امام نورالدین علی قاری حنفی علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف”الدرۃ المضیۃ فی زیارۃ المصطفویۃ الرضیۃ“ فقیر کے ترجمہ و تخریج اور مفتی @MisbahiSadiq صاحب کی نظر ثانی و تصحیح، اور کمپوزنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد طباعت کے لیے پریس روانہ ہو چکی ہے۔ احباب دعا فرمائیں کہ جلد منظر عام پر آجائے۔
دو روز سے مسلسل بارش کے سبب لائٹ غائب ہے، موبائل بیٹری ڈسچارج ہونے والی ہے، اس وجہ سے ممکن ہے کہ رابطہ نہ ہو سکے۔
آپ حضرات بالکل پرپشان نہ ہوں، الحمد للہ! آپ کی دعاؤں سے طبیعت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، آکسیجن کے ساتھ علاج بدستور جاری ہے۔
آپ سے مزید دعاے صحت کی درخواست ہے۔
١٦/ اپریل ٢٠٢١ء بروز اتوار میری حالت اچانک بہت نازک ہو گئی تھی، شدید بخار، نمونیا اورسانس لینے میں شدید تکلیف اور آکسیجن کی کمی تھی، اب گورکھپور کے (سینے کے ماہر) کرونا وائرس کے اسپشلشٹ ڈاکٹر کے مشورے سے علاج چل رہا ہے۔
پہلے سے کچھ بہتر ہوں، احباب سے مزید دعا کی درخواست ہے۔
حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”جب تم کسی طالب علم کو دیکھو کہ وہ بغیر عمل کے زیادہ علم حاصل کرتا ہے تو اسے علم نہ سکھاؤ، اس لیے کہ جو طالب علم اپنے علم پر عمل نہیں کرتا ہے وہ حنظل کے درخت کی طرح ہے، اسے پانی سے جتنا سیراب کیا جاتا ہے اتنی ہی اس کی کڑواہٹ بڑھتی جاتی ہے۔“
حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”جس نے کھلے عام اپنی مذمت کی، گویا اس نے اپنی تعریف کی، یہ ریا کاری کی پہچان ہے۔“ (ت: محمداختررضامصباحی)
(تنبیہ المغترین، امام عبد الوہاب شعرانی، ص: ٢٥، برکات رضا، پوربندر، گجرات)
اپنے پیاروں کی بلا ضرورت کھلے عام تعریف نہ کریں، اس لیے کہ جو آپ کی نظر میں بہت زیادہ محبوب باوقار متقی پرہیزگار اور قطب وقت ہو ضروری نہیں کہ سب اس سے محبت کرتے ہوں، اور سب کی نظر میں ایسا ہی ہو، عین ممکن ہے کہ آپ کے اس پیارے نے بہت سارے لوگوں کا دل دکھایا ہو اور آپ کو خبر نہ ہو۔