The beauty of #uzbekistan is beyond words. The architecture, people and landscape is quite marvellous. Registan Square, Samarkand at early morning #uzbekistan#uzbektour@UZAmbassador
The official match ball for the FIFA World Cup 2026 was made in Sialkot, Pakistan, a city that produces around 70% of the world’s footballs. From hand-crafted expertise to cutting-edge technology, Pakistan’s football industry has been at the heart of the global game for the last four decades
#BREAKING: Iran's IRGC says it struck and destroyed a US air base allegedly used to launch an attack on a communications tower on Sirik Island in southern Iran
Technology is reshaping the Hajj in Saudi Arabia, from AI crowd control and surveillance to apps like Nusuk that give pilgrims real-time services. Special road coatings cool key sites, while large security teams still guide the faithful.
Al Jazeera’s Ahmed Idris reports.
The leaders, especially those of Saudi Arabia, Qatar, and Pakistan who don't have formal diplomatic relations with Israel, were surprised by Trump's request. "There was silence on the line and Trump joked and asked if they are still there," one of the U.S. officials said
Hats off to the Pakistani leadership for working day and night to broker a peace deal between the US and Iran for an end to war. Cries by the Israeli government and pro-Israeli US lawmakers are a treat to witness #IranWar#امن_کا_سفیرـپاکستان
A factory owner in Ashulia, Bangladesh, wanted to build a mosque for his workers. He gave the commission to a Bangladeshi architect. Not an imported name. Not a foreign firm. A local architect who understood the land, the climate, and the culture she was building for.
In 2025, Time Magazine named it one of the greatest places in the world, the first Bangladeshi building to ever appear on that list.
The entire structure is one material. One colour. Pink-pigmented concrete, perforated with small rectangular voids that filter light into the prayer hall the way hanging lanterns did in old mosques. A dome floats unsupported over the circular prayer space. The high plinth references the Bhiti, the earthen mound that Bangladeshi homes have been built upon for centuries in the deltaic floodplain. The building knows where it comes from because the architect did.
Across Africa, clients with the same resources make a different call. Foreign firms. Imported aesthetics. Buildings that could exist anywhere. The brief gets fulfilled. The opportunity gets wasted.
Trusting a local architect with his mother’s name just made global history. That should mean something to us.
Zebun Nessa Mosque, Ashulia, Bangladesh 🇧🇩 | Studio Morphogenesis | Lead Architect: Saiqa Iqbal Meghna | 6,060 sq.ft | 2023 | 📷 Asif Salman, City Syntax
BIG....International court of Arbitration has ruled against India supporting Pakistan's case accusing India of illegally suspending Indus Water Treaty. The court issued a supplemental award in favor of Pakistan on Friday after 3 days of hearing #Pakistan#India#IndusWaterTreaty
Families of 10 Pakistani crew members from the Honour 25 rallied in Karachi to demand their release after more than three weeks in Somali pirate captivity.
Hijackings off the coast of Somalia are surging amid regional instability from the US-Israeli war on Iran.
Al Jaber Twin Towers in Lusail, Qatar illuminated in the colours of Pakistan on the occasion of Marka-e-Haq.
A graceful gesture reflecting the close bonds of friendship and solidarity between Pakistan and Qatar 🇵🇰🇶🇦
A landfill on the outskirts of Santiago, Chile, is one of the world's largest sources of climate-warming methane gas, according to a UN study, which estimated the trash heap produces emissions equivalent to those from nearly 2 million cars driven annually https://t.co/wdlLgvYv9j
ڈان کے ساتھ اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کا زیادہ تر ذمہ دار میں ہوں، میری ایڈیٹوریل پالیسیوں کی وجہ سے ڈان کے ساتھ مسائل ہو رہے ہیں لیکن ان تمام مسائل کے باوجود کسی کے آگے جھکنا یا ہمت ہارنا آپشن نہیں
*-
مجھ سے پہلے بھی ڈان میں بہت بڑے بڑے صحافی آئے، ان کی پالیسیوں کی وجہ سے بھی ادارے نے مسائل دیکھے، بعض ایڈیٹرز تو جیل میں بھی رہے، میں نے تو پھر بھی ایسا کچھ نہیں دیکھا
*-
یہ کہنا کہ میرے بعد ڈان کی اہمیت کم ہوجائے گی، یہ جاہلانہ بات ہے، میرا یقین ہے کہ میرے بعد ڈان کو مجھ سے کم عمر، اچھا، بہت مضبوط اور اچھوتے آئیڈیاز کا ایڈیٹر ملے گا جو ڈان کو مزید اوپر لے جائے گا، ڈان بہت بڑا ادارہ ہے اور رہے گا۔
*-
آج تک ڈان کے چیئرمین یا چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے مجھ سے ایڈیٹوریل سے متعلق پوچھا نہ کبھی ایڈیٹوریل روکا۔ البتہ دو تین بعد ایک دوسرے سے اختلافات ہوتے ہیں لیکن کبھی انہوں نے کام کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دیں، بطور ایڈیٹر مجھے مکمل آزادی ہے اور میں ہی ہر ایکشن کا ذمہ دار ہوں، اس کے کچھ فوائد چیئرمی اور سی ای او کو بھی ہیں کہ وہ سکون کی نیند سو سکتے ہیں، انہیں فون کالز یا دوسرے مسائل برداشت نہیں کرنے پڑتے
*-
ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کی سی ای جے، آئی بی اے میں یوم آزادی صحافت کے حوالے سے 2 مئی کو ہونے والے پروگرام میں تقریر کے کچھ جملے
کبھی کبھی ایک خبر اتنی مختصر ہوتی ہے کہ اس کے اثرات کی وسعت اس میں سما نہیں پاتی۔ دو سطروں میں بتایا گیا کہ مطیع اللہ جان کا پروگرام بند ہو گیا۔ بس خبر ختم۔ مگر کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں خبر ختم ہو جاتی ہے۔
میں نے نیوز رومز میں یہ مناظر بارہا دیکھے ہیں۔ ایک فیصلہ ہوتا ہے، ایک فون کال، ایک میٹنگ، اور پھر اچانک کسی پروگرام کی بتیاں گل۔ اس کے بعد کی خاموشی سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ وہ خاموشی جس میں چند لوگ اپنے اپنے بیگ سمیٹتے ہیں، کمپیوٹر لاگ آف کرتے ہیں اور بغیر کسی شور کے دروازے سے نکل جاتے ہیں۔ اس خاموشی میں سوال ہوتے ہیں مگر جواب نہیں ہوتے۔
مطیع اللہ جان ایک معروف نام ہیں۔ ان کے لیے راستے بند نہیں۔ یوٹیوب ہے، سوشل میڈیا ہے، ناظرین کی ایک مستقل تعداد ہے۔ وہ اپنی بات کہنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیں گے اور شاید پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ نکالیں گے۔ مگر مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ وہ لوگ ہیں جن کے نام آپ اور میں نہیں جانتے۔
وہ پروڈیوسر جو ہر روز اسکرپٹ کو آخری شکل دیتا تھا، وہ کیمرہ مین جو اسٹوڈیو کی روشنی کو متوازن رکھتا تھا، وہ ریسرچر جو خبروں کی تہہ تک جا کر مواد جمع کرتا تھا، یہ سب لوگ ایک لمحے میں سابقہ ٹیم بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے نہ کوئی ہیش ٹیگ بنتا ہے، نہ کوئی بیان جاری ہوتا ہے۔ وہ خاموشی سے گھر لوٹتے ہیں اور اگلے دن سے نوکری کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔
یہاں ایک اور مشکل بھی ہے جس کا ذکر کم ہوتا ہے۔ میڈیا کی دنیا میں بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے دل کی بات کہہ دیں، اپنے حالات بیان کر دیں تو انہیں فوراً ایک خانے میں رکھ دیا جاتا ہے، مسئلہ کھڑا کرنے والے۔ اور پھر ایسے لوگوں کے لیے دروازے اور بھی تنگ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ خاموش رہتے ہیں۔ اور یہ خاموشی صرف پیشہ ورانہ نہیں، معاشی مجبوری بھی ہے۔
ہم بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ یوٹیوب موجود ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز موجود ہیں، ہر شخص اپنی آواز خود بن سکتا ہے۔ یہ بات آدھی سچ ہے۔ ایک چینل کھولنا آسان ہے، اسے چلانا مشکل۔ اس سے آمدن حاصل کرنا تو اور بھی مشکل۔ اس کے لیے وقت چاہیے، صبر چاہیے اور ایک ایسا سہارا چاہیے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے گھر کا نظام تنخواہ سے چلتا ہے، ان کے لیے مہینوں کا انتظار کوئی آپشن نہیں۔
میڈیا ہاؤسز کے اپنے مسائل ہیں، اپنے دباؤ ہیں، یہ بات بھی درست ہے۔ مگر اس سارے عمل میں ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے، کیا ان فیصلوں میں ان لوگوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے جو اس نظام کا سب سے کمزور حصہ ہیں؟ یا ہم نے یہ مان لیا ہے کہ یہ سب ایک ناگزیر نقصان ہے اور اس پر بات کرنا بھی غیر ضروری ہے؟
ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں آزادی اظہار پر بحث بہت ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ مگر آزادی صرف اس شخص کا نام نہیں جو اسکرین پر نظر آتا ہے۔ آزادی اس کی بھی ہونی چاہیے جو اسکرین کے پیچھے کام کرتا ہے، کم از کم اتنی کہ وہ اپنی روزی روٹی کے بارے میں خوف کے بغیر سوچ سکے۔
یہ کہانی صرف ایک یاد دہانی ہے کہ ہر بڑی خبر کے پیچھے چھوٹی چھوٹی زندگیاں ہوتی ہیں۔ اور کبھی کبھی اصل کہانی وہی ہوتی ہے جو خبر میں شامل نہیں ہوتی۔
سوال یہ نہیں کہ ایک پروگرام کیوں بند ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، اور ہم نے اس کے بارے میں کیا دیکھا، کیا سنا، اور کیا نظر انداز کر دیا۔
Uranium starts as a rock in the ground, but through a series of chemical processes and high-speed centrifuges, it can become either a city’s power source or a weapon of mass destruction.
Al Jazeera's Basel Ghazoghli breaks down ⤵️