❤️عظیم لوگ❤️۔
جمیل بسمل صاحب کہتے ہیں کہ میری بیٹی کی شادی تھی میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی بچی کیلیے جہیز تیار کیا اور ہم لوگ جہیز کی تیاری میں ایسے جُتے کہ ہوش ہی نہ رہا کہ کب پیسے ختم ہو گۓ ( کم رہ گۓ ) اب ہمیں پریشانی ہوئی کہ ابھی کھانا ، کیٹرنگ اور لائٹ ڈیکوریشن کا خرچہ وغیرہ کیسے پورا ہو گا ( یاد رہے یہ 80 کی دہائی کی شروعات تھی تب زیادہ تر شادیوں کا انتظام کھلی گراؤنڈز وغیرہ میں کیا جاتا تھا )
ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کسی رشتہ دار سے پیسے مانگ لیتے ہیں لیکن اس میں ایک قباحت تھی کہ رشتہ دار بعد میں طرح طرح کی باتیں بناتے اسلیے اس بات کو رَد کر دیا گیا
پھر یار دوستوں کا ذکر چھڑا تو سب سے پہلے میرے ذہن میں دلدار بھٹی کا نام آیا تو شام کو ہم میاں بیوی دلدار بھٹی کے گھر چلے گۓ بھٹی نے بڑی خاطر مدارت کی ، اسکے بعد اُس نے پوچھا جمیل بھائی کیسے آ نا ہُوا تو ہم دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہ بول سکے ( ہمیں اُس وقت ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی ) اور خاموشی سے ایکدوسرے کو تکتے رہے اسی اثناء میں بھٹی نے پوچھا کہ ہماری بِٹیا رانی کا کیا حال ہے تو میں ہمت کر کے صرف اتنا ہی بول پایا کہ اس کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اتنا سُن کر بھٹی کچھ لمحے مجھے اور میری بیگم کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر بولا جمیل بھائی
دِھیاں سب دیاں سانجھیاں ہوندیاں نیں
پریشان نہیں ہونا اگر کسی چیز کی ضروت ہو تو مجھے بتا دینا
لیکن اتنا سُننے کے بعد بھی میں بھٹی کے سامنے اپنے آنے کا مُدعا بیان نہ کر سکا اور ہم دونوں میاں بیوی گھر واپس آ گۓ ہم دونوں ہی خاموش تھے اور سوچ رہے تھے کہ اب ہمارا کیا بَنے گا ڈیڑھ لاکھ روپے کا بندوبست کیسے ہو گا ( یاد رہے کہ اُن دنوں ڈیڑھ لاکھ کا شمار ایک بڑی رقم میں ہوتا تھا )
جیسے تیسے کر کے رات کٹی صُبح ابھی ہم ناشتہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ کسی نے ڈور بیل بجائی میں اُٹھ کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بھٹی مُنہ لٹکاۓ میرے سامنے کھڑا ہے میں اُسے دیکھ کر سٹپٹاگیا کہ یااللہ کیا ماجرا ہے یہ ہر وقت ہنسنے مسکرانے والا بندہ اتنا افسردہ کیوں ہے
میں نے پوچھا بھٹی خیریت ہے اتنی صُبح کیس آنا ہُوا تَو وہ اسی طرح مُنہ لٹکاۓ ہُوۓ بولا جمیل بھائی مجھے ناشتہ کرنا ہے آپ لوگوں کے ساتھ تو میں اُس کھینچ کر اندر لے آیا یہ کہتے ہُوۓ کہ تیرا اپنا گھر ہے چل آ جا مِل کر ناشتہ کرتے ہیں
جب ناشتہ آ گیا تو بھٹی نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور رونا شروع کر دیا ہم دونوں گھبرا گۓ یااللہ خیر ، کچھ بتاؤ تو سہی کہ آخر ماجرا کیا ہے
تو بھٹی بولا
جمیل بھائی آپ مجھے غیر سمجھتے ہیں
میں نے کہا نہیں تو ، پر تم کیوں ایسا سوچ رہے ہو تو بھٹی نے کہا کیا تمھاری بیٹی میری بیٹی نہیں کل آپ لوگوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا لیکن آپ لوگوں کی خاموشی مجھے سب کچھ بتا گئی ، میں اپنی بیٹی کیلیے ایک چھوٹا سا نذرانہ لایا ہوں یہ آپ لوگوں کو قبول کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہُوۓ تھیلے میں سے کاغذ کے چند لفافے نکالے جو کہ ظاہری طور پر نوٹوں سے بھرے ہُوۓ تھے
میں صرف اتنا ہی بول سکا کہ بھٹی اللہ تمھیں اس کا اجر دے گا اور جیسے جیسے میرے پاس پیسے آئیں گے میں تمھیں لوٹا دوں گا تو بھٹی نے کہا جمیل بھائی یہ میں نے آپ کو نہیں دئیے بلکہ اپنی بِٹیا رانی کیلیے دئیے ہیں ان کو واپس کرنے کا سوچنا بھی مَت
پھر ناشتے کے بعد بھٹی واپس چلا گیا تو ہم نے وہ پیسے گِنے تو وہ پورے دو لاکھ روپے تھے
اللہ پاک اپنی شان کے مطابق ان کی کامل ترین مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی ترین مقام عطا فرمائے
آمین ، ثم آمیــن یا رب العالمین