"گورنر راج لگا دیا گیا ہے ہمارے سی ایم سہیل آفریدی صاحب اور کابینہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تمام پارلیمنٹیرینز کے گھروں میں چھاپے ڈل رہے ہیں ریڈز ہو رہے ہیں، ہم بھرپور طریقے سے اس کی مذمت کرتے ہیں کہ آپ نے یہاں کوئی لاء اینڈ آرڈر کی کوئی سچویشن نہیں ہے یہاں کل سے کمپلیٹ بلیک آؤٹ ہے نہ کوئی موبائل سروس ہے نہ کوئی انٹرنیٹ سروس آ رہی ہے، نہ یہاں وائی فائی کام کر رہا ہے کسی سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ یہاں موجود نہیں ہے۔"
سینٹرل پنجاب جنرل سیکرٹری مریم کلثوم اکرم
#نکلو_پشاور_کی_طرف
مبارک ہو پختونوں ایمرجنسی اور گورنر راج لگ گیا، اب صحت کے مسئلے حل ہوں گے، تعلیم کا بحران ختم ہوگا، سڑکیں بنے گی اور دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا
کیونکہ ہم پر ایمرجنسی ان لوگوں نے لگائی ہے جن کی وجہ سے پاکستان غربت میں پہلے نمبر پر ہے
عام عوام کا رد عمل 💔
"آج واقعی بھٹو زندہ ہو گیا۔ مگر یہ بھٹو 1973 کے آئین والا بھٹو نہیں ہے، یہ 1970 والا بھٹو ہے جس کے اوپر الزام ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کے عوام کا مینڈیٹ مسترد کیا
اور اس کے مینڈیٹ کو چوری کرکے وہاں پہ فوجی آپریشن کی حمایت کی اور اس کے بعد پھر ملک ٹوٹ گیا" سینئر صحافی مطیع اللہ جان
#مینڈتٹ_چور_بیشرم_لوگ
اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی سے زبردستی استعفیٰ لینے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے سینئر فوجی افسر نے کہا کہ اگر استعفی نہ دیا تو وفاقی غیرآئینی عدالت سے نااہل کروادیں گے اسلیے ہمارے ساتھ تعاون کرو لیکن وزیراعلی نے بات نہیں مانی
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے لیکن سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو گرفتار کرنا ایک انہونی بات ہے اسمبلی قائم ہے ٹوٹی نہیں اس کو کس لیے گرفتار کیا گیا ہے؟
یہ پشاور ہے۔ جرنیلوں کو اتنی آسانی سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ مزاحمت کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کا راج چلے گا۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔