الحمدللہ، پشاور کے علاقے پشتخرہ سے لاپتہ ہونے والی دونوں بچیاں ڈیرہ اسماعیل خان سے بحفاظت برآمد کرلی گئی ہیں۔
آپ سب کی دعاؤں، نیک تمناؤں اور پختونخوا پولیس کی تعاون کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا خوشی ہوگی کہ عید سے قبل جو باپ ایک ویڈیو میں رو رو کر مجھ سے اپنی بچیوں کی بازیابی میں مدد کی اپیل کر رہا تھا، آج اُسی نے ہنستے ہوئے مجھے ٹیلی فون کیا۔
بے شک اللہ ہی بہترین انتظام کرنے والا ہے۔
مولانا فضل الرحمنٰ کا جلسہ نیشنل میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا گیا، سمجھ سے باہر ہے پاکستان کا کرنٹ افئیرز میڈیا اگر مین سٹریم ایونٹس بھی نہیں دکھا سکتا تو وہ Survive کیسے کرے گا، بہرحال JUI نے بہت بڑا پاور شو کیا ہے، سیاست کے قبرستان میں کچھ زور تو اٹھا ہے!!
یہ ہمارا المیہ ہے
ایمل ولی خان ، ان کے والد، ان کے دادا اور پردادا نے اس قوم کے لئے قربانیاں دیں
یہاں کے بچوں کو تعلیم کی روشنی کیلئے پہلا قدم ایمل ولی کے آباواجداد نے اٹھایا
اور آج
ایک راہ چلتے کے بے ہودہ الزامات پر ایمل ولی کو صفائی دینی پڑ رہی ہے
حضرت علی کا قول ہے
جس سے نیکی کرو اس کے شر سے بچو
ایمل ولی اور ولی باغ نے جس جس سے نیکی کی ہے جواب میں اسی سانپ نے انہیں ڈسا ہے
ایمل ولی کے ختم نبوت کے ایمان پر کسی کو نہ کوئی شک ہے اور نہ ہو سکتا ہے
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
اسلام میں عقیدۂ ختمِ نبوت بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے۔
اس کے مطابق حضور ﷺ آخری نبی ہیں
اور آپ ﷺ کی شریعت قیامت تک کے لیے مکمل اور جاری
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
بہت افسوس کی بات ہے کہ تین دن گزر گئے، مگر ہمارے علماء کرام شہید ہو رہے ہیں، ہمارے پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں، ہمارے عام لوگ شہید ہو رہے ہیں، ہمارے سیاسی کارکن اور رہنما ٹارگٹ بن رہے ہیں۔ کسی بھی جماعت کا ایم این اے یا ایم پی اے اپنے حلقے میں آزادی سے نہیں گھوم سکتا۔ خیبر پختونخوا میں علماء کرام کو، جو مساجد میں یا مدارس میں تدریس کرتے ہیں، براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مجھے میڈیا کے بھائیوں اور ان کے مالکان سے بھی گلہ ہے۔ آپ کوکین بیچنے والی عورتوں کو تو ٹی وی پر بار بار دکھاتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور علماء کرام کے لیے آپ نے کبھی پانچ منٹ بھی نہیں نکالے۔
بنوں میں آج بھی سیکیورٹی وین سے نو کروڑ روپے لوٹ لیے گئے۔ کل بازار میں پل اڑا دیا گیا۔ اس سے پہلے پورا پولیس اسٹیشن دھماکے سے اڑا دیا گیا، آرمرڈ گاڑی بھی تباہ ہوگئی، مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
مجھے یہاں کوئی وفاقی وزیرِ داخلہ نظر نہیں آتا کہ میں اس سے سوال کروں۔ خواجہ صاحب ہمیں افغانستان کے قصے سناتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، بسم اللہ، کارروائی کریں، آپ کو کس نے روکا ہے؟
جناب! ہمارے صوبے میں معدنیات ہیں، بجلی ہے، گیس ہے، تیل ہے، زمرد ہے، ریئر ارتھ منرلز ہیں، جن کے پیچھے امریکہ اور چین دونوں لگے ہوئے ہیں۔ سونا بھی ہمارے صوبے میں ہے۔ لیکن ہمیں جینے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ ہمارے پولیس اہلکار شہادتیں دے رہے ہیں، مگر ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی۔
ہم سب کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ علماء کرام محفوظ نہیں، اساتذہ محفوظ نہیں، کالج اور اسکول محفوظ نہیں، ڈاکٹر محفوظ نہیں۔ آخر ہم جائیں تو کہاں جائیں؟
خدارا! ہم پاکستانی ہیں، کسی دوسرے ملک کے نہیں۔ صرف اس لیے کہ ہمارا ڈومیسائل پنجاب کا نہیں، ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے صوبے میں سب کچھ ہے، مگر پھر بھی ہم ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر بھارت حملہ کرے تو سب سے پہلے پختون کھڑا ہوتا ہے۔ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آپ کا رویہ خیبر پختونخوا اور پختونوں کے ساتھ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔
آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا بیرونی امداد کے نام پر جو پیسہ آیا، ہمیں بتایا جائے کہ وہ کہاں خرچ ہوا؟ ہمارے صوبے کو کیا ملا؟ نہ بجلی ملتی ہے، نہ گیس۔
جب ہم اٹک کراس کرتے ہیں تو ہماری تذلیل کی جاتی ہے۔ ایم این اے اور ان کی فیملیوں کو بھی روکا جاتا ہے۔ ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، جو بہت غلط ہے۔
خیبر پختونخوا کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟ ہمارے وسائل تو استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ہمیں امن نہیں دیا جاتا۔
اگر یہی صورتحال رہی تو کل پولیس بھی آپ سے دور ہو جائے گی۔ آپ کی سیاسی لڑائیوں کی سزا خیبر پختونخوا کے عوام اور پختونوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟
خدارا! ہم پختونوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو پڑھنے دو، ہمیں روزگار اور امن دو۔
ایم این اے نور عالم خان کا قومی اسمبلی میں خطاب
آئیں ان سب پر لعنت بھیجیں۔۔۔۔۔ جب بھی آپ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوائیں یا مئی کا بجلی کا بل ادا کریں تو ان چاروں شخصیات کے آبائو اجداد، آل اولاد اور انکی بدترین گورننس کا دفاع کرنے والوں کے آبائو اجداد اور آل اولاد پر لعنت ضرور بھیجئے گا، انہیں بد دعائیں ضرور دیجئے گا۔۔۔۔
چار سدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ کے خاندان سے اظہارِ تعزیت کے لیے حاضر ہوا اس موقع پر آر پی او، ڈی پی او اور ڈی سی صاحب بھی موجود تھے جنھوں نے قاتلوں کی گرفتاری سے متعلق اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا ۔
ضلعی انتظامیہ نے مفتی صاحب کی شہادت کے بعد نازک حالات کو جس خوش اسلوبی سے کنٹرول کیا وہ قابل تحسین ہے ۔
سعودی عرب میں موجود متعلقہ ڈپلومیٹک چینل سے بھی یہ پوسٹ سعودی اتھارٹیز کو بھجوا دی گئ ہے اور انہوں نے فوری ایکشن کی یقین دہانی کروائی ہے میں ڈنمارک میں سعودی سفیر کو بھی یہ فارورڈ کر رہا ہوں انشاءاللہ یہ بندہ اپنے انجام کو پہنچے گا
� نداء عاجل إلى السلطات المختصة في المملكة العربية السعودية، وإلى العلماء والدعاة الكرام:
الشخص المعروف باسم “ساقي جان 804” أدار حملة كراهية وتحريض ممنهجة ضد العالم البارز مولانا محمد إدريس، رحمه الله.
لقد استمر هذا التحريض لأيام، حيث كان يحرّض الناس ضده بشكل علني وخطير، وبعد نحو 10 أيام فقط من هذه الحملة، تم اغتيال الشيخ قبل يومين في هجوم إرهابي جبان.
مولانا محمد إدريس لم يكن إلا عالمًا بارزًا وصوتًا داعمًا للسلام، وكان منخرطًا في جهود التهدئة والحوار، إلا أن خطاب الكراهية والتحريض ضده ساهم في خلق بيئة خطيرة انتهت بجريمة اغتياله.
❗ إن استخدام أراضي المملكة لنشر حملات تحريض وتعريض حياة العلماء للخطر أمر لا يمكن السكوت عنه.
نطالب بـ:
فتح تحقيق عاجل في هذا الحساب ونشاطه التحريضي.
محاسبة كل من يثبت تورطه في نشر الكراهية والتحريض.
وقف أي منصات تُستخدم لتهديد حياة العلماء والدعاة.
كما ندعو العلماء إلى إدانة واضحة لهذه الحملات التي تزرع الفتنة وتؤدي إلى سفك الدماء.
رحم الله مولانا محمد إدريس، وحفظ الله العلماء من كل سوء
@Saudi_MoiaEN
@MofaSaudiEN
@SPAregions@HRCSaudi1@Absher@Saudi_Gazette
مولانا فضل الرحمن کا مولانا ادریس کے قاتل دھشت گردوں کے لیے انتہائی سخت پیغام ۔
"تم قاتل ہو، مرتد ہو اور تمھارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔"
ہم نے پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء کے ساتھ متفقہ طور پر کراچی سے لیکر چترال تک اتفاق کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعا ناجائز ہے ، متفقہ طور پر ، تحریری طور پر لیکھا ہوا فیصلہ
پاکستان کے طول عرض کے لاکھوں علماء کیا دین کو نہیں سمجھتے؟
اور تم بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو!
اپ کی حیثیت بھگوڑے کی ہے۔ اپنے اپ کو مجاہد کہتے ہو ؟ شرم نہیں آتی !
تم مولانا سمیع الحق کو شہید کرو گے ؟
میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
تم مولانا حسن جان کو شہید کرو گے میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
تم شیخ ادریس کو شہید کروگے ۔ میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
ہم پڑھے لیکھے لوگ ہیں ۔ہم تمہاری طرح جاہل نہیں۔
چارسدہ:
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہہیں ؟
اکابر علماء کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا حسین احمد مدنی شیخ الاسلام کو مرتد کہتے ہیں؟
ان کو مرتد کہنا دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ اپنے اپکو مرتد کہنا ہے
جمعیت علماء اسلام کو مرتد کہنا علماء کرام کو مرتد کہنا یہ دلیل ہے کہ تم قاتل مرتد ہواور تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں
مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان صاحب کو کم از کم یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کہ جان ہتھیلی پہ رکھ کر بھی حق بات کہہ دیتے ہیں، اسی لئے ان پر جتنے بھی حملے ہوئے وہ صرف اس لئے ہوئے کہ یہ بندہ ریاست کا ساتھ کیوں دیتا ہے؟ قانون، آئین کو کیوں مانتا ہے؟ اب ریاست جب ایسے لوگوں کیساتھ زیادتی کرتی ہے تو افسوس ہوتا ہے لیکن کون پروا کرتا ہے؟ طاقت کا نشہ اندھا کر دیتا ہے
شہید مولانا شیخ ادریس صاحب کے ساتھ نہایت ہی قریبی ذاتی تعلق اور قربت رہی۔ ہم ایک ساتھ حج اور عمرے کے ساتھی رہے۔ پھر میرے گاؤں اتمانزئی میں شیخ صاحب کے والدِ محترم کا باچا خان کے دکانوں میں کلینک تھا، اور باچا خان کے وقتوں سے لے کر اُن کے دادا محترم، جو اُس وقت دیوبند سے فارغ التحصیل تھے، تک ہمارے خاندانی مراسم نے ہمارے تعلق کو مزید مضبوط بنائے رکھا۔ پھر جب شیخ صاحب بطور امیدوار صوبائی اسمبلی ضمنی انتخابات میں میدان میں آئے، تب بھی ہمارے محبت اور خلوص کا یہ رشتہ اسی طرح قائم و دائم رہا اور رہبرتحریک اسفندیار ولی خان نے اُن کیلئے بذات خود کمپین چلائی۔
آج کا دن ذاتی تعلق سے بڑھ کر اس لیے بھی بھاری ہے کہ شیخ ادریس صاحب ایک قابلِ فخر پشتون عالمِ دین اور چارسدہ کی پہچان تھے۔ شیخ صاحب سمیت اُن تمام شہداء کے لیے اے این پی جو بھی کر سکتی ہے، وہ کرے گی، کیونکہ اے این پی اس سرزمین میں دہشت و وحشت کے خلاف اور امن کے حق میں اُٹھنے والی تحریک کا نام ہے۔
دکھ کی اس گھڑی میں شیخ صاحب کے خاندان، شاگردوں اور پارٹی کے ساتھ اے این پی اپنے آپ کو برابر کی شریک سمجھتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام نے شیخ صاحب کی شہادت کے تناظر میں جو تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اے این پی بھی شیخ صاحب کی شہادت کے باعث تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے، کیونکہ شیخ ادریس صاحب کی شہادت صرف جمعیت علماء اسلام کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔