گھر میں ہیں بس چھے ہی لوگ،
چار دیواریں چَھت اور میں،
رات سانولی ایک سہیلی،
گورا چِٹا دن ہے دوست،
ٹہلنے نکلے تنہا پرچھائی،
میں بھی اُسکے پیچھے چلوں،
نیلے امبر کے کاغذ پر،
پنچھی ہوکر چِتر بنوں،
اِندر دَھنُش کی تِرچھی ڈالی پر،
چِپکی گیلی گیلی اوس،
گھر میں ہیں بس چھے ہی لوگ۔