اورظلم کرنے والے کاکھل کرنام نہیں لیں گے اور ادھر ادھر کی بات کریں گے توآپ اپنے آپ کواورلوگوں کودھوکہ دیں گے اورلوگ اسی طرح مرتے رہیں گے، لہٰذا قوم کو کھل کربتایاجائے کہ ظلم کون کررہاہے، آپ کے حقو ق اور آزادی کس نے غصب کررکھی ہے۔
پاکستان کے عوام کویہ سمجھ لینا چاہیے کہ ملک پر کرپٹ جرنیلوں، کرپٹ جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، سرمایہ داروں، اسمگلروں کی مافیاؤں نے قبضہ کررکھاہے، جو بارباراقتدارمیں آکرملک کو لوٹ رہے ہیں اورملک اوربیرون ملک جاگیریں اور جائیدادیں بنارہے ہیں۔ نوازشریف کی ایک اتفاق فاؤنڈری تھی آج ملک اوربیرون ملک ان کی بے حساب جائیدادیں ہیں۔ آصف زرداری کوئی جاگیردارنہیں تھے اوران کا صرف ایک سینما تھاآج وہ ملک کے صدراور بے حساب جائیدادوں اوردولت کے مالک ہیں،ان کے والد حاکم علی زرداری مرحوم جنرل ضیا کی مجلس شوریٰ کے رکن اور ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی پر خوشی میں مٹھائیاں بانٹنے والے تھے۔ یہ کرپٹ جاگیرداروں،وڈیروں، اسمگلروں،بلڈروں اورمافیاؤں کاگٹھ جوڑ ہے جس نے پورے ملک کے عوام کے حقوق غصب کررکھے ہیں۔ پاکستان کوبچاناہے اوراپنے حقوق حاصل کرنے ہیں توہمیں اس کرپٹ اور ظالم مافیاسے ملک کو نجات دلانی ہوگی۔
پاکستان کی تمام مظلوم اقوام کوسمجھ لیناچاہیے کہ انقلاب نعروں سے نہیں آتے بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اورقربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ جب تک ہم قربانی دینے کے لئے تیارنہیں ہوں گے، تبدیلی نہیں آئے گی۔
الطاف حسین
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34 ویں سال پر418 ویں فکری نشست سے خطاب
20 جون 2026ء
(مکمل فکری نشست سنئیے👇)
https://t.co/9D672nDUNc
19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے……الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیوایم کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جو اپنے مفاد کے لئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے، بدقسمتی سے پاکستان کے عوام کواس بارے میں حقائق معلوم نہیں کہ اس روز کیاہواتھا، ملک کی تیسری اور سندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے اورمہاجروں کو کچلنے کے لئے کیا کیامظالم ڈھائے گئے تھے۔
میں سوال کرتاہوں کہ 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیوں کیاگیا؟ ایم کیوایم کاجرم کیاتھا؟ الطاف حسین اوراس کے ساتھیوں کاگناہ کیاتھا؟
19جون 1992ء کےفوجی آپریشن کوآج 34سال گزرگئے، MQM پر جناح پورکی سازش اوراسی طرح کے بے شمار جھوٹے الزامات کے ہم جوابات دیتے رہے، آپریشن کرنے والی فوجی شخصیات بھی میڈیاپر آکران الزامات کوڈرامہ اورجھوٹ تسلیم کرتی رہیں لیکن اس کے باوجود MQM اور مہاجروں سے نفرت کرنے والے شاؤنسٹ عناصر آج بھی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیاپر بیٹھ کر اپنے تبصروں، تجزیوں اوروڈیولاگزمیں انہی الزامات کو دہراتے ہیں۔ بعض بے غیرت اور بے ضمیر شاؤنسٹ صحافی اوراینکرزآج بھی یہ کہتے ہیں کہ MQM کو جنرل ضیاء الحق نے بنایا۔یہ کیسے صحافی ہیں،کیاانہیں یہ نہیں معلوم کہ 14 اگست 1979کو جنرل ضیاء الحق کےمارشل لا دور میں بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کےلئے پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے کی پاداش میں فوج نےالطاف حسین کوگرفتار کیا اور سمری ملٹری کورٹ سے پانچ کوڑوں اور9ماہ قیدکی سزادی؟ فوج نے31 اکتوبر 1986ء کوایم کیوایم کے جلوسوں پر حملوں کے دوسرے روزالطاف حسین کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، کئی ماہ تک قیدمیں رکھااور مقدمات بنائے؟ 1987ء میں جب الطاف حسین کوتیسری مرتبہ گرفتارکیا گیا اور قید میں اس کے قتل کی سازش کی گئی، اس وقت کس کادور تھا؟ اگرایم کیوایم کوجنرل ضیاء الحق نے بنایاہوتاتو کیا جنرل ضیاء الحق کے دورمیں ایم کیوایم کے خلاف باربار آپریشن کئے جاتے؟ الطاف حسین کو تین مر تبہ گرفتار کیا جاتا؟
الطاف حسین کاجرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب، متوسط طبقہ اورنچلے طبقہ کے گمنام نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیج کر اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا، الطاف حسین نے فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کوللکارا، اس نے فوج اورآئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کی،الطاف حسین ملک کاوہ واحد لیڈرہے جس نے اپنے مشن ومقصد اورکاز کاسودا کرنے اور ملک میں جاری کرپٹ سسٹم کاحصہ بننے سے انکارکیا جس کی پاداش میں فوج کی جانب سے الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو باربار سزادی گئی، الطاف حسین کو جلاوطن ہونے پرمجبور کیا گیا۔اس کے خلاف پی ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے برسوں تک زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا، الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو ملک دشمن اوردہشت گرد بنا کرپیش کیا گیا، اس طرح پنجاب، خیبرپختونخواہ اورملک اوربیرون ملک پاکستانیوں کوالطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم سے متنفر کیا گیا۔
میں سوال کرتاہوں کہ الطاف حسین کاقصور کیاتھاکہ اسے آج تک گالیاں دی جاتی ہیں اوراس پر الزامات لگائے جاتے ہیں؟میں الزامات لگانے والوں سے کہتا ہوں کہ الطاف حسین کوایک طرف رکھ دیں، وہ بتائیں کہ عمران خان کاقصور کیا ہے؟ اس کاگناہ کیاہے کہ اسے گرفتارکیا گیا، مقدمات بنائے گئے اوراس پر الزامات لگائے گئے؟ آج کون ساالزام ہے جوایم کیوایم پر لگایاگیا تھا وہ الزام تحریک انصاف اورعمران خان پر نہیں لگایاجارہا؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ اورPTI کو ملک دشمن، دہشت گرد جماعت قرار نہیں دیا گیا؟ پی ٹی آئی کے لوگ اسٹیلشمنٹ کے ان الزامات کو غلط قراردیتے ہیں تووہ اسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الطاف حسین اور ایم کیوایم پر لگائے گئے ایسے ہی الزامات کودرست کیوں قراردیتے ہیں؟ پھر پی ٹی آئی کے لوگ ”یہ جودہشت گردی ہے …… اس کے پیچھے وردی ہے“ کے نعرے کیوں لگاتے ہیں؟ آج کشمیر کے عوام نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج شروع کیا توانہیں بھی ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ کیوں قرار دیا جارہاہے؟
کاش کہ جب فوج نے 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا، اس وقت پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر،گلگت بلتستان اورملک بھرکے عوام فوج کومقدس گائے سمجھنے اور اس کے الزامات پرآنکھ بند کرکے یقین کرنے کے بجائے حقائق کوسمجھتے اورایم کیوایم کے مؤقف کوتعصب کے بجائے حقائق کی عینک سے دیکھتے تو وہ ان الزامات اورپروپیگنڈوں سے گمراہ نہ ہوتے۔
1/2
2/2
ملک بھر کے عوام کوایم کیوایم سے متنفرکرنے کے لئے MQM کے خلاف جتنا پروپیگنڈہ کیاگیا اتناپاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیاگیا، اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے،بے ضمیراورقلم فروش صحافی ٹی وی پر بیٹھ کر ان شرمناک اورجھوٹے الزامات کو لہک لہک کر،چہک چہک کراس طرح پیش کرتےکہ ہرسننے والا شخص اس کو صحیح سمجھے۔مگر MQM پر لگائے گئے یہ الزامات ہمیشہ غلط اورجھوٹ ثابت ہوئے،MQM پر بلدیہ فیکٹری کوآگ لگانے کابھی شرمناک الزام لگایا گیا تھا، اس کےکارکنوں کوگرفتارتک کیا گیا، کینگروکورٹ سے انہیں سزاتک دیدی گئی لیکن سپریم کورٹ سےMQM کے کارکنان اس الزامات میں باعزت بری ہوئے، ثابت ہوا کہ MQM پر یہ الزام غلط تھا۔
فسطائی قوتوں کا یہ طریقہ واردات ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اور فرسودہ نظام کےخلاف پرامن اورجمہوری جدوجہد کرنے والی جماعتوں کوعوام میں بدنام کرنے اورعوام کومتنفر کےلئے یہی پالیسی اختیارکرتی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی اسٹیبلشمنٹ اسی پالیسی پر عمل کرتی ہیں۔اس حوالے سے میں نے کئی برسوں پہلے ”اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ تمام نوجوانوں، سیاسی کارکنوں خصوصاً سیاست کے طالبعلموں کویہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
ایم کیوایم کے خلا ف پروپیگنڈے توبہت کئے جاتے ہیں، اس پر جھوٹے، من گھڑت اوربے بنیاد الزامات توبہت لگائے جاتے ہیں لیکن خفیہ طاقتوں نے MQM کی جدوجہد کوکمزورکرنے کےلئے کیا کیا سازشیں کیں اور مہاجروں کا کس کس طرح قتل عام کیا،اس کاکوئی زکرنہیں کرتا،
ہم سوال کرتے ہیں کہ 31اکتوبر1986ء کو کراچی سے پکاقلعہ حیدرآبادمیں جلسہ عام میں شرکت کے لئے جانے والے MQM کےقافلوں پرکراچی میں سہراب گوٹھ اورحیدرآباد میں مارکیٹ چوک کے مقامات پر حملے کس نے کرائے؟
14دسمبر 1986ء کوکراچی کے علاقوں علی گڑھ اورقصبہ کالونی میں قتل عام کس نے کرایا؟
30ستمبر 1988ء کو قوم پرست عناصر کوجیلوں سے نکال کر حیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام کس نے کرایا؟
26، 27 مئی 1990ء کے پکاقلعہ آپریشن کی آڑ میں حیدرآباد میں مہاجروں پر مظالم کے پیچھے کون تھا؟
1987ء میں جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل پنجابی پختون اتحاد بنا کرکراچی میں مہاجربستیوں پر حملے کس نے کرائے؟ انہی حملوں اورمہاجروں کے قتل عام کےواقعات کی وجہ سے ہی الطاف حسین نے مہاجروں سے کہاتھاکہ ٹی وی، وی سی آر بیچواوراسلحہ خریدو، اپنی ماؤں بہنوں،بیٹیوں اوربچوں کی حفاظت کےلئے اسلحہ حاصل کرو۔ میری اس بات پر بہت اعتراض کیا گیالیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی بلکہ لوگوں کووہی درس دیا جو اسلام، شریعت، ملک کاآئین اورقانون کہتا ہے اورلوگوں کوسیلف ڈیفنس کاحق دیتا ہے۔ میں نے یہ درس دیکرکوئی گناہ نہیں کیا اوراگرکوئی اسے گناہ کہتا ہےتو کہتا رہے، میں یہ گناہ کرتا رہوں گااورآج بھی لوگوں کویہی درس دوں گا کہ اپنی حفاظت کابندوبست خود کرو، لائسنس بنواؤ اورقانونی طورپراسلحہ رکھو،یہ آپ کاحق ہے۔
میں نے کئی دہائیوں پہلے اپنی فکری نشستوں میں متعدد باریہ کہاتھاکہ MQM کودنیاکی کوئی قوت ختم نہیں کرسکتی،اگرایم کیوایم کبھی کمزور ہوئی، اسے کوئی نقصان پہنچاتو اندر سے ہی پہنچے گا۔میری بات درست ثابت ہوئی اور MQM کونقصان اندرسے ہی پہنچا، ایم کیوایم میں برسوں تک کام کرنے والے، بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والوں نے اپنا سودا کیا، اپنا ضمیربیچا اورتحریک سے غداری کی۔MQM کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں ایم کیوایم کے وہ لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے MQM کے نام سے بڑے بڑے منصب حاصل کئے، جو ایم این ایز، ایم پی ایز، منسٹر، سینیٹرز، گورنر، وزیر، مشیر،میئر، ناظم اورمختلف عہدوں پر فائز ہوئے، مگر اپنےمفاد کےلئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے، شہیدوں کے لہو اوراپنے ظرف وضمیر کا سودا کرتے رہے اور دشمنوں کے ساتھ ملکر، تحریک کے خلاف برسرپیکارہوکرتحریک اورقوم کونقصان پہنچاتے رہے۔
آج 19جون1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر میں اپنے وفاپرست ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ تم اپنے نظریہ اور وفاپرقائم رہنا، تحریک کے لٹریچر کوپڑھ کر اسے یاد رکھنا، اسے دوسروں تک پہنچانا، تحریک کے مشن ومقصد کوکبھی فراموش نہ کرنا، اس کےلئے جدوجہد کرتے رہنا، اگر کبھی کسی الیکشن میں ووٹ دیناپڑے توحق پر ووٹ دینا، اپنے شہیدوں اور ان کی قربانیوں کونہ کبھی نہ بھولنا۔
میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ 19جون 1992ء اوراس سے پہلے اوراس کے بعد شہید ہونے والوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے، ہماری قوم پر رحم فرمائے اور کوئی ایساراستہ بنادے کہ ہماری قوم اور تمام مظلوموں کوغلامی کی ذلت آمیز زندگی سےنجات مل سکے،انہیں ان کے حقوق اور ایک باعزت زندگی میسر آسکے۔
الطاف حسین
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر417 ویں فکری نشست سے خطاب
19جون 2026ء
بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں پر جوظلم وستم ڈھایاجارہا ہے کیا اس سے پاکستان کی سلامتی وبقاء ہوگی یا یہ عمل پاکستان کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا؟
بندکمرے اور چاردیواری کے اندر یوم تاسیس منانار کیک کاٹنا کیا دہشت گردی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپوزیشن جماعتوں سے حکومتی رویہ:
اپوزیشن کی جماعتوں کے رہنما اگر اظہار رائے کا حق استعمال کریں تو ریاستی ادارے اور حکومت ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے جیسے وہ ملک کے شہری نہیں ہیں،تحریک انصا ف کے سربراہ عمران خان صاحب اور ان کی جماعت پر قدغن عائد کی گئیں، عمران خان کو تین برسوں سے جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ اسی طرح اصل ایم کیوایم پر 11 برسوں سے پابندی لگارکھی ہے، ایم کیوایم کا مرکز نائن زیرو، خورشید بیگم میموریل ہال، پبلک سیکریٹریٹ، ایم پی اے ہاسٹل، زونل، سیکٹر اوریونٹ دفاتر پر تالے ہیں اور الطاف حسین کی تحریر، تقریر پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ میں ن لیگ کے سربراہ اور ان کی جماعت کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا میاں نوازشریف عدالت عظمیٰ سے سزایافتہ نہیں ہیں؟ کیا عدالت عظمیٰ نے ان کی تحریرتقریرپرپابندی نہیں لگائی؟کیانوازشریف پر سیاست میں حصہ لینے پرتاحیات پابندی نہیں لگائی گئی؟میاں نوازشریف جیل میں قید تھے اور ایک معاہدے کے تحت علاج کی غرض سے لندن گئے تھے، کیا وہ معاہدے کے مطابق اپنا علاج مکمل کرواکر وطن واپس آئے؟کیا انہوں نے مفرور قیدی کی حیثیت سے جلاوطنی کے کئی سال لندن میں نہیں کاٹے؟کیا لندن میں قیام کے دوران میاں نوازشریف نے وڈیولنک کے ذریعے خطابات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ،آئی ایس آئی کے سربراہان اور دیگر جرنیلوں کو برابھلا نہیں کہاتھا؟کیاان کی صاحبزادی مریم صفدر صاحبہ نے پنجاب کے جلسوں میں اپنی موجودگی میں ”مجھے کیوں نکالا“ اور ”یہ جودہشت گردی ہے…… اس کے پیچھے وردی ہے“ کے نعرے نہیں لگوائے؟
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز اورفیلڈکمانڈرز سے پوچھتا ہوں کہ کیامیری بیان کردہ باتیں غلط ہیں؟ان تمام حقائق کے باوجود فوج کے جرنیل،میاں نوازشریف کو سرخ قالین پر لندن سے پاکستان لے آئے اوران کے مقدمات ختم کردیے گئے۔ یہ تمام حقائق فوجی جرنیل اورپاکستان کے عوام خوب جانتے ہیں کہ 8، فروری 2024ء کے انتخابات میں فوج کے افسران نے فارم 47 میں انتخابی نتائج تبدیل کرکے کامیاب امیدواروں کو ناکام اورناکام امیدواروں کو کامیاب بنایا۔ کیافوج کے افسران کو یہ کام کرنا زیب دیتا ہے؟
ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی آمریت پسندی:
مسلم لیگ میں جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار ہیں،ان کا عوام کی فلاح وبہبود سے قطعی تعلق نہیں ہے، ان کی سیاست کا مقصد اقتدار میں آکرملک کی دولت لوٹنا، عوام کوجھوٹے نعروں اوروعدوں سے بے وقوف بنانا ہے، اگر قومی خزانہ لوٹنے والے میاں نوازشریف کی صحیح دولت منظرعام پرلائی جائے تو ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوگا۔
اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی نے ابتداء میں ”روٹی،کپڑا اورمکان“ کا نعرہ دیا تھا، میرا سوال ہے کہ کیا جاگیرداروں اوروڈیروں کو روٹی، کپڑا اورمکان کی ضرورت ہوتی ہے؟یہ جاگیردار اوروڈیرے انعام کے طورپر انگریزوں کی عطاکردہ جاگیروں کے مالکان تھے اور ان کی عوام دشمنی اورکرپشن سب کے سامنے ہے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں بنگالیوں کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کوبھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی لیکن شیخ مجیب الرحمان کی فتح کو قبول نہیں کیاگیا،انہیں اقتدار منتقل نہیں کیاگیا اور ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کے جرنیلوں کے ساتھ مل کر ”اِدھرہم اُدھرتم“ کا نعرہ لگایااورسابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے خلاف فوج کشی کی گئی جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا۔ ذوالفقاربھٹو جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہاکرتے تھے، وہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ ساز باز کرکے حکومتوں میں آتے رہے،پاکستان کے عوام پر ظلم وبربریت کرتے رہے، ملک کو نقصان پہنچانے والے کوٹہ سسٹم، نیشنلائزیشن اسکیم جیسے اقدامات کرتے رہے لیکن اقتدار کیلئے فوج جرنیلوں سے ہاتھ ملانے کے باوجود بھٹو کاانجام کیاہوا؟قدرت کامکافات عمل دیکھئے کہ جس جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملکر بھٹو نے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا اسی جنرل ضیا نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکادیا۔
ذوالفقارعلی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیربھٹو نے جلاوطنی گزاری، ان کے بھائی میرشاہنواز بھٹواور میرمرتضیٰ بھٹو بھی جلاوطن ہوئے لیکن ان کی جاگیردارانہ ذہنیت تبدیل نہ ہوئی،بینظیربھٹوکو اقتدارمیں آنے سے پہلے یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ وہ اس وقت تک اقتدارمیں نہیں آئیں گی جب تک ان کے والد کو پھانسی دینے والے جرنیلوں کا احتساب نہیں کیاجاتا لیکن افسوس کہ اقتدارکی خاطر بے نظیربھٹو بھی فوجی جرنیلوں سے ڈکٹیشن لیتی رہیں، ان کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتی رہیں، 1/3
2/3
اس کے باوجود انہی فوجی جرنیلوں نے بے نظیربھٹو کوقتل کردیا۔بے نظیربھٹو کی نرینہ اولاد بلاول زرداری نے بھی کبھی یہ نہیں کہاکہ جب تک ان کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے والے جرنیلوں کااحتساب نہیں ہوجاتا،وہ اقتدار کاحصہ نہیں بنیں گے اور اس مقصد کے لئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ان جاگیرداروں کے ہاں نہ شرافت ہوتی ہے اورنہ اصول ہوتے ہیں، ان کامقصد صرف اقتدار اور شان وشوکت ہوتی ہے اور وہی بلاول زرداری نے کیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان:
پاکستان کے فوجی جرنیلوں کو سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کرکے یہ عہد کرنا چاہیے تھا کہ اب وہ کبھی پاکستان کی سیاست میں بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں کریں گے اور اپنی غلطیوں کاازالہ کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسانہیں ہواکہ ایک لاکھ فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔پاکستان کی فوج نے 1971ء میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈالے، یہ سرینڈر فوج کے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ تھااور فوج کو اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے تھا لیکن آج کیاہورہا ہے؟
فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب کے نام!
میراسوال ہے کہ آپ کے دورمیں کیا تماشے ہورہے ہیں؟ کیا دھاندلیاں ہورہی ہیں؟ آپ حافظ قرآن ہیں کیا آپ کو قرآن مجیدمیں کوئی ایسی آیت نہیں ملی کہ مظلوموں پر ظلم نہ کرو؟آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں مظلوم بلوچوں، صوبہ خیبرپختونخوا میں پشتونوں اورکشمیرمیں کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟کشمیرکے حالات آپ کے سامنے ہیں، آپ کہاں کہاں اور کتنے لوگوں کو گولیاں ماریں گے؟فوجی جرنیلوں کی جانب سے بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں پر جوظلم وستم ڈھایاجارہاہے کیا اس سے پاکستان کی سلامتی وبقاء ہوگی یا یہ عمل پاکستان کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا؟
فیلڈمارشل صاحب میری بات لکھ کررکھ لیجئے، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ آپ کو استعمال کررہے ہیں، کل جب پاکستان کی بقاء وسلامتی پرکوئی مشکل وقت آیا تو نہ ڈونلڈ ٹرمپ آپ کی مدد کریں گے اورنہ ہی امریکہ آپ کی مدد کیلئے آئے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان ماضی میں بھی امریکہ اورمغربی قوتوں کے مفادات کے لئے استعمال ہوتارہااوراب بھی ہورہا ہے،پاکستان کی فوج نے امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران بلاوجہ ٹانگ اڑائی، افغان وار میں ملک کی فوج اورتمام وسائل کو امریکہ، برطانیہ اورمغربی ممالک کے مفادات کیلئے جھونک دیااورامریکی ڈالرز لیکر KPK میں جہادی مدرسے قائم کیے، طالبان بنائے لیکن آج اپنے ہی تشکیل کردہ طالبان کو دہشت گرد اور خوارج قراردیا جارہا ہے اوراپنی بنائی ہوئی افغان حکومت کو اپنا دشمن قراردیاجارہاہے۔پالیسی سازوں کویہ نہیں بھولناچاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اور روس کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے۔
3/3
پرامن سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ:
پاکستان میں ظلم وجبر کاایسا نظام مسلط کردیا گیاہے کہ اب لوگ بند کمروں میں اپنی جماعت کا یوم تاسیس بھی نہیں مناسکتے،11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں مہاجرطلبہ کی تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی، 11، جون2026ء کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس تھا، ہم نے تمام ساتھیوں کو ہدایت کردی تھی کہ کسی کھلی جگہ سڑک یا میدان میں یوم تاسیس کا کوئی پروگرام نہ رکھا جائے اورریاستی اداروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ایم کیوایم کے کارکنان نے قانون ہاتھ میں لیاہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے میرا سوال ہے کہ کیا بند کمروں میں یوم تاسیس منانا اور کیک کاٹنا بھی جرم بنادیاگیاہے؟پاکستان ٹائمزنیوز کے سینئر صحافی تحسین عباسی کے دفترمیں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کی تقریب رکھی گئی جس میں سینئر وبزرگ وکیل ادریس علوی ایڈوکیٹ، محمدسلمان ایڈوکیٹ،صحافی تحسین عباسی، ان کے 15 سالہ صاحبزادے حسین علی سمیت 11 کارکنان وہمدرد شریک تھے، پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترمیں چھاپہ ماراگیا اور تمام افراد کو گرفتارکر لیاگیا اور پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترکو seal کردیاگیا۔ آج جب ان گرفتارشدگان کی ضمانت کیلئے ایم کیوایم کے وکلاء جج میر ساغرجان ابڑو کی عدالت میں پہنچے تو تفتیشی افسر نے ان گرفتارشدگان کے خلاف ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ 7 ATAلگادی اوریہ کیس انسداددہشت گردی کی عدالت بھیج دیا۔ میرا فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے سوال ہے کہ بند کمرے اور چاردیواری کے اندر کیک کاٹنا کیا دہشت گردی ہے؟یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ گرفتارشدگان تحسین عباسی، ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ،، محمد ناصر، عمر ملک، مرزا وسیم، آفاق عالم، سید حمید پاشا، تسلیم شیخ، محمد حارث اور 15سالہ کم عمر حسین علی کوکراچی سینٹرل جیل میں عادی مجرموں کی بیرکوں میں رکھاگیاہے جبکہ یہ تمام افراد تعلیم یافتہ، وکلاء اور سیاسی قیدی ہیں لیکن انہیں سیاسی قیدیوں کی بیرکوں میں منتقل نہیں کیاگیا۔ وکلاء برادری اور کراچی بار ایسوسی ایشن سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا سینئر اوربزرگ وکلاء کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کریں۔
فیلڈ مارشل صاحب امریکہ اورایران میں صلح ضرورکرائیں لیکن اپنے ملک میں مصالحت کیوں نہیں کرتے؟ آپ بلوچوں، پشتونوں، کشمیریوں، مہاجروں اوردیگرمظلوموں سے مصالحت اور مفاہمت کیوں نہیں کرتے؟ خدارا کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھیں، بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق دیں، KPK میں ڈرون حملے بند کرائیں اورمہاجروں پر ظلم وستم کاسلسلہ بند کرائیں۔ ہمسایہ ممالک سے برادرانہ اوردوستانہ تعلقات قائم کریں کیونکہ گولہ باردو سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پالیسی سازوں کوچاہیے کہ وہ امریکہ کی صورتحال سے سبق حاصل کریں، امریکہ کوبھی بہت زعم تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملہ کرکے 24 گھنٹے میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پرمجبور کردے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ایران نے سپرطاقت امریکہ کے سامنے کھڑے ہوکر اور جرات و ہمت سے اس کاسامنا کرکے امریکہ کا غرور خاک میں ملادیا۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایم کیوایم،پی ٹی آئی اورکشمیری کارکنوں کو رہا کریں اور ملک میں سیاسی مفاہمت کاآغاز کریں۔ ایم کیوایم کے کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ فی الفورختم کیا جائے اور پرامن سیاسی کارکنوں پردہشت گردی کامقدمہ قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،نثاراحمد پنہور، ان کے صاحبزادے محسن پنہور، پریس فوٹو گرافر فیصل مجیب سمیت کراچی اورحیدرآبادکے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایاجائے اور تمام گرفتارشدگان کورہا کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر416ویں فکری نشست سے خطاب
15، جون2026ء
حق مانگنے پر کشمیریوں کوغدار،ملک دشمن اورانڈین ایجنٹ قراردیناشرمناک ہے۔الطاف حسین
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#11JuneAltafHai#RightsMovementAJK
اگرحق مانگنے والے سب ہی غدار، ملک دشمن، غیرملکی ایجنٹ اوردہشت گرد ہیں توپھرمحب وطن اورامن پسند کون ہے؟
پاکستان میں ہروہ قوم یاگروہ جواپنے حقوق مانگے اوراسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کرے اسے غدار، ملک دشمن،دہشت گرد اور غیرملکی ایجنٹ قر اردیدیاگیا ہے اور جب سب ہی غدار، ملک دشمن، اور غیرملکی ایجنٹ اوردہشت گرد ہیں تو پھرمحب وطن اورامن پسند کون ہے؟
جوبھی حق کے لئے آوازاٹھائے، پرامن احتجاج کے لئے گھرسے باہرنکلے تواس کے لئے لاٹھی چارج، آنسوگیس، گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، ٹارچرسیلوں میں اذیتیں اور ماورائے عدالت قتل ہیں۔ ظلم اتنا بھی بڑھایاگیااورماورائے عدالت قتل کے واقعات اتنے بڑے پیمانے پرہوئے کہ مقتولین کو اجتماعی طورپر خاموشی سے دفنایاگیا۔ اجتماعی قبریں بھی برآمدہوئیں۔ جب یہ سلسلہ طویل ہونے لگے تو ظلم کانشانہ بننے والے مزاحمت کرتے ہیں ایسے لوگوں کوحکومت اورادارے دہشت گرد قراردیتے ہیں لیکن مظلوم عوام انہیں حریت پسند یافریڈم فائٹر کہتے ہیں۔
اپناحق مانگنےپربلوچوں،سندھیوں، مہاجروں اور پختونوں کودہشت گرد اورملک دشمن اورغیرملکی ایجنٹ قراردے دیاگیااوراب کشمیری عوام نے اپناحق مانگا توانہیں بھی ملک دشمن، دہشت گرد اورحتیٰ کہ انڈین ایجنٹ قراردیدیاگیا۔ جنہیں کل تک پاکستان کی شہ رگ کہاجاتاتھاآج وفاقی حکومت کے وزراء ملک دشمن اورانڈین ایجنٹ قراردے رہے ہیں جوانتہائی شرمناک ہے۔ یہی نہیں بلکہ جس طرح فوجی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے رہنماؤں کے سروں کی قیمت لگائی گئی اسی طرح اب کشمیری رہنماؤں کے سروں کی بھی قیمت لگادی گئی ہے۔، یہ سراسرظلم ہے۔ان کاجرم یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے لئے حق مانگ رہے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم وستم بڑھاتے ہوئے وہاں خوراک، سبزیاں جانے والے راستے بھی بند کردیے گئے ہیں۔ اس سے بڑاظلم کیاہوگاکہ جوکشمیری مظاہرین پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی اہلکاروں کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں ان کی لاشیں تک نہیں دی جارہی ہیں اوران کے اہل خانہ سے کہا جارہاہے کہ وہ پہلے لکھ کردیں کہ ان کے بیٹے غیرملکی ایجنٹ تھے، پھر لاشیں حوالے کی جائیں گی۔ میں پیراملٹری فورسزکی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کی شدیدمذمت کرتاہوں اوروفاقی حکومت اورتمام دفاعی اداروں سے کہتاہوں کہ وہ یہ مظالم بندکریں اورکشمیریوں کو مکمل طورپر دیوار سے لگانے کاعمل بند کردیں۔اس ظلم سے کشمیریوں میں اند ر ہی اندر لاوا پک رہاہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح کاظلم کرکے کشمیری عوام کوپاکستان سے دورکیا جارہا ہے۔
میں کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی اور ہمدردی کااظہارکرتاہوں، انہیں اپنی غیرمشروط حمایت کایقین دلاتا ہوں اور پاکستان کے تمام مظلوم عوام سے کہتاہوں کہ وہ متحد ہوکران مظالم کے خلاف احتجاج کریں اورکشمیریوں سےیکجہتی کااظہار کریں ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 415 ویں فکری نشست سے خطاب
14 جون 2026ء
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے
پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے
صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو انگریزوں کے ایجنٹوں نے دوطبقات میں تقسیم کردیاہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے آباؤاجداد نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کا ساتھ دیا اوردوسرا طبقہ وہ ہے جس نے جنگ آزادی کوناکام بنانے اوربرصغیرکے عوام کوغلام بنائے رکھنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا، بدقسمتی سے یہی طبقہ آج پاکستان کا مالک ومختار بنابیٹھاہے اورانگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنے والی ہرآواز کو ریاستی طاقت سے دباتاچلاآرہا ہے۔
پنجاب کے عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب کے لوگ ہی پاکستان کے وفادار ہیں جبکہ باقی صوبوں کے سندھی، بلوچ، پختون،مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے جن بڑے بڑے زمیندار خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، انگریزوں نے انہیں انعام کے طورپاکستان قائم کرکے دیدیا۔ 14، اگست1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو انہی لوگوں پر مبنی فوج بنائی گئی جو حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ پاکستان کا نظام حکومت چلانے کیلئے سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئیں اورانہی خاندانوں کوان سیاسی جماعتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو، ان جماعتوں نے کبھی ملک کے غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں نہیں بھیجا۔ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام اس موروثی سیاست، وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنادیئے گئے مگرکسی سیاسی جماعت نے ملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان کی واحد طلبا تنظیم ہے جس نے عوامی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جوپاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام،موروثی سیاست اور کرپشن کے نظام کی تبدیلی کیلئے عملی جدوجہد کی۔ایم کیوایم نے عوام کو شعوردیاکہ پاکستان دوصرف فیصد جاگیرداروں، وڈیروں اورزمینداروں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے کروڑوں عوا م کا ہے اورپاکستان میں صحیح جمہوریت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجیں گے، ایم کیوایم نے محض نظام کی تبدیلی کانعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ عملی طورپر غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرناممکن کوممکن کردکھایا۔
پاکستان کی ہرسیاسی ومذہبی جماعت کا سربراہ بلدیاتی، صوبائی، قومی اورسینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جوپاکستان کافرسودہ نظام بدلنے کیلئے میدان سیاست میں آیا، الطاف حسین نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے مفادات کے بجائے عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے تحریک کی بنیاد رکھی، الطاف حسین نے نہ تو خود الیکشن لڑا اور نہ اپنے بہن بھائیوں کو لڑایا، غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ کارکنوں کو مئیرز، ڈپٹی مئیرز،ایم پی اے، ایم این اے اورسینیٹر بناکر منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ ایم کیوایم نے ملک میں برسوں سے قائم اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا اسی لئے اس نظام کی محافظ قوتوں نے ایم کیوایم کوبرداشت نہیں کیا، اسے ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی پاداش میں جہاں تحریک کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیاگیا وہیں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین اور بہنوئی اسلم ابراہانی بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔ایم کیوایم کے خلاف مظالم پنجاب میں بھی کئے گئے اور پنجاب سے ایم کیوایم کی ایک محنتی کارکن طاہرہ آصف جو قومی اسمبلی کی رکن تھیں، انہیں نوازشریف کے دور میں لاہورمیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔ ایم کیوایم نے پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی میرٹ کی بنیادپر متعدد پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اورکشمیریوں کو منتخب ایوانوں کارکن بنایا۔
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف میری عملی جدوجہد کے باعث اسٹیبلشمنٹ میری جان لینے کے درپے ہوگئی،مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اورجب کراچی میں مجھ پرقاتلانہ حملے کیلئے ہینڈ گرنیڈاستعمال کیے گئے تو میں ساتھیوں کے مشورے سے کچھ دنوں کیلئے لندن چلاآیا
1/2
2/2
اور اس کے کچھ ماہ بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیااورحقیقی کے نام سے گروپ بناکرمہاجروں کے اتحاد کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی۔ میں 34 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورجلاوطنی میں رہتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی جدوجہد میں دن رات مصروف ہوں۔
بدقسمتی سے پاکستان دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ملک بن کررہ گیا ہے اورغریب عوام غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں دہرا نظام رائج ہے، ملک کے 98 فیصد غریب عوام اردوبولتے اورپڑھتے ہیں لیکن پاکستان کاعدالتی نظام اورپورا نظام حکومت انگریزی زبان میں چلایاجارہا ہے۔ دہرے تعلیمی نظام کے باعث ایچی سن اورگرائمر اسکولوں میں صرف دولت مندخاندانوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور ان اسکولوں میں غریبوں کے بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے جاگیرداروں اورجرنیلوں کی اولادیں ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں جبکہ پاکستان کے غریب عوام 79 سال سے محنت مشقت ہی کررہے ہیں۔ انہیں پانی، گیس، بجلی اورصحت وصفائی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اوروہ کئی کئی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی باوجود گیس،بجلی کے بھاری بل اداکرنے پر مجبورہیں۔
الطاف حسین آج بھی وہی بات کررہا ہے جو 48 سال قبل کیاکرتا تھا،عمران خان جب میدان سیاست میں آئے تو انہیں فوج کی سپورٹ حاصل تھی، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے انہیں احساس ہوا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریسی ہی ملک کی اصل بیماری ہے۔ آج عمران خان بھی وہی بات کررہے ہیں جو الطاف حسین 48 سال سے کرتاچلاآرہا ہے، جب عمران خان نے نظام کی تبدیلی کی بات کی توپاکستان کو لوٹنے والوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اوروہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جوفرسودہ نظام کے خلاف آوازاٹھائے گا اس کامقدر جلاوطنی،شہادت یا جیل کی قیدہوگی۔
پنجاب کے نوجوانوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ پاکستان انگریزوں کے ایجنٹ چند مخصوص خاندانوں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاپاکستان ہے لہٰذا پاکستان کے اصل مالک ومختار اور ملک کو چلانے والے بھی غریب مزدور، ہاری، کسان اورمحنت کش ہی ہونے چاہئیں۔ ہمیں انگریزوں کی غلامی کا طوق اتارپھینکنا ہوگا، ہمیں ایساتعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں غریبوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، ہماراعدالتی نظام بھی ایسا ہوناچاہیے جس میں عوام کوسستااورفوری انصاف میسرہو،جس میں کوئی غریب بھی مہنگے وکیل کی فیس نہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خودلڑکرانصاف حاصل کرسکے۔
میں سمجھتاہوں کہ 2 فیصد کرپٹ جاگیرداروں اورلٹیروں سے نجات میں ہی پاکستان کی سلامتی و بقاء ہے، جب تک ملک کو ان چوروں اورڈاکوؤں سے آزاد نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک ہمیں آزادی کاپھل نہیں مل سکتا۔ اگرپاکستان کے مظلوم عوام فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو بدلنے کیلئے میدان عمل میں نہیں آئے تو 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام نسل درنسل محنت مزدوری ہی کرتے رہیں گے،ان کی حالت کبھی نہیں بدلے گی اورملک کانظام حکومت کبھی ان کے ہاتھ میں نہیں آئے گا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئے غریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے۔
ایم کیوایم ملک میں غریبوں کاانقلاب برپاکرناچاہتی تھی اسی لئے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کرکے اسے کوختم کرنے کی کوشش کی گئی،ایم کیوایم کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے لیکن ظلم وجبرسے ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکا، ایم کیوایم کے چاہنے والے پنجاب سمیت پورے ملک میں موجود ہیں۔ غداری کے سرٹیفکیٹ دیکر اور بہتان تراشی کرکے پنجاب کے عوام کو بہت بے وقوف بنالیا لیکن اب منفی پروپیگنڈوں اورجھوٹے الزامات لگاکر پنجاب کے نوجوانوں کو الطاف حسین سے متنفرنہیں کیاجاسکتا۔
میں ایم کیوایم پنجاب کے وفاپرست کارکنوں کو رات دن محنت کرنے اورتحریک کاپیغام پھیلانے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس مناکر ثابت کردیا کہ پنجاب میں کل بھی ایم کیوایم کے سچے نظریاتی ساتھی موجود تھے اور تمام ترمشکلات کے باوجود آج بھی موجود ہیں اور انہوں نے تحریک کے مشن کو جاری رکھا ہواہے۔ انشااللہ یہ جدوجہد رنگ لائے گی اورایک وقت آئے گاجب پورا پنجاب ایم کیوایم کے پرچموں سے سجا ہوگا۔
الطاف حسین
15، جون2026ء
اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اور اسٹیٹس کوتوڑا۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہےلیکن اب ہم اس سسٹم کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سےخطاب
اے پی ایم ایس او واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے سیاسی افق پر ایم کیوایم کوجنم دیا۔ آجAPMSO کی جدوجہد کو48 سال ہوگئے جس پر میں اپنے تمام تحریکی ساتھیوں اورعوام کومبارکباد پیش کرتاہوں۔
اے پی ایم ایس او نے پاکستان کے ایلیٹ کلچر میں ایک ایسی تنظیم کی بنیادرکھی جوغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، جس کامنشورتمام قوموں کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوانکے حقوق دلاناہے، اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اوراسٹیٹس کوکوتوڑتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیجا۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کاسربراہ خود کئی کئی نشستوں سے الیکشن لڑتاہے لیکن ایم کیوایم کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کوایوانوں میں بھیجا اورخود الیکشن نہیں لڑا۔ایم کیوایم نےمذہبی منافرت کی مخالفت کی اوریہ پیغام دیاکہ پاکستان صرف مسلمانوں کانہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کاوطن ہے، پاکستان میں آباد عیسائی، ہندو، سکھ اورتمام غیرمسلم بھی برابرکے پاکستانی ہیں، پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کابھی پاکستان پر برابر کاحق ہے اوران کے ساتھ مذہب کی بنیادپر امتیازنہیں برتاجاناچاہیے، اسی طرح شہریوں میں فقہ اورمسلک کی بنیادپر بھی لوگوں میں آپس میں نفرت نہیں ہوناچاہیے اورہمیں کسی کواس کے فقہ یامسلک کی بنیادپر کافر قرار نہیں دیناچاہیے، ایم کیوایم نے کاروکاری جیسی فرسودہ رسومات کی بھی کھل کی مخالفت کی اوراس کاشکارہونے والی لڑکیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے اورانہیں اپنے مرکزمیں پناہ دی، ایم کیوایم نے غیرمسلم لڑکیوں کے اغوااور ان سے جبراً مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیوں کے خلاف آوازاٹھائی۔ پاکستان میں رائج اس اسٹیٹس کو اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف آوازبلند کرنے پراسٹیبلشمنٹ نے مجھے غدارقراردیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جس کسی نے بھی اسٹیٹس کو اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی پالیسیوں کے خلاف آوازبلند کی تواس کی قسمت میں یا توپھانسی، یاقیدہوتی ہے یاجلاوطنی ہوتی ہے۔ مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیا گیا، عمران خان کابھی قصور یہ ہے کہ اس نے کرپٹ جرنیلوں اوران کے آقاؤں کوللکارا۔
ہماری جدوجہدانصافیوں کے خلاف ہے، 53سال گزرجانے کے باوجود کوٹہ سسٹم جیساغیرمنصفانہ نظام آج بھی رائج ہے جوسندھ میں شہری اوردیہی عوام کوتقسیم کرتاہے، جس کی بنیادپر شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی ہیں۔ ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہے لیکن اب ہم اس کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، اس ظالمانہ اورغیرمنصفانہ سسٹم کواب ختم ہوناچاہیے۔ میں غریب سندھیوں، ہاریوں اورمزدوروں سے بھی کہتاہوں کہ وہ بھی اس سسٹم کے خلاف آوازاٹھائیں کیوں کہ اس سے غریب سندھیوں کونہیں بلکہ وڈیروں کو فائدہ پہنچ رہاہے، یہ وڈیرے غریب سندھیوں پر بھی ظلم ڈھاتے ہیں اورانکی بچیوں تک کواٹھالے جاتے ہیں۔ غریب سندھیوں کوچاہیے کہ وہ ان وڈیروں سے نجات کے لئے میدان عمل میں آئیں۔میں تمام غریب اورپڑھے لکھے سندھی نوجوانوں کوبھی دعوت دیتاہوں کہ وہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں، ہم متحد ہوکراس فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
میں یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے پر ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، یوٹیوبرتحسین عباسی، ان کے بیٹے اوردیگربزرگ کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدیدمذمت کرتا ہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیاکسی سیاسی جماعت کایوم تاسیس منانا جرم ہے؟ اسی طرح ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پہنور، فیصل مجیب اوردیگرساتھی بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ ان تمام کورہا کیاجائے اوریہ ظلم وستم بند کیاجائے۔
کشمیریوں کوحق دینے کے بجائے لاشیں دی جا رہی ہیں، اب کشمیری ”کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگائیں گے؟ الطاف حسین
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#11JuneAltafHai#RightsMovementAJK
فو ج نے ماضی میں کشمیریوں کے نام پر دنیا بھر سے کھربوں ڈالر وصول کئے، مذہبی جماعتوں نے کشمیریوں کے لئے کیمپ لگا کر عوام سے چندے لئے، اربوں روپے جمع کئے، کشمیری عوام کونعرہ دیاگیا کہ”کشمیربنے گا پاکستان“ لیکن آج 80 سال ہونے کے باوجود کشمیریوں کو ان کاحق نہیں دیاگیا، کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، لیکن جب کشمیریوں نے اپناحق مانگا تو کشمیریوں کوغدار کہا جارہا ہے، کشمیریوں کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کوانڈین ایجنٹ قراردیدیا گیا۔
11جو ن 1978ء کواے پی ایم ایس او کاپرچم بلند ہوا، مہاجروں اورتمام مظلوموں کے حقوق کی بات کی، کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف آوازاٹھائی، توپنجابیوں، پشتونوں، کشمیریوں، سب نے کہاالطاف حسین غدار ہے، الطاف حسین غداری کے ان الزامات پر صبرکرتارہا، سب کے طعنے سنتارہا، کراچی سے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا شروع ہوئے لیکن پھرجس نے حق کی بات کی اسے انڈین ایجنٹ کہا گیا، اب کشمیریوں نے حق مانگا توانہیں بھی غدارقراردے دیا گیا۔ وہ اپنے حق کے لئے احتجاج کررہے ہیں تو کشمیری عوام پر فوج کشی کی جارہی ہے۔پورے کشمیرخصوصاًراولاکوٹ میں رینجرز اور پولیس نے گھروں میں گھس کرلوٹ مار کی، دکانوں کولوٹا، پرامن مظاہرین پر اسٹیٹ فائرنگ کی،کتنے ہی کشمیری شہید کئے گئے، انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ کشمیرمیں صرف ہی مرد ہی شہید نہیں ہوئےبلکہ چھوٹے چھوٹے بچے تک شہید ہوئے۔آج جس طرح کشمیر میں مظالم کئے جارہے ہیں، کیا یہ ظلم وستم دیکھ کرکوئی کشمیری پاکستان میں شامل ہوناچاہے گا؟ کل تک کشمیر ی آپ کاساتھ دیتے تھے، آپ کےلئے جانیں دیتے تھے، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ نعرے لگاتے تھے، لیکن آج آپ انہیں ان کاحق دینے کے بجائے گولیاں اورلاشیں دے رہے ہیں، پھر” کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگے گا؟ کشمیری اب یہ نعرہ لگانانہیں چاہتے، اب کشمیری عوام صرف آزاداورخودمختار ریاست کشمیر چاہتے ہیں، وہ بھارت یا پاکستان، کسی کاحصہ بننا نہیں چاہتے۔ میرا کشمیریوں کویہی پیغام ہےکہ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی عزت وناموس کے لئے کسی کا حصہ بننے کے بجائے آزاد وخودمختار کشمیر بنائیں۔الطاف حسین نے کشمیریوں کی ہمیشہ حمایت کی، آج پھر میں کشمیری عوام کویہ یقین دلاتا ہوں کہ جب تک الطاف حسین کی جان میں جان ہے، وہ کشمیریو ں کی حمایت کرتا رہے گااورعمل کے میدان میں کشمیریوں کے لئے جوکرسکتاہے،کرتا رہے گا۔
میں حکومت پاکستان اور فوج کے جرنیلوں سے کہوں گا کہ وہ خدارا ہوشمندی سے کام لیں، کشمیریوں پر ظلم بند کریں اوراس بات کوسمجھیں کہ جہاں عوام پر حق مانگنے پر ظلم وستم ڈھایاجائے، وہاں کاجغرافیہ تبدیل ہوجاتا ہے۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے کہوں گا کہ آپ امریکہ اورایران میں ثالثی کرارہے ہیں، لیکن اپنے ملک میں عوام کے ساتھ مفاہمت کے بجائے ان پر ظلم ہورہا ہے، بلوچوں پر ظلم ہورہاہے، پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والوں کوانتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عمران خان کوقید میں رکھا گیا، گلگت بلتستان میں محرومیاں ہیں، سندھ میں لوگ احتجاج کررہے ہیں، مہاجروں کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ عمل نفرتوں کی آگ پر مزید تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ خدارا یہ ظلم بند کرایاجائے۔
الطاف حسین
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
13جون 2026ء
کشمیر میں فوج کشی فی الفوربند کی جائے۔ الطاف حسین
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#RightsMovementAJK
پاکستان اور انڈیا گزشتہ 80 برسوں سے کشمیر کے ساتھ فٹبال کی طرح کھیلتے رہے ہیں، دونوں ممالک کشمیرکو فٹبال کی طرح لات مار کرایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہے ہیں اور80 برسوں سے کشمیری عوام کے ساتھ مذاق ہوتا رہا ہے۔ اصولی طورپرکشمیر، کشمیریوں کا ہے اور اب کشمیریوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ کشمیر انہی کا رہے گا۔ یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آئینی وقانونی طورپر آزادکشمیرپاکستان کا حصہ نہیں ہے، جولوگ یہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہوچکا ہے، وہ غلط کہتے ہیں،حکومت پاکستان خو د بھی سپریم کورٹ میں باقاعدہ یہ بات تسلیم کرچکی ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کاحصہ نہیں ہے۔ اگر آزاد کشمیرآئینی طورپر پاکستان کا حصہ ہوتا توآج پاکستان کے چارنہیں پانچ صوبے ہوتے۔
آزادکشمیر کہنے کوآزاد ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزادکشمیر کواسلام آباد سے چلایا جارہا ہے اورآزاد کشمیر اپنے فیصلے کرنے میں آزاد نہیں ہے۔ آئینی طورپروفاق پاکستان کوآزادکشمیر کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔آزادکشمیر کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کے لئے پرامن احتجاج کررہے ہیں تو وہاں رینجرز، فرنٹیئر کانسٹبلری اورسیکوریٹی فورسزبھیج کرطاقت کے ذریعے کشمیری عوام کو دبایا جارہا ہے۔جبکہ وفاق پاکستان کے پاس آئینی طورپرایساکوئی اختیارنہیں ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے پولیس، رینجرز، ایف سی اوردیگر سیکوریٹی فورسز کوآزادکشمیر میں بھیجیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تویہ اقدام آزادکشمیر کے 1974کے ایکٹ کی روح کے سراسرخلاف ہے۔ اگر وفاق پاکستان یہ کہتا ہے کہ ہم یہ اقدام آزادکشمیر کی حکومت کی درخواست پر کرتے ہیں تو دراصل یہ بات آزاد کشمیر میں مداخلت کرنے کے جواز اورآزاد کشمیرمیں مداخلت کرنے کے بہانے کے طورپر بیان کی جاتی ہے۔
اس وقت آزادکشمیر کے علاقوں خصوصاً راولاکوٹ سے جواطلاعات سامنے آرہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ آزادکشمیر کے لوگ بتارہے ہیں کہ سیکوریٹی فورسز وہاں پرامن مظاہرین کوگولیاں مار ری ہیں، وہاں بے شمار ہلاکتیں ہوئی ہیں، لاشوں کوبھی غائب کردیاگیا ہے،انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے، پولیس اورسیکوریٹی فورسز وہاں گھروں میں گھس رہی ہیں، دکانوں میں لوٹ مارکررہی ہیں، علاقے میں کرفیولگا دیا گیا ہے اورلوگوں کوگھروں سے نکلنے نہیں دیاگیا، حتیٰ کہ انہیں جمعے کی نماز بھی اداکرنے نہیں دی گئی۔ میں آزادکشمیر میں ہونے والے ان یزیدی مظالم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورحکومت پاکستان سے کہتا ہوں کہ کشمیرمیں فوج کشی اورمظالم کایہ سلسلہ فی الفوربند کردیاجائے، یہ کشمیر کے لئے بھی بہترہے اور پاکستان کے لئے بھی بہتر ہے۔ میں اورمیری ایم کیوایم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتی ہے اورہم کشمیریوں کے تمام جائزمطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ارباب اختیارسے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کے تمام حقوق دیئے جائیں اوران کی محرومی دور کی جائے۔
میں پوچھتا ہوں کہ اپناحق مانگنے پر قوموں پر مظالم ڈھانے اورطاقت سے کچلنے کی پالیسی سے ہم ملک کو کہاں لیکر جارہے ہیں؟ ایسے ہی مظالم کے نتیجے میں آج بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں پاکستان کی عملداری ختم ہوچکی ہے۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے نام پر آبادیوں کوخالی کرکے لوگوں کوآئی ڈی پیز بنایا جارہا ہے، مسلسل فوجی آپریشن، ڈرون حملوں اوربمباری کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں نفرت کی آگ کے شعلے آسمانوں کوچھورہے ہیں، اندرون سندھ میں پہلے سندھیوں کے خلاف آپریشن کیا گیا اورپھرمہاجروں کے خلاف فوج کشی کی گئی، پنجاب میں بھی جوکریک ڈاؤن کیا گیا اس کی وجہ سے پنجاب کے نوجوانوں میں بھی اس ظلم کے خلاف نفرت پیدا ہورہی ہے، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوان کی بہنوں اوروکلاء تک سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اوراب کشمیر میں بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ میں ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ خداکے لئے اپنے ملک کےعوام پریہ ظلم بند کردو اور پاکستان پر رحم کرو، ظلم وستم کے باعث پاکستان پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے، خدارا باقی ماندہ پاکستان کے ساتھ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 414 ویں فکری نشست سے خطاب
12جون 2026ء
جس ملک میں ظلم وجبر سے حکومت کی جاتی ہے اس ملک کاجغرافیہ برقرارنہیں رہتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان14، اگست1947ء کو آزاد ہوا، کیا پاکستان میں آئین وقانون کی حکمرانی ہے؟
#11JuneAltafHai
پاکستان کی تاریخ میں جاگیردار، وڈیرے، سردار، سرمایہ داراور بے پناہ دولت رکھنے والے افراد یا ان کی اولادوں کوقتل سمیت سنگین سے سنگین جرم کا بھی ارتکاب کرنے پر کبھی پھانسی کی سزا دی گئی؟ پاکستان میں Filthy rich جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار بے پناہ دولت مند کیسے بنے؟
جائزہ لیاجائے کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ کے بڑے بڑے رہنماء اوراکابرین کے اثاثے قیام پاکستان کے وقت کیاتھے اورآج ان کے اثاثوں کی مالیت کیاہے۔ دنیا میں چند خاندان جو نسل درنسل امیرتھے ان کی اورانکی آل اولاد کی امیری کا ایک تسلسل ہوتا ہے لیکن ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی کے مالی اثاثے اگر 1947ء میں 100 روپے تھے وہ آج بڑھ کر ایک ارب یا ایک کھرب کے ہوگئے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئین اورقانون کہاں ہے؟ کوئی جاگیردار،وڈیرہ یاان کے بیٹے صوبہ سندھ، بلوچستان یا ملک میں کسی بھی جگہ کسی ہاری کسان یا مزدور کاقتل کردیں تب بھی ان میں سے کسی ایک کوبھی ان کے سنگین جرائم پر سزا نہیں ہوئی۔اس کامطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں سزا صرف غریب اورمحروم طبقے کیلئے ہے توپھرملک کاآئین اورقانون کہاں ہے؟
ستمبر2015ء میں لاہورہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تحریر وتقریر اورتصویر کو نشروشائع کرنے پر چھ ماہ کیلئے پابندی عائد کی، یہ پابندی مارچ2016ء میں ختم ہوجانی چاہیے تھی، آج 2026ء کا سال ہے، 11 سال بیت گئے لیکن یہ پابندی آج تک ختم نہیں کی گئی تو پھریہ سوال پیداہوگاکہ ملک کاآئین، قانون اورانصاف کہاں ہے؟
الطاف حسین نے اپنی تحریکی جدوجہد کاآغاز جامعہ کراچی سے کیااور11، جون 1978ء کو ایک طلباء تنظیم APMSO کی بنیاد رکھی،گزشتہ روز 11، جون 2026ء کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس تھا، طاقت کے بل پر پابندیاں لگاکر ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو اوراس سے متصل مرکزی دفاترخورشید بیگم میموریل ہال اور پبلک سیکریٹریٹ کو seal کردیاگیا ہے، ایم کیوایم کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی کے باعث کارکنان اے پی ایم ایس او کے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماعات نہیں کرسکتے، ایم کیوایم اور الطاف حسین کے جھنڈے نہیں اٹھاسکتے تو اب وہ لوگ کیاکرتے جو APMSO کا48 واں یوم تاسیس منانا چاہتے ہیں؟
ہم نے امن عامہ کی خاطرآئین وقانون کے تحت پرامن جدوجہد کاراستہ اختیارکیا اور امن عامہ کی خاطر وفاپرست کارکنان وعوام سے کہاکہ وہ سڑکوں کے بجائے اپنے گھروں کی چاردیواری میں رہ کر 48 واں یوم تاسیس منائیں۔ اس سلسلے میں ایک سینئر صحافی تحسین عباسی نے اپنے دفترجہاں وہ پاکستان ٹائمز نیوز کے نام سے اپنا اخبار اور یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، وہاں یوم تاسیس پرکیک کاٹنے کاپروگرام رکھاجس میں ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئراوربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ،تحسین عباسی اوران کے 15 سالہ بیٹے سمیت 12 سے 13 افراد شریک تھے، وہاں پولیس نے بلاجواز چھاپہ مارا اورتمام افراد کو گرفتارکرلیا۔
ایم کیوایم پریہ ظلم 48 برسوں سے ہوتاچلاآرہا ہے، یہ ظلم پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی، رینجرز،پولیس اور حکمراں سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔ میں سوال کرتا ہوں کہ اے پی ایم ایس او کا 48واں یوم تاسیس ایک دفتر کی چاردیواری میں منایاجارہاتھا تو پھر ان لوگوں کو کس آئین اورقانون کے تحت گرفتارکیاگیا؟
دین اسلام، قرآن مجید اوراحادیث کے مطابق ظلم وجبر سے حکومت چلانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، مولاعلی کرم اللہ وجہ کاقول ہے کہ ”حکومتیں کفرسے تو چل سکتی ہیں مگرظلم وجبر اورناانصافیوں سے نہیں چل سکتیں“ جس ملک میں ظلم وجبر سے حکومت کی جاتی ہیں اس ملک کاجغرافیہ برقرارنہیں رہتا اوروہ جغرافیہ تقسیم ہوجاتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی بہت معاشی بدحالی، تباہی اوربربادی کی طرف گامزن ہے، پاکستان کی زندگی آئی ایم ایف، ورلڈ بنک کے قرضوں اورعالمی مالیاتی اداروں کی امداد کے وینٹی لیٹرپر چل رہی ہے، اس کے باوجود پاکستان کے طاقتور اداروں اور حکومت کو زرہ برابر بھی احساس نہیں کہ اگرظلم وبربریت کایہ سلسلہ جاری رہا تو اس کاانجام کیاہوگا؟
میں ارباب اختیارسے کہتاہوں کہ وہ اس ظلم کاسلسلہ بندکریں، ایم کیوایم کے تمام گرفتارشدگان کورہاکریں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 414 ویں فکری نشست سے خطاب
12، جون2026ء
سینئر صحافی،یوٹیوبر اور وی لاگرصابر علی کو ایم کیوایم کے بانی وقائدالطاف حسین کاخراج عقیدت
#SabirAliRIP
صابر علی ایک سینئرصحافی تھے جنہوں نے 40سال سے زائد پیشہ صحافت میں گزارے، وہ اخبارات سے وابستہ رہے لیکن کبھی اپنے اصولوں سے نہیں ہٹے،بہت سے دیگرلوگوں کی طرح انہوں نے اپنے ظرف وضمیر کونہیں بیچا اورسچ کوسچ لکھتے رہے۔انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل میں بھی حقیقت پسندانہ تجزیے اورتبصرے پیش کئے اورعوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ان کی حق پرستانہ صحافت نئے آنے والے صحافیوں، یوٹیوبرز اوروی لاگرز کے لئے ایک مثال ہے۔ صابرعلی کاانتقال نہ صرف ان کے اہل خانہ کے لئے بلکہ حق اورسچ کی راہ پرچلنے والے تمام لوگوں کے لئے کسی نقصان سے کم نہیں۔ صابرعلی کے انتقال پرمجھے خود بھی ذاتی طورپر بہت دکھ ہواہے۔ میں صابر علی مرحوم کے تمام سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت وہمدرد ی کا اظہار کرتاہوں اورانہیں یقین دلاتا ہوں کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ صابرعلی مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور تمام سوگواروں کو صبر جمیل عطافرمائے۔آمین
الطاف حسین
12جون 2026ء
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب سے الطاف حسین کا مطالبہ
#11JuneAltafHai
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مورخہ 11جون 2026ء بروز جمعرات APMSO (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن) کا 48 واں یوم تاسیس پرامن طورپر پورے پاکستان میں منایاجارہا ہے۔اس سلسلے میں کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل پرواقع سینئر صحافی، یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے دفتر میں ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا جارہاتھا کہ کراچی پولیس کی بڑی نفری نے وہاں چھاپہ مارکرایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر اوربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ اورتحسین عباسی سمیت دس کارکنوں کوگرفتارکرلیاجوآئین وقانون کے سراسر منافی ہے۔
آپ جناب فیلڈمارشل عاصم منیرسے مطالبہ ہے کہ فی الفورمداخلت کرکے بزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ سمیت تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں اورکراچی سمیت سندھ بھر کی پولیس کواحکامات صادرفرمائیں کہ وہ بند کمروں میں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے والے ایم کیوایم کے پرامن کارکنوں اورہمدردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کریں۔
الطاف حسین
11جون 2026ء