جنرل صاحب نے پریس کانفرنس کے شروع میں کہا کہ سوالات کو سیکورٹی ایشوز تک محدود رکھیں لیکن اسکے بعد 40 منٹ سیاسی گفتگو فرمائی۔
اور تو اور “سیکورٹی ایشوز” کی پریس کانفرنس میں جعلی اڈیوز پر مبنی ڈاکومنٹری بھی تیار کر کے لائے تھے۔
یہی وہ مکر و فریب کا رویہ ہے جسکی وجہ سے عوام اب ان اداروں کے ترجمانوں کی کسی بات کو سچ نہیں مانتے ۔
وزیراعلی پنجاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں اسلم اقبال ہوں گے
وزیراعلی بلوچستان کے لیے سالار خان کاکڑ سے مشاورت کر کے فیصلہ کیا جائے گا
خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر کے امیدورا عاقب اللہ خان ہوں گے
خیبر پختونخوا کے وزیراعلی کے امیدوار علی امین گنڈا پور کا اعلان پہلے ہی ہو چکا ہے
میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر خواتین کو جو شدید مشکلات کے باوجود بڑی تعداد میں باہر نکلیں اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ووٹ دیا۔ نوجوان بھی باالخصوص داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ووٹنگ کے عمل میں پرامن طریقے سے حصہ لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا جمہوریت پر یقین، ولولہ اور تعمیر ملت کا عظم انشاللہ تاریخ رقم کرے گا۔
شدید مالی بحران سے نکلنے، مشکل فیصلے کرنے اور ماضی کی تلخیوں کو دور کرنے کے لیے ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا جو نظر آرہا ہے۔ ہمیں اس پُرجوش جذبے کا جشن منانا چاہیے اور دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت چہرہ دکھانا چاہیے۔ ہمارے شاندار مستقبل میں میرا اعتماد مضبوط ہوا ہے کیونکہ لوگوں نے کُھل کر بڑی تعداد میں اپنی مرضی کا اظہارکیا ہے۔
میرے شہریوں کے اس عظیم مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیئے اور اسے کھل کر تسلیم کرنا چاہیئے۔ سیاست دانوں، ان کی جماعتوں اور ہمارے اداروں کو اللہُ کی طرف سے بھیجے ہوئے اس موقع کو قبول کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بے شک اللہ پاکستان پر بہت مہربان ہے۔
آؤ میرے لوگو، اٹھو اورمتحد ہو جاؤ، سب کچھ جوڑ کر تعمیر نو کا کام شروع کرو۔ دنیا آپ کی منتظر ہے۔
پنجاب بھر سے ایسی مشکوک اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔ لہازا آج کے تمام احتجاج موخر کئے جاتے ہیں اور آج صرف رٹرننگ افسروں کے دفاتر کے باہر پرامن احتجاج ہوں گے جہاں نتائج تبدیل کئے گئے۔ خاص طور پر ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو توڑ پھوڑ یا جلاؤ گھراؤ کی کوشش کریں۔