Let us make Durood upon the Holy Prophet Muhammad ﷺ and Istighfar a constant part of our lives.
Join us at the Majlis Ansarullah UK Annual Ijtema 2026 and be part of this special spiritual gathering.
📅 18–20 September 2026
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
#Ijtema2026 #AnsarullahUK #Durood #DaroodSharif #SalatAlanNabi #Istighfar #Islam #MuslimTikTok #IslamicReminder #Muhammadﷺ #MajlisAnsarullah #Spirituality
🔴 پریس ریلیز: منڈی بہاؤ الدین میں جماعت احمدیہ کے مقامی عہدے دار مرزا صفدر محمود کو ہدف بنا کر سر عام قتل کر دیا گیا۔
⚫ مذہب کے مقدس نام پر منعقدہ اجتماعات اورملک کے طول وعرض میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری ہے ۔
⚫احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور تشدد کی تلقین کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
چناب نگر : پریس ریلیز: گذشتہ روز 2ستمبر 2026کو سر شام تھانہ سٹی منڈی بہاؤ الدین کی حدود میں عید گاہ کے دروازے کے قریب جماعت احمدیہ کے مقامی عہدے دار مرزا صفدر محمود صاحب بعمر 65 سال کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔زخموں کی تاب نہ لا کر وہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔وہ گاڑیوں کی مرمت کی ورکشاپ چلاتے تھے۔وہ ورکشاپ سے احمدیہ بیت الذکر کی طرف جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آور نے ان پر فائرنگ کر دی۔وہ ایک شریف النفس انسان تھے اور ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ ان کی تدفین ربوہ میں کی جارہی ہے۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔
ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود نے اس بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ احمدیوں کو قتل کرنے اور نفرت و تشدد کا بیانیہ فروغ دینے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے قرار واقعی سزا دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح منڈی بہاؤ الدین میں بھی احمدیوں کے خلاف مہم چلتی رہی ہے اور احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلایا جا رہا ہے۔یہاں تک کے منڈی بہاؤ الدین میں بعض نام نہاد مولویوں نے حاملہ احمدی عورتوں کے حمل گرانے جیسی بھیانک دھمکیاں علی الاعلان دیں اورایک احمدی پولیس آفیسر کی منڈی بہاؤ الدین میں تعیناتی کے خلاف مہم چلاتے ہوئے اس احمدی پولیس آفیسر کو قتل کرنے کی دھمکی دی ۔ منڈی بہاؤ الدین کے علاقے سعد اللہ پور میں 8 جون 2024ء کو ایک ہی دن میں 2احمدیوں کو دن دیہاڑے سرعام قتل کر دیا گیا تھا ۔ 16مئی 2025کوسرگودھا میں قتل ہونے والے احمدی ڈاکٹر شیخ محمد محمود صاحب کا قاتل بھی تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آیا۔ترجمان جماعت احمدیہ نے پاکستان میں احمدیوں کے خلاف متعصبانہ نفرت انگیز مہم کو روکنے اور قتل کے سفاکانہ جرم میں ملوث اورذہن سازی اور سہولت کاری کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانےاور انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔###
https://t.co/FXxApNsWlG
#StopThePersecution #HumanRights #FreedomOfReligion
R. Bosworth Smith admits the sincerity of the Holy Prophet’s belief up to the time of Hijrah (i.e., migration to Medina) and says that any change in his character and aims must be considered in the context of the general conditions of his life. #ProphetMuhammad ﷺ #LifeOfMuhammad ﷺ
The Promised Messiah (as) has told his Jama'at that they must adhere to the commandments of Allah the Almighty, follow the example of the Holy Prophet (sa), never lose faith nor create any disorder on the earth.......
https://t.co/hD7eOjzTJa
اگرخاوند بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کردے کیونکہ خاوند کی اور بیوی کے گھر والوں کی آپس میں نہ بنتی ہو،اور بچے اپنے کزن وغیرہ سے ملنے کی درخواست کریں تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے کیا حکم ہے،کیا وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے والدین وغیرہ سے نہیں مل سکتی؟
جواب: آنحضورﷺنے نکاح کے موقع پر جن آیات کی تلاوت کا حکم دیا ہے، ان میں رحمی رشتہ داروں کے معاملہ میں خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے صرف اس وجہ سے کہ خاوند کی بیوی کے والدین وغیرہ سے نہیں بنتی وہ اپنی بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کردے، تقویٰ کے بالکل خلاف ہے۔
اسلام نے والدین کے حق میں بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے کہ ان کے ساتھ احسان کا سلوک کیا جائے اور خدا تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ والدین کا بھی شکر ادا کیا جائے۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی کے والدین بچہ کو شرک کی تعلیم دیں تو صرف اس معاملہ میں ان کی اطاعت نہیں کرنی لیکن دنیوی معاملات میں پھر بھی ان کے ساتھ حسن سلوک ہی کرنے کا حکم ہے۔(لقمان :۱۵، ۱۶)
پھر آنحضورﷺنے بھی بڑی تاکید اور تکرار کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے، ان سے تعلقات جوڑ کر رکھنے اور ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اس مضمون سے احادیث بھری پڑی ہیں۔چنانچہ حضرت اسماءؓ نے حضورﷺسے دریافت کیا کہ میری والدہ جو مشرکہ ہیں، اپنے بیٹے کے ساتھ میری پاس آئی ہیں اور مجھ سے کچھ مدد چاہتی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ اس پر حضورﷺنے فرمایا ہاں ہاں تم ضرور اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور ان کی ضرورت پوری کرو۔ (بخاری کتاب الادب بَاب صِلَةِ الْمَرْأَةِ أُمَّهَا وَلَهَا زَوْجٌ۔ شرح بخاری جلد۱۴ صفحہ۳۶۸،۳۶۷)
پس جو خاوند اپنی بیوی کو اس کے والدین وغیرہ سے ملنے سے منع کرتا ہے، وہ ہر گز ٹھیک نہیں کرتا، بلکہ ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے، جس کا گناہ اسی خاوند کے سر ہو گا۔کیونکہ وہ اسلام کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ قرآن کریم نے جو عَاشِرُوۡھُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ (النساء:۲۰) یعنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو کاحکم فرمایا ہے، اس میں بھی یہ بات شامل ہے کہ بیوی کے ہر چھوٹے بڑے حق کا خیال رکھا جائے، لیکن جو خاوند بیوی کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے نہیں دے رہا ،اس کے اس عمل میں حسن معاشرت کہاں باقی رہ جاتی ہے۔
https://t.co/dCFoIwTO06
From the childhood, #ProphetMuhammad had remarkable qualities of patience and contentment that would be fully manifested in his latter life. #LifeOfMuhammad ﷺ