چلو اب سعدیہ امام کے خلاف بھی شروع ہو جاو، اسے بھی شو کاز نوٹس بھجواو، ڈائریکٹرز کو فون کرو کہ کوئی اسے اپنے ڈرامے میں کاسٹ نہ کرے، چیک کرو اگر ایکٹنگ کے لیے بھی کوئی سینٹرل کنٹریکٹ ہوتا ہے تو اسے بھی منسوخ کراو۔ چلو شاباش BanSadiaImam کا ٹرینڈ بناو، جلدی کرو
I wish this EID muslims would have come out with black clothes to Show that Eid was an ISLAMIC event.
This wouldve made muslims come together and should have stuck terror in the hearts of people who are either killing muslims, or people who can but arent doing anything to stop it
دنیا عالم نہیں چلا رہے عامل نہیں چلا رہے ذہین لوگ نہیں چلا رہے دنیا عاشق نہیں چلا رہے دنیا دلیر لوگ چلا رہے ہیں یاد رکھیے گا یہ یورپ کے ایوانوں میں ہو یا پاکستان کے ایوانوں میں ہو ادم اسلام کے پہلے بیٹے سے لے کر اخری تک جو دلیر ہوگا اسی کے نیچے سارے یکجا ہوں گے۔۔
دین پسند طبقہ اور ایک ضروری یاد دہانی
پاکستان میں جس طبقے کو عموماً دین پسند یا اسلامسٹ کہا جاتا ہے، وہ دراصل وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی معذرت خواہانہ لہجے کے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں شریعت کا نظام صحیح معنوں میں نافذ ہونا چاہیے۔ اس طبقے کا، جس کا میں بھی حصہ ہوں، واضح موقف ہے کہ ہمیں اپنے دین پر کوئی شرمندگی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں کامیاب ریاست بننا ہے تو اسے اپنے بنیادی نظریے یعنی اسلامی نظام کی طرف لوٹنا ہوگا۔
اس سوچ پر ہمیں مختلف طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔ ہمیں رجعت پسند کہا جاتا ہے، ترقی کے دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ مگر ہمارا جواب سادہ ہے: تم نے بھی سجدہ کیا ہے اور ہم نے بھی سجدہ کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تم نے اس نظام کو سجدہ کر لیا ہے جسے تم جدیدیت کہتے ہو، جبکہ ہم نے اس رب کو سجدہ کیا ہے جو خالق کائنات ہے، اور اسی کا حکم ہے کہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نظام اسلامی معاشروں میں نافذ ہو۔
یہاں میں دین پسند طبقے کو مبارک باد بھی دینا چاہتا ہوں۔ آپ کی جرات اور استقامت قابلِ تحسین ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں اربوں ڈالر کی عالمی انڈسٹری اسلام کے نظریات کے خلاف کھڑی کی گئی، جہاں میڈیا ادارے، تھنک ٹینکس اور مختلف فکری مراکز اس بیانیے کو چیلنج کرنے میں مصروف ہیں، وہاں آپ نے کسی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر اپنے دین پر قائم رہنے کا عزم دکھایا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے۔ نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفاذ کی جدوجہد دراصل عزتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایک معاشرے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت کو پامال کرنے کی ناپاک جسارتیں جاری ہوں اور اس کے خلاف متحد آواز نہ اٹھائی جائے تو وہاں نظام مصطفیٰ کے قیام کی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔
پاکستان میں اس وقت جس انداز سے منظم گستاخیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، وہ ہم سب کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ ��کریہ ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ عزتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کو نظرانداز کر کے بھی اس ملک میں نظام مصطفیٰ نافذ ہو سکتا ہے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر عزتِ مصطفیٰ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہونے کی جرات نہ ہو تو نظام مصطفیٰ کی جدوجہد بھی اپنی روح کھو دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ وہ کھڑے ہوں اور حق کا اعلان کریں۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے کھڑے ہوئے۔ کیا آج ہم پر یہ حق نہیں بنتا کہ ہم بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت کے دفاع کے لیے کھڑے ہوں؟
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس کے لیے کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
#ناموس_رسالت_پر_کوئی_سمجھوتہ_نہیں
#ناموس_رسالت_پر_کوئی_سمجھوتہ_نہیں
15thMarchNamooseRisalatDay
اگر تم پاکستان میں عزتِ مصطفٰی صل�� اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے تو نظامِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ خود بخود تم سے منہ موڑ لے گا!
They have taken their scholars and monks as lords besides Allah, and [also] the Messiah, the son of Mary. And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him. (SURAH TOUBA) #sahiladeem#ims