صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
شاید ہی آج سے پہلے کبھی کسی حکومت نے اتنے تمغے اپنے وزرا میں بانٹے ہوں لیکن کارکردگی یہ ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں مناسب فائر سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے 14بچے جل کر جان بحق ہو گئے ۔عوام کےبچےمر رہے ہیں دوسری طرف حکمرانوں کےبچوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اگلا بڑا عہدہ کسےملے گا!
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
صورتحال میں نیا ٹوئسٹ : دل کے ڈاکٹر نے عمران خان کو یکم اگست کو جیل میں چیک کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس کے پلان 'بی' میں ان کی 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کرانا تجویز کیا گیا تھا پھر20 اور 21 اگست کو عمران خان پمز لایا بھی گیا اب اس ٹیسٹ کا کیا ہوا اس بارے کچھ معلوم نہیں ۔۔۔ !
البتہ اب آج 22 اگست کی وزیراعظم آفس کی جاری پریس ریلیز پڑھ لیں جس میں پمز میں 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کی سہولت فعال نا ہونے کا وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی
تو اس کیا مطلب لیا جائے کہ پمز میں تمام سہولیات موجود نہیں ہیں ؟؟؟ جس کا دعویٰ حکومت کرتی آئی ہے
پی ٹی آئی کے قانون دانوں اور وکلا نے دیر کر دی
عمران خان کو ھسپتال منتقلی متعلق حکم دینے والے تین معزز ججوں کا بنچ آج تک دستیاب تھا مگر توہینِ عدالت کی درخواست آج دائر نہیں کی گئی۔ اگر آج یہ درخواست دائر ہو جاتی تو ممکنہ طور پر یہی بنچ آج ہی لگ سکتی تھی اور اس پر کم از کم نوٹس جاری کر سکتا تھا۔ اب یہ ججوں کا بنچ آئیندہ پورے ہفتے بھی دستیاب نہ ہو گا اور کل ہفتے کو درخواست دائر ہونے کی صورت میں یہ کیس کسی اور بنچ کے سامنے بھی لگ سکتا ہے جس سے سپریم کورٹ کا پہلا حکم مزید تشریحات کا شکار ہو سکتا ہے۔
عمران خان کو جیل سے اسپتال لایا گیا چیک اپ کے بعد واپس جیل بھیج دیا گیا اسکا مطلب یہ کہ وہ صاحبان جن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوئی ڈیل کر لی ہے وہ غلط ثابت ہو گئے حکومت نے توہین عدالت سے بچنے کے لئے ایک کڑوا گھونٹ پیا لیکن حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی
یہ کیا پوری دنیا کے ساتھ Prank پرینک ہوگیا ہے،اب پتا چل رہا ہے کہ اڈیالہ جیل سے دو قافلے روانہ ہوئے،ایک شفاء ہسپتال کیلئے اور ایک پمز ہسپتال کیلئے،ڈاکٹر فیصل سلطان کا قافلہ شفاء ہسپتال پہنچا جبکہ عمران خان اور ڈاکٹر عظمٰی خان کا قافلہ سرکاری ہسپتال پمز پہنچا اور پمز میں چیک اپ کے بعد عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا،اب ہم سب کے ساتھ تو Prank ہو ہی گیا مگر وہ تمام لوگ جو یہ خبریں دے رہے تھے کہ عمران خان نے ڈیل کر لی یا جو یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کو NRO مل گیا اُن سب افلاطونوں کا کیا بنےگا،پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان نہ نوازشریف اور نہ آصف زرداری،نہ ڈیل کرے گا اور نہ اُسے NRO قبول۔۔
وہ بنی گالہ میں تھا تو بنی گالہ خبروں میں تھا،وہ زمان پارک میں تھا تو زمان پارک ٹرینڈ کرتا رہا،وہ اڈیالہ جیل میں تھا تو چاروں طرف اڈیالہ جیل کےچرچےتھےاور آج دیکھ لیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو،پوری دنیا میں شفاء ہسپتال کی گونج۔۔
خیراتی حکومت والے کل بھی کسی گنتی میں نہ تھے اور خیراتی حکومت والے آج بھی کسی گنتی میں نہیں۔۔
بہت خطرناک ہارٹ اٹیک ہے
دل کی سرجریاں ہونی ہیں
گردہ سٹیج تھری پر ہے اور فیل ہوسکتے ہیں
ایک نہیں کئی سرجریاں ہونی ہیں
ایک ریکور ہوگی تو دوسری پھر تیسری پھر چوتھی سرجری
اور علاج کیلیے کئی مہینے کئی سال لگ سکتے ہیں
یہ حالت بتائی گئی تھی
پنجاب حکومت کی جانب سے تزئین و آرائش کے بعد تیار کردہ راولپنڈی کا ماڈل راجہ بازار بھی بارش کی تاب نہ لا سکا اور ڈوب گیا
دکانداروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔
مطیع اللہ جان 🔥🔥🔥
اس حکومت نے عمران خان کے علاج کروانے پر بھی نظر ثانی کی اپیل کرکے ثابت کردیا کہ یہ کتبے بدتہذیب کتبے بے شرم کتنے پست ذہنیت کے لوگ ہیں
۔خود انکا لیڈر لندن فرار ہوگیا تھا 4 ہفتے کا کہہ کرگیا 4 سال واپس نہ آیا معلوم نہیں یہ کس منہ سے عمران خان کا پاکستان میں ہی علاج کروانے پر اعتراض کر رہے ہیں یہ وزیراعظم یہ وزرا نون لیگ انتہائی شرمناک لوگ ہیں
ابھی تو مکمل فیصلہ آیا نہیں جب عدالت کو بتایا جائے گا کہ کتنے مقدمے ہیں انکی ملاقاتیں بند انکے ڈاکٹر تک رسائی ختم کردی گئی انکی جان کو خطرہ یے سپریم کورٹ نے انکی جان بچانے کی خاطر فیصلہ کیا یے اور ان شرمناک مکروہ کرداروں کو تکلیف اٹھنا شروع ہوگئی
اگر عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا،تو ہر قیدی یہ سہولت مانگے گا جس سے پورا کریمنل سسٹم متاثر ہوگا۔۔ن لیگی وزاراء
میرےپیارے ن لیگی یہ بھول چکے کہ نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جسے سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں کیلئے آرام سکون کیلئےجیل سے گھر بھجوایا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کا 3 ہسپتالوں میں علاج ہوا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کیلئے لاہور،کراچی،اسلام آباد کے ڈاکٹر ایک چھت تلے جمع ہوئے،میڈیکل بورڈ بنا اور علاج ہوا،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کیلئے عدالتوں میں فل ڈے سماعتیں ہوئیں،نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جس کی عدالتوں نے عمران حکومت سے زندگی کی گارنٹیاں مانگیں اور نوازشریف وہ خوش نصیب مجرم تھا جسے 50 روپے کے سٹامپ پیپر پر اور بھائی شہبازشریف کی گارنٹی پر جیل سے سیدھا علاج کیلئے لندن بجھوایا گیا،پیارے ن لیگیو جب مجرم نوازشریف کو بھانت بھانت کی سہولتیں مل رہی تھیں تب آپ کو باقی قیدی اور کریمنل سسٹم کیوں یاد نہ آئے۔۔
آواز دروں —•—
پی ٹی آئ کے قائد عمران خان کی الشفا ھسپتال منتقلی اور انکی
ھمشیرہ و ڈاکٹر کی ان سے ملاقات کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ھے
اس فیصلے سے عدلیہ کا کھویا ھوا وقار بحال ھو گا ،
سچ یہ ھے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ھوا ھے ۔۔ برسات کی حبس زدہ رُت میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ھوا کا جھونکا ھے ۔۔
اس فیصلہ پر معزز جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ھیں ، اگر اسمیں ریاستی منشا شامل ھے تو اسے بھی سراھا جانا چاھئیے ۔۔۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور زندگی انتہائ اھم ھیں ، اسپر کوئ سمجھوتہ نہیں ھونا چاھئیے ، انکی جماعت اور اھل خانہ کو بھی اس حوالہ سے آئیندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاھئیے ۔۔ انکا ذمہ دارانہ رویہ اگلے راستے کھُلنے کی صورت متعین کرسکتا ھے ۔۔
ھم پہلے بھی ان صفحات پر عمران خان صاحب کے اھل ِ خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمے اور انکی مرضی کے ڈاکٹرز تک انکی رسائ کے حق میں آواز بلند کرتے رھے ھیں
ھماری اطلاعات کے مطابق حکومت نے انکے علاج کیلئے ماھر ڈاکٹرز مامور کیے رکھے ھیں اور علاج معالجہ میں اپنے تئیں کوئ کمی نہیں کی لیکن جیلیں بھگتنے والے جانتے ھیں کہ کوئ بھی شخص اتنا طویل عرصہ قید تنہائ میں رکھا جائیگا تو اسکی صحت متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکتی
جیل اپنے قیدی کو کسی نہ کسی بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ھے ، یہ آپ بیتی بھی اور جگ بیتی بھی ۔۔۔
اگر قیدی آپکا سیاسی مخالف ھو تو اسکی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی اشد ضروری ھو جاتی ھے
بہتر ھوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب فریقین ذمہ داری کا مظاھرہ کریں اور عمران خان صاحب کیلئے آسانی کا معاملہ پیدا ھونے دیا جاۓ
ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوھدری ، عمر چیمہ ، میاں محمود الرشید سمیت PTI کے باقی اسیران بھی ایسی توجہ کے حقدار ھیں
اس موقع پر طعنہ زنی ، گالی گلوچ اور انکے دور ِ اقتدار کی سختیاں یاد کرنیکے یا دھرانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں ھے !!!
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔
@siasatpk بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں یہ لوگ۔
کےپی کے میں جو لوگوں پر نگران حکومت پر ظلم ہوا اسکا بدلا لے لیا آپ لوگوں نے؟
ان سرکاری ملازمین کو سزائیں دلوا دیں آپ نے؟
نہیں نا تو پنجاب یا وفاق میں تو ویسے ہی پھٹ جانی انکی کاروائیاں کرتے۔
غضب ؟؟پٹرول اصل قیمت سے 139.93 اور ڈیزل 116.10 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ اتنے ٹیکس وصول کرنے کے باوجود پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کیون بڑھ رہا ہے؟ کہاں ہے گڈ گورنینس اور وہ اکنامک مینجمنٹ جس کے بڑے بڑے دعوےکئے جاتے ہیں؟ عوام کو کب تک لوٹا جائے گا؟ https://t.co/rI9BIi1Hkh