ایک شریف اور باوقار خاتون صحافی کی تصویر کو فوٹوشاپ کر کے گھٹیا پروپیگنڈا کرنا نہ صرف اخلاقی پسپائی ہے بلکہ یہ کھلم کھلا سائبر کرائم (PECA Act) ہے۔ عاصمہ شیرازی صاحبہ کو اس ٹویٹ اور اکاؤنٹ کے خلاف FIA سائبر کرائم میں فوری قانونی کیس درج کروانا چاہیے تاکہ ایسے ذہنی بیماروں کو پتہ چلے کہ فیک پکچر بنانے کا انجام جیل ہے۔
@asmashirazi
100 چوہے کھا کر بلی حج کو چلی! 2018 میں اسی نظام کی انگلی پکڑ کر اقتدار کا شوگر ملز چلانے والے آج نظام میں سوراخ تلاش کر رہے ہیں۔ کاش یہ 5 نکات اس وقت بھی یاد ہوتے جب 'سیم پیج' کا البم چھپ رہا تھا!
ماشاءاللہ! کیا خوبصورت خواب ہے۔ لیکن اس لسٹ میں نکتہ نمبر 6 ڈالنا بھول گئے: "جب تک ہم اقتدار میں ہیں، تب تک دھاندلی، 'سیم پیج' اور اداروں کی مدد بالکل حلال ہے، بس اپوزیشن میں جا کر یہ سب حرام ہو جاتا ہے!"
باتیں تو ایسی ہیں جیسے تحریک انصاف نے 2018 سے 2022 تک حکومت نہیں کی، بلکہ اپوزیشن میں بیٹھ کر صرف آئین و قانون کی کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کے 4 سالہ دور کا سب سے بڑا سرپرائز یہ تھا کہ یہ 5 باتیں آپ کو صرف کرسی سے ��ترنے کے بعد یاد آئیں!
اسد صاحب، آپ کا فارمولا زبردست ہے، بس ایک چھوٹی سی ترمیم کر لیں:
2018 میں سلیکشن پر جشن نہ منانا۔
فیض حمید کے فونز کا انتظار نہ کرنا۔
اور اپوزیشن کی وکٹیں گرانے کے لیے 'تھرڈ امپائر' کا اشارہ نہ دیکھنا۔
جب اپنی باری تھی تو یہی نظام 'مدینے کی ریاست' لگتا تھا، اب باری ختم ہوئی تو نظام ہی خراب ہو گیا؟
اردو زبان میں حادثے (حادثہ) کی جمع حادثات اور حوادث، دونوں درست ہیں۔
حادثات: یہ قاعدے کے مطابق بنائی گئی جمع (جمع سالم) ہے، جو عام بول چال اور روزمرہ تحریر میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔
حوادث: یہ عربی قواعد کے تحت بنائی گئی جمع (جمع مکسر) ہے، جو زیادہ تر ادبی، علمی یا رسمی اردو تحریروں میں استعمال ہوتی ہے۔
آپ موقع اور تحریر کی نوعیت کے لحاظ سے ان دونوں میں سے کسی کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔
@khalidmabbasi@KashifK15634720 جو قاتلین تھے وہ تقریباً سارے گورنر بنا دیے گئے تقریباً ہر کسی کو بڑا عہدہ دیا گیا پتہ نہیں آپ قصاص کس سے لے رہے ہیں جو قاتل تھے وہی اقتدار میں تھے
@SafinaKhann خبردار کمپنی کا اس طرح مخلوق سے کوئی لینا دینا نہیں اور ادارہ مولانا فضل الرحمن کو ایک انتہائی معزز اور بزرگ سیاستدان سمجھتے ہیں
مولانا فضل الرحمن پاکستان کا سب محترم سیاست دان ہیں
حامد میر صاحب! آپ کے اس جواب سے بات نہیں بنے گی۔ صحافت کا بنیادی اصول دلیل اور سچائی ہوتی ہے، نہ کہ جواب دینے والے کا نام یا شناختی کارڈ دیکھنا۔
اگر کسی گمنام یا جعلی نام والے اکاؤنٹ نے کوئی جھوٹی بات کی ہوتی، تو آپ اسے چند سیکنڈ میں غلط ثابت کر سکتے تھے۔ لیکن جب ایک سچے اعتراض کے جواب میں آپ نے صرف "نام اصلی نہیں" کا بہانہ بنا کر راہِ فرار اختیار کی، تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے پاس اعتراض کا کوئی ٹھوس جواب تھا ہی نہیں۔
تنقید کا وزن دلیل اور حقائق سے ہوتا ہے، نام سے نہیں۔ اگر سوال سچا ہے، تو پوچھنے والا چہرے پر نقاب بھی اوڑھ لے، سچائی اور غلطی چھپ نہیں جاتی۔ بہتر ہوتا کہ آپ نام کا بہانہ بنانے کے بجائے پیش کردہ جھوٹ کا جواب دیتے اور اپنی بات کو درست ثابت کرتے۔
@HamidMirPAK
@NaureenJanjua اس دن سے ڈریں جس دن کاکروچ ڈنڈوں سمیت نکلنا شروع ہو گئے جماعتی اسلامی لاکروچ کے ساتھ احتجاج کر رہی ہے جبکہ اب وقت بدل چکا ہے اب کاکروچ کا زمانہ ہے
@realrazidada فاٹا کے لوگ بڑے مہذب لوگ ہیں اگر آپ نے شریف خاندان کو خوش کرنا ہے تو اور بھی کئی طریقے ہیں پورے علاقے کا نام لے کر اپنی نسلیت اور اصلیت کیوں دکھا رہے ہو میری فاٹا میں 5 سال گزرے ہیں یقیناً بہت اچھے اور با اخلاق لوگ ہیں
@MaryamNSharif Can a civilized society genuinely progress when the leadership of a massive province is handed over on a platter of dynastic entitlement? True governance demands proven competence and an authentic mandate, not mere political pedigree