ذریعہ جہاں برادران وطن کو ایک مہذب انسان اور ذمہ دار شہری بننے، اپنے اندر وسعت نظری اور وسعت قلبی پیدا کرنے کا درس دیا، وہیں مسلمانوں کوتلقین کی کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں، اس کی رنگا رنگ تہذیب کے ماننے والوں کے ساتھ شرافت وانسانیت کا سلوک کریں، مل جل کر رہیں، ہندو
کیا آپ جانتے ہیں امریکہ کے سفر پر گئے تو وہاں کی یونیورسٹیوں اور مجلسوں میں جو تقاریریں کیں ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ اور ’’نئی دنیا‘‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آگئی ہیں، ان تقاریر میں حضرت نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ’’امریکہ میں مشینوں 👇
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
ودماغ کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرتے جاتے تھے، اس بالواسطہ ترسیل سے حضرت نے وہ کام لیا جو زورِ خطابت اور جوش بیان سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی طریقہ نے عوام الناس سے اہل علم تک سب کو متاثر کرکے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
مولانا نے پورے ملک میں پیام انسانیت کی تحریک شروع کر دی۔ شہر بہ شہر برادران وطن کو خطاب کیا۔ مولانا کا یہ وہ کام ہے جس کی نظیر ہندوستان میں پچھلی کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ دینی اور دعوتی شعور کی یہ مثال کسی شخصیت کے یہاں
#مفکر_اسلام_علی_میاں_رح
مولانا نے پورے ملک میں پیام انسانیت کی تحریک شروع کر دی۔ شہر بہ شہر برادران وطن کو خطاب کیا۔ مولانا کا یہ وہ کام ہے جس کی نظیر ہندوستان میں پچھلی کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ دینی اور دعوتی شعور کی یہ مثال کسی شخصیت کے یہاں
#مفکر_اسلام_علی_میاں_رح
وہ ایک درویش صفت انسان تھے ،ان کی بے نیاز طبیعت دنیا طلبی سے کوسوں دور تھی ، انھوں نے عقل و دل دونوں کو ایک ساتھ جمع کرلیا تھا ، تصوف وسلوک کے ساتھ اجتماعی ذمہ داریوں کو نبھانا آسان نہیں ہوتا لیکن انھوں نے ان دونوں صفات کو اپنے اندر جمع کرلیا
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
کیا آپ جانتے ہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جس میں حکومت دبئی کی جانب سے دیا جانے والا "القرآن ایوارڈ" اور سعودی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا "شاہ فیصل ایوارڈ" سب سے اہم ہے ۔
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
ان کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے تاہم چند اہم کتابوں کے نام درج ذیل ہیں :
1. انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر
2. تاریخ دعوت وعزیمت ( پانچ جلدیں(
3. اسلامیت و مغربیت کی کشمکش
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
کیا آپ جانتے ہیں
مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی 24 نومبر 1914 میں تکیہ کلاں رائے بریلی میں پیدا ہوئے اورآج کی ہی تاریخ یعنی 31 دسمبر سنہ 1999 میں آپ اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
آج بھی آپ کی یہ کتابیں دنیا کے مختلف ممالک کی اسلامک یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں
ـ علی میاں ندوی کی تصانیف:
ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین
انسانی دنیا پر عروج و زوال کا اثر
قصص النبیین
القرات الراشدہ
تاریخ دعوت و عزیمت
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
حضرت کا عوام سے خطاب ہو یا طلباء سے گفتگو، اہل علم سے درد دل کہہ رہے ہوں یا حاکم وامراء کو نصیحت فرما رہے ہوں سب کو وعظ ونصائح کے بجائے آئینہ دکھانے پر وہ یقین رکھتے تھے اور سننے والے اس آئینہ میں اپنی صورت وسیرت کی کمزوریوں ، اپنے دل
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
#مفکراسلام_علی_میاں_رح
حضرت نے ملی مسائل کے حل کے لئے بھی جو بن پڑا اس سے دریغ نہیں کیا ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ ہو، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ یا ’’پیام انسانیت‘‘ کا پلیٹ فارم سب کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کیا، بالخصوص ’’پیام انسانیت‘‘ کے