بادشاہت صرف میرے سوہنڑے رب کی ❤️🩹، یہ وقتی بادشاہوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ،اتنا کریں جتنا کل کو خود سہنے جوگے بھی ہوں ، یہ قانون انکے گلے کی ہڈی بنے گے
کوشش ھوگی کہ کسی کی دل آزاری نا ھو،زندگی رھی تو سماجی کاموں پر توجہ دینی ھے ،سیاست سے ھر ممکنہ گریز ھی کرنا ھے،مقصد یہی ھوتا تھا کہ لوگ جن کی آواز کہیں پہنچ نہیں پاتی تھی ،سیاسی ٹوئیٹس کا سہارا لیکر ان کی آواز حکام بالا تک پہنچائی جائے ،کسی دکھی شخص کا کوئی کام بن گیا تو اس کی دعا شاید آخرت بھی بنادے،اس سے ذیادہ نا لالچ کبھی تھی نا اللہ نے کبھی کسی سے ایک روپے کا روادار رکھا ،کوشش کریں لوگوں کے کام آئیں،سیاست سے کچھ حاصل نہیں،نا سیاست کے سینے میں دل ھوتا ھے نا ھی ھمارے سیاستدانوں کے،حلقہ احباب کا ازحد مشکور کہ جنہوں نے اتنے سال برداشت کیا،اللہ پاکستان کو قائم و دائم رکھے،اللہ پاکستانیوں کو خوشحالی دیکھنا نصیب کرے۔اللہ آپ سب کو خوش رکھے ،آمین
Shame on you for degrading, disrespecting and undermining the civilians and politicians of our country. Yes, we are proud of our soldiers defending our borders, and we acknowledge the military leadership’s role in reducing recent regional tensions and preventing further escalation. But praising the military does not require insulting or belittling elected representatives and lawmakers.
Respect the constitutional roles of all institutions. You can honour the armed forces without undermining the people’s representatives. Praising one institution should never become an excuse to demean another. Conclusion: A wrong choice made by some General saab to make her their spoke person .