ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
A proud moment for Khyber Pakhtunkhwa and Pakistan!
Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board — KPITB — received the prestigious ASOCIO Digital Government Award 2026 in Jakarta, Indonesia.
This international recognition reflects the digital transformation journey being driven under the Chief Minister’s Good Governance Roadmap and Digital KP Vision 2030.
It recognizes our commitment to making government services more digital, integrated, transparent and citizen-centric.
This achievement belongs to the Government of Khyber Pakhtunkhwa, the entire KPITB team, and everyone contributing to Digital KP.
From KP to the world — Digital KP is making its mark!
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
The best jihad is a word of justice spoken before an oppressive ruler
”افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق اور انصاف کی بات کہنا ہے۔“
— Prophet Muhammad ﷺ
Sunan Abi Dawud 4344
سہیل آفریدی کا قافلہ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا ہے ان علاقوں میں کافی عرصے سے عصر یا مغرب کے بعد سڑک پر سفر محال ہے لیکن چار اکتوبر کی رات کے وقت اس قافلے کا کرک پہنچنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اگر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کام کریں تو ان علاقوں میں امن بحال کرنا کوئی مشکل نہیں ہے
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
“Patience, O noble sons.
Death is nothing but a bridge that carries you across from misery and hardship to vast gardens and everlasting bliss.
Which of you would dislike being transferred from a prison to a palace?”
— From the words of Imam Husayn ibn Ali (a) to his companions.
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے حوالے سے روسی وزارتِ خارجہ کا بیان
28فروری کی صبح امریکا اور اسرائیل کی مسلح افواج نے ایران کی سرزمین پر فضائی حملے کیے۔
اس غیر ذمہ دارانہ اقدام سے قبل کی گئی فوجی، سیاسی اور ابلاغی تیاریوں کا حجم اور نوعیت، جن میں خطے میں امریکی فوجی دستوں کی بھاری تعداد میں تعیناتی بھی شامل ہے، اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں چھوڑتے کہ یہ ایک خودمختار اور آزاد اقوام متحدہ کے رکن ملک کے خلاف دانستہ، پیشگی منصوبہ بندی کے تحت اور بلااشتعال مسلح جارحیت ہے، جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔
خصوصاً قابلِ مذمت پہلو یہ ہے کہ یہ حملے ایک بار پھر تجدید شدہ مذاکراتی عمل کی آڑ میں کیے گئے ہیں، جس کا بظاہر مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے صورتحال کو طویل المدتی بنیادوں پر معمول پر لانا بتایا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی اُن یقین دہانیوں کے باوجود کی گئی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ کسی فوجی محاذ آرائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی قیادت کو ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا فوری، معروضی اور غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ یہ اقدامات مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن اور تل ابیب نے ایک مرتبہ پھر ایک انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں خطہ انسانی اور معاشی بحران کے ساتھ ساتھ ممکنہ تابکار تباہی کے دہانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جارح ریاستوں کے عزائم نہ صرف واضح ہیں بلکہ انہیں کھلے عام بیان بھی کیا جا چکا ہے۔ ان کا مقصد ایک ایسے خودمختار ملک کے آئینی نظام کو درہم برہم کرنا اور اس کی قیادت کو ہٹانا ہے جسے وہ اس لیے ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں کہ اس نے طاقت اور بالادستی کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ اس مصنوعی طور پر پیدا کیے گئے بحران کے تمام نتائج، بشمول کسی بھی غیر متوقع سلسلہ وار ردعمل اور تشدد کے بڑھتے ہوئے سلسلےکی مکمل ذمہ داری انہی جارح ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔
ان عجلت اور غیر دانشمندانہ اقدامات کے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے قانونی ڈھانچے پر پڑنے والے سنگین مضمرات کو صریحاً نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی اساس جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر قائم ہے۔
دریں اثنا امریکا اور اسرائیل کا اتحاد اپنے اقدامات کو ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی نام نہاد تشویش کی آڑ میں جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کام کرنے والی جوہری تنصیبات پر بمباری کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
درحقیقت واشنگٹن اور تل ابیب کے محرکات کا عدم پھیلاؤ کے مقاصد سے کوئی تعلق نہیں۔
وہ خود بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف دھکیل کر وہ عملاً دنیا بھر کے ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کو اُبھرتے ہوئے سلامتی کے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اور غیر معمولی اقدامات اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران امریکی انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی قانونی نظم کے بنیادی اصولوں کے خلاف مسلسل اور منظم نوعیت کے اقدامات گہری تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ جن اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے ان میں ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے اجتناب کی پابندی، اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن تصفیے کے تقاضوں کی پاسداری شامل ہے۔
ہم فوری طور پر سیاسی اور سفارتی راستے کی جانب واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ روس اپنی مستقل اور اصولی پالیسی کے مطابق بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور تمام فریقین کے مفادات کے منصفانہ توازن پر مبنی پُرامن حل کو فروغ دینے میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
Today’s military strikes on Iran — carried out by the United States and Israel — mark a catastrophic escalation in an illegal war of aggression. Bombing cities. Killing civilians. Opening a new theater of war. Americans do not want this. They do not want another war in pursuit of regime change. They want relief from the affordability crisis. They want peace.
I am focused on making sure that every New Yorker is safe. I have been in contact with our Police Commissioner and emergency management officials. We are taking proactive steps, including increasing coordination across agencies and enhancing patrols of sensitive locations out of an abundance of caution.
Additionally, I want to speak directly to Iranian New Yorkers: you are part of the fabric of this city — you are our neighbors, small business owners, students, artists, workers, and community leaders. You will be safe here.