حکومت سولر انرجی کو اسلئے discourage کر رہی ہے کیونکہ اس نے اۤئی پی پیز کو پالنا ہے۔ افسوسناک خبر سامنے اۤئی ہے کہ وزارتِ توانائی نے سولر ��سٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نیپرا سے لائسنس لینا لازمی قرار دیدیا ہے۔ لائسنس لینا ہوگا اور پھر اس پر قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔۔یعنی جو سورج سے اۤپ انرجی بنائیں گے اس کیلئے بھی اۤپ کو اجازت لینا پڑے گی۔اگر سورج سے کوئی بجلی بنا رہا ہے تو اۤپ کی اجازت کی کیا ضرورت ہے؟کل کو اۤپ کہیں گے سورج سے وٹامن ڈی بھی نہ لو: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
تقریبا ایک سال قبل یہ وڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے عسکری و سیاسی اشرافیہ، مافیاء کے ساتھ مل کر یہ 40 خاندان پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ملک کا سب سے بڑا محبِ وطن ہونے کا دعوی کرنے والا ادارہ ہر لوٹ مار میں خود 10 فیصد حصہ لیتا ہے، اصل ٹین پرسنٹ اب زرداری و شریف خاندان نہیں ہیں کیونکہ ان کا حصہ تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اصل ٹین پرسنٹ ہمارا پیارا ادارہ ہے۔
بھیک مانگنا ایک پروفیشن بن چکا ھے۔ جو باقاعدہ آرگنائزڈ ھے۔ اسکے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ھیں جو بچوں عورتوں اور جعلی معذوروں کو بھرتی کرکے کروڑوں کما رہے ھیں۔ یہی مافیا انہی بھیک منگوں کو گلف کے ملکوں میں ھ��اروں کی تعداد میں ایکسپورٹ کر رہے ھیں ۔ ان ملکوں نے زچ ھو کر ھمارے ویز ے بند کردیے ھیں۔ اس گھناؤنے کاروبار میں ائیر پورٹ پہ متعین مختلف محکموں کا عملہ برابر کا حصہ دار ھے اور مال بنا رہا ھے۔ سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آکر ھوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ھیں کچھ دیر سے انتظامیہ اور پولیس کی کاروائی سے اس کاروبار میں کمی آئ ھے مگر اب بھی انکی موجودگی نظر آتی ھے۔ سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے انکے ٹھیکیدار ھیں جب گداگروں پہ کریک ڈاؤن ھوتا ھے تو وہ انکے سفارشی بن کر اپروچ کرتے ھیں۔ یہ کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ "روزگار" میسر کر رہا ھے ۔ یہ کاروبار ��سی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں ھو سکتا۔ اس کاروبار کے ساتھ اور بہت سے نہایت گھناؤنے دھندے منسلک ھیں۔