اب اچهره بازار سب کے لیے۔۔!!
نابینا افراد کے لیے خصوصی ٹائلز اور وہیل چیئر ریمپس نے اس تاریخی بازار کو سب کے لیے آسان اور خوبصورت بنا دیا
ویلڈن سی۔ایم پنجاب ♥️👏👏
خیبر پختونخواہ کی عوام سہیل آفریدی سے سوال کرتی ھے ہماری جان و مال کی حفاظت کس کی زمہ داری ھے؟ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی سے انگلی تحریک انصاف پہ اٹھتی ھے انہون نے ساری توانائی بانی جے کیسز رہائی کے لیے صرف کر دی مگر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول نہیں کر پاۓ۔
جو کام کرتا ھے اس پہ تنقید بھی ہوتی ھے، مریم نواز کی مقبولیت جانچنی ھے تو عام عوام سے دھی رانی سے ستھرا پنجاب سے بلا سود قرضہ جات کی فراہمی ، کنیسر ہسپتال آپ ان سے ضرور پوچھیے گا جسکو اپنی چھت اپنا گھر ملا جسکو سیلاب کی تباہ کاریوں سے مریم نواز نے محفوظ کیا آج سے پوچھیں مریم نواز کی کیا کارکردگی رہی کیسے خواتین کے لیے مسیحا بنی۔ @MaryamNSharif
دکھ سکھ کے ساتھی ♥️
میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے لے کر مریم نواز تک، شریف خاندان کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کا ہاتھ تھاما ہے۔ ہسپتالوں کے دورے ہوں، سائلین کی دلاسا دہی ہو یا دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا
یہ وہ خوبصورت لیجیسی (روایت) ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے
میڈم @MaryamNSharif اتنی بے عزتی تو نہیں کرتے
😜🤭
"وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا، کسی نے اسے پہچانا ہی نہیں،
ڈھائی افراد کا جلوس گزر رہا تھا، انہوں نے نے کسی سے کہا کہ کرسی دے دو، تو اس شخص نے اپنی کرسی پکڑ کر اندر رکھ دی اور کہا کہ کرسی نہیں دوں گا، چوری ہو جائے گی "
سابقہ خلقی، پرچمی، کمیونسٹ اور امریکہ نواز افغانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ علمی بحث نہیں کرتے۔ کل تک یہ ہمیں کہتے تھے کہ طالبان پاکستان کی پیداوار ہیں اور آج انہی طالبان کے حمایتی بن گئے ہیں۔ کل پتہ نہیں ان کو کس منڈی کی پیداوار کہتے تھے اور حقارت سے پنجابی کہتے تھے۔
اب ان لوگوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دکھ درد ایک ہیں اور ہم ہمسائے ہیں۔ ہم یہاں اپنے دکھوں کی کہانی نہیں سناتے اور نہ ہی 1947 کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم 1947 سے شروع ہو جائیں کہ آپ نے پاکستان کی مخالفت کی تھی؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے پرنس کریم کو پناہ دی، انہیں ٹریننگ کیمپس دیے اور فراری کیمپس بنائے؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے فقیر ایپی کو پختونستان تحریک کے لیے ٹریننگ سینٹرز، مال اور اسلحہ دیا؛ اگر ہم یہ کہیں کہ آپ نے جلال آباد کے قونصل خانے اور کابل کے سفارت خانے پر حملہ کیا اور پاکستانی پرچم جلایا؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے 1960 میں باجوڑ پر حملہ کیا؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ سردار داؤد نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کروں گا اور توڑ کر رہوں گا اور اس نے پختون زلمی بنائی؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے میر بخش مری، عطا اللہ مینگل اور دیگر علیحدگی پسندوں کو وہاں پناہ دی؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ نے یہاں حیات محمد خان شیرپاؤ اور عبدالصمد خان اچکزئی کو شہید کیا اور پاکستان میں دہشت گردی کی شروعات کی۔
ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ حامد کرزئی نے ہندوستانیوں کو 26 قونصل خانے دیے ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کرزئی اور اشرف غنی نے ہندوستانی سفارت خانے کے زریعے بنائی۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ آپ لوگوں نے منظور پشتین، علی وزیر، افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کو پہلے بھی سہارا دیا تھا اور بعد میں بھی دیا۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف جو کہتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی، وہ دراصل آپ لوگوں کی بے وفائی پر کہتے ہیں۔ ہم نے سوویت یونین جیسی سپر پاور کو شکست دی، لیکن آپ ہمارے احسان نہیں مانتے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے افغانوں کا ساتھ دینا ہے اور افغانستان پر سوویت جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، اس وقت جمی کارٹر پاکستان کے ساتھ نہیں تھا۔ 1981 میں جب رونالڈ ریگن آئے تو انہوں نے ساتھ دیا ، ورنہ ابتدائی تین سال پاکستان خود اپنے وسائل سے یہ جنگ لڑتا رہا۔ یہ ہماری غلطی تھی کہ ہم نے ایک سپر پاور کو شکست دی اور جس کی خاطر قربانی دی، وہ مانتے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے ہم پر پریسلر ترمیم اور کیری لوگر بل جیسے قوانین کے تحت پابندیاں لگیں، اور آج وہی ہمیں اپنی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کا درد ہمارا درد ہے، آپ کی تکلیف ہماری تکلیف ہے، اور ہماری ہمسائیگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ ہم آپ سے کہتے ہیں کہ یار! تجارت کرو، امن کے ساتھ رہو اور دہشت گردی کا خاتمہ کرو۔ ہم آپ سے بار بار کہتے ہیں کہ 50 سال ہم نے ان حالات کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ آپ 1947 سے 1974 تک کا دور بتا دیں کہ ہم نے آپ کو کیا تکلیف دی ہے؟ ظاہر شاہ سے اقتدار ہم نے نہیں چھینا تھا، سردار داؤد نے اس وقت لیا تھا جب وہ اٹلی گئے ہوئے تھے، اور پھر داؤد کو بے دردی کے ساتھ ان کے 30 اہل خانہ کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ کیا ہم نے نور محمد ترکئی سے اقتدار چھینا تھا؟ کیا حفیظ اللہ امین کو ہم نے بے دردی سے مارا تھا؟ حفیظ اللہ امین کو کس طرح مارا گیا اور نور محمد ترکئی کے منہ پر تکیہ کس نے رکھا تھا؟ ببرک کارمل کو کیا پاکستان نے اقتدار سے بے دخل کیا تھا؟ اور ڈاکٹر نجیب اللہ کو پھانسی ہم نے نہیں دی تھی۔ ہم نے اشرف غنی اور حامد کرزئی کا ساتھ دیا تھا ۔ اور آپ جو کہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے بعد طاقت بنا ، تو میں آپ کو بتاؤں کہ 1965 میں جنوبی کوریا کے ماہرین یہاں آئے تھے اور انہوں نے پاکستان کا پانچواں پنج سالہ ترقیاتی منصوبہ کاپی کیا تھا۔ ہم نے مغربی جرمنی کو قرضہ دیا تھا، 60 کی دہائی میں ہم نے چین کو مالی امداد دی تھی اور پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ افغانستان کی جنگ کے بعد ہی ہمارے حالات خراب ہوئے ہیں اور پاکستان کا پورا کلچر تبدیل ہوا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ تلخ باتیں چھوڑ کر آگے بڑھا جائے۔
افغانستان کے 'آمو ٹی وی' (Amu TV) پر بات چیت
پورے لروگرام کا لنک
https://t.co/FuuAR4Vssr
سہیل آفریدی کا از خود گرفتاری کا ڈرامہ۔۔ لاہور کی عوام سے مسترد ہونے کے بعد اسٹنٹ کے طور پر ڈالر خور یوتھیوبرز کے کیمروں کے جھرمٹ میں پولیس وین میں بیٹھ گیا
شکریہ لاہور اس فتنہ کو مسترد کرنے پر
نجانے تنقید کرنے والوں کو یہ معلوم ھے مریم نوازشریف @MaryamNSharif عام عوام کی آواز بن چکی ھے ، دھی رانی پروگرام سے لیکر گرین بس سروس ستھرا پنجاب ، کینسر ہستال مفت ادوایات، اپنا چھت پروگرام سڑکؤں کا جال ، بد ترین سیلاب دن رات صوبہ کی خدمت میں ایک کر دیا۔