#OnThisDay
Speech of Former Prime Minister Imran Khan at #UNGA on September 27, 2019. He made a compelling case for Kashmir and all the Muslim Ummah.
#PTISMT
یہ نوجوان لاہور کا محمد صائم ہے،تین بچوں کا باپ ہے، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں ریاض کے جگر ٹرانسپلانٹ سینٹر میں بے یارومددگار پڑاہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہے ۔سعودی عرب کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اسے ائیر ایمبولینس کے ذریعے فورا پاکستان لے جائیں جہاں اس کی فیملی اسے جگر کا عطیہ کرے تو اس کی جان بچ سکتی ہے
حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے شہری کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے اور صائم کو سعودی عرب سے PKLI لاہور منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ممکن ہے کہ تین معصوم بچوں کو ان کا باپ لوٹایا جا سکے
03044352009
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
کوئی پلان نہیں تھا، جہاں لوگوں نے بلایا میں چلی گئی۔ لوگ خود نکلنے کو تیار ہیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ عمران خان کی ملاقاتیں بند کر دیں گے، آواز بند کر دیں گے تو لوگ بھول جائیں گے۔ لوگ نہیں بھولے، لوگوں کا جذبہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔
علیمہ خان
#خان_کے_لیے_متحد
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with his Lawyers and Family Members in Adiala Jail - March 19, 2025
"The scourge of terrorism in the country is out of control. The tragic incident of the Jafar Express is deeply saddening and condemnable. Such organized terrorist attacks raise serious questions about any country’s security. No one can feel the pain of losing precious military and civilian lives to terrorism as profoundly as we do, because PTI is the only political party with majority support across all provinces. Unfortunately, all agencies are focused on eliminating PTI instead of preventing terrorism.
PTI’s decision to boycott the National Security Committee meeting is absolutely justified. I was neither invited to the meeting nor was my opinion sought, and even the representatives of Balochistan were excluded. They would have first consulted with members of my party if they genuinely intended to address this issue. PTI is currently the only political party in Pakistan with support across all federal units, whereas PPP and PML-N are confined to specific regions of Sindh and Punjab. How can national consensus be achieved while excluding the leader of the country’s largest political party and the true symbol of the federation?
The subservient [to the military establishment] government’s foreign and domestic policies are proving to be disastrous for the country. The issue of terrorism can only be resolved through a political solution that aligns with the people’s will. Terrorism cannot be eradicated solely through kinetic military operations. Our foreign policy regarding neighboring countries must be independent and sovereign. Issues with Afghanistan should also be resolved through dialogue. Since the regime change, their lack of seriousness is evident from the fact that Bilawal toured the entire world but did not visit Afghanistan even once. Military operations have never been the solution— even major wars have ultimately ended through negotiations and sincere efforts for peace and stability.
The country can only remain united and strong if the public mandate is respected, political parties are allowed to function freely, and the establishment refrains from interfering in politics. In 1971, a political party was sidelined, and history has not forgotten what followed. The country would not have been divided back then had fair opportunities been given to political parties. Today, once again, the people’s voices are being suppressed, and political parties representing them are being strangled. The same oppressive model has been imposed in Balochistan, which is why the situation there has spiraled out of control. Until representative governments of the people are given power, these issues will persist and worsen.
The imposed regime is using all unlawful tactics to pressure me. My wife has been unjustly imprisoned. Yahya Khan did not jail Mujibur Rahman’s wife, neither did General Zia imprison Bhutto’s wife, nor did Musharraf incarcerate Kulsoom Nawaz. But this establishment has reached the lowest level of moral decline by imprisoning my wife in fabricated cases.
My communication has been severely restricted for nearly a week. To keep me uninformed about current affairs, television access has been banned, and newspapers and books are not being delivered. I have been denied contact with my children. Despite repeated reminders, the standard provision of a 72-hour meeting within 90 days with my wife has not been granted. My personal doctor is not allowed to meet me, nor is my dentist. My party leaders have also been barred from visiting me. I have been kept in complete isolation to prevent me from learning about the All Parties Conference (APC). 1/2
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.” 2/2
لوگوں کا عمران خان کے لیے جزبہ قابلِ دید تھا، ہم نے چار پوائنٹ پر رکنا تھا بارہ پوائنٹ پر رکنا پڑا لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے۔باقی پانچ تاریخ کا انتظار کریں پارٹی لائحہ عمل دے گی اب لوگوں کا یہ سمندر رکنے والے نہیں،ہر چیز ایک پلاننگ کے تحت ہوتی ہے آگے کیا کرنا ہے اس کی پلاننگ ، سٹریٹجی پارٹی بنائے گی۔ میں نے سب کو ایک پیغام دیا ہے کہ ہمارا مقصد بڑا ہے سب متحد ہو جائیں"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
“Fmr PM #ImranKhan now held in near-total solitary for 33 months in a small, windowless cell under 24-7 CCTV. Often more than 2weeks continuously, without exercise or meaningful human contact. This far exceeds the MANDELA rules. I call on #Pakistan to restore humane conditions.” - The United Nations Special Rapporteur on Torture, @DrAliceJEdwards
#FreeImranKhan
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ پر جان لیوا حملہ ہوا
عالیہ حمزہ معمول کے مطابق غسل خانے سے واپس آ رہی تھیں کہ نازیہ خواجہ نامی کوٹ لکھپت جیل کی ایک قیدی نے آٹھ سے دس ساتھی خواتین کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا اور ان کا گلا پکڑ لیا اس دوران صنم جاوید اور فلک جاوید بھی وہاں موجود تھیں جنہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا
حملہ آور خاتون نون لیگ کے نعرے لگاتی رہی اور مبینہ طور پر یہ کہتی رہی کہ میرے آئی جی کے ساتھ تعلقات ہیں
نازیہ خواجہ نامی یہ خاتون منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں جیل کی سزا کاٹ رہی ہے
آٹھ سے دس ساتھی خواتین کے ہمراہ حملے کے دوران نون لیگ زندہ باد کے نعرے لگانے اور جیل انتظامیہ پر اثر و رسوخ کا دعویٰ کرنے والی اس خاتون کے خلاف جیل انتظامیہ کو اپنی مجرمانہ غفلت پر جواب دینا چاہیے
یہ تمام صورتحال ایک سنگین سوال کو جنم دیتی ہے کہ عالیہ حمزہ صنم جاوید فلک جاوید اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ان خواتین کو مسلسل مبینہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کے پیچھے آخر کون ہے
وہی طاقتور عناصر جو ماضی میں خواتین کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے رہے ہیں اور جنہیں یہ گوارا نہیں کہ پنجاب میں یہ باہمت خواتین سر اٹھا کر اپنے سیاسی مؤقف کے لیے آواز بلند کریں
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ صاحبہ پر قاتلانہ حملے کی انتہائی تشویشناک خبر ملی ہے۔ پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ عالیہ حمزہ صاحبہ کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ اس حملے کی شفاف تحقیقات فی الفور کی جائیں اور تمام عملہ جو مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہوا برطرفُ کیا جائے۔ حملہ آور اور ذمہ دار عملے کیخلاف مقدمے درج کئے جائیں۔ عدالت میں عالیہ حمزہ صاحبہ کے طبی معائنے اور تحفظ کی درخواست خاندان کی مشاورت کے ساتھ دائر کی جائے گی۔