She headed to a coffee shop to write for her blog and map out upcoming posts. While there, she snapped a picture of her look—white linen blouse paired with her laptop, appearing neat and sharp. Meanwhile, a koala cat dozed off on the chair.
After some time, I begin reflecting on the upcoming competition and the objectives I hope to reach. My aim is to increase my speed, refine my swimming technique, and earn additional medals. Yet, I also keep in mind the initial reason I took up swimming—for enjoyment and tranqui
🖖Remain clear-headed, practice self-control, and recognize the right moments to move forward or step back.876921Even minor specifics such as thread measurements and packaging materials play a key role in ensuring convenience for users and ease of shipping.
Let go of the dusty echoes of yesterday; the pages have turned, and new landscapes are unfolding before you. Release your heart so it can embrace fresh, beautiful connections and the gentle, unexpected moments of joy that lie ahead. 🦂Tidying up the balcony Balcony, ready for a
اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے اس حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام علیکم!
میں کچھ حقائق عوام کے سامنے لانا چاہتا ہوں
9 مئی کے بعد میرے ساتھ اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے7 مئی کو میری ATC لاہور میں Bail کنفرم ہوئی تو میں اُسی دِن لاہور سے باہر چلا گیا کیونکہ 31 مئی کو میری بیٹی کا نکاح ہونا تھا سوچا 11 مئی کوATC اسلام آباد میں بھی تاریخ ہے لہذا اُس سے پہلے جو انتظامات کرنے ہ��ں وہ بھی کر لیے جائیں دوست احباب و رشتے داروں کو دعوت پر بھی مدعو کرلیا جائے بُکنگ فلیٹیز ہوٹل میں کروائی وہاں سے تصدیق کی جاسکتی ہے
9مئی کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہے جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے املاک کو نقصان پہنچانے والے کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
پولیس نے ہمارے گھروں پر ریڈ کرنی شروع کر دی گھر پر صرف والدہ صاحبہ ، بیٹی اور بیٹا موجود تھے۔
چند روز قبل تقریباً رات 3بجے میرے گھر کے دروازے توڑ کر 30/40 لوگ داخل ہوئے اور بدتمیزی شروع کر دی اور کہا “وہ قاتل ہے کدھر ہے اُسکو نہیں چھوڑیں گے” میری اہلیہ نماز تہجد پڑھ رہی تھی جبکہ بیٹی اور بیٹا اپنے کمرے میں تھے والدہ صاحبہ کی عمر 85 سال ہے آکسیجن پرہیں
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک پتہ آپکے محافظوں نے کیا کیا؟
گھر میں موجود جہیز کا قیمتی سامان اور سات لاکھ روپے نقد اور DVR لے کر چلے گئے میری والدہ صاحبہ چیختی رہی کہ ایسا نہ کرومحافظ ن�� ماؤں کا احترام بھی نہ کیا خوب بدتمیزی کی، میں آپ سے یہی اُمید کر سکتا تھا کہ آپ لوگ اخلاقیات سے اتنے نیچے گر جاؤ گے ��رم آنی چاہیے تھی۔
میں ایسے نظام اور محافظوں پہ لعنت بھجتا ہوں آپ سمجھ رہے ہو گے کہ یہ صدا ایسے ہی چلنا ہے بے شک ہر رات کے بعد صبح ہر مشکل کے بعد آسانی اور ہر آزمائش کے بعد اس کا صلہ ہے ۔۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بیٹی کا نکاح منسوخ کیا کیونکہ سامان تو میرے پنجاب کے محافظ ہی لوٹ کر لے گئے کوئی نہیں اللہ تو ہے۔ تاریخ کینسل کروانے کی بینکوٹ ہال ( فلیٹیز ہوٹل) سے تصدیق کرلیں۔
لوٹ مار کے لیے گھروں میں داخل ہوتے ہیں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں
میری بڑی بہنوں کے گھروں میں دو دو دفعہ ریڈ کیا جا چکا ہے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ جو ہاتھ لگا میرےمحافظ ��اتھ لے گئے
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک بہنیں بیٹیاں اور مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں آپ سب کی اصلیت تو میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہنے کو آپکے خلاف بہت کچھ ہے وضع داری بڑی چیز ہوتی ہے جو میرے بڑوں نے مجھے سکھائی ہے
میری بھتیجی کے سسرال پہ ریڈ کی گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوئے بدتمیزی کی اور جو ہاتھ لگا محافظ لوٹ کر لے گئے
میری بڑی بھتیجی کا سسرال باغبا�� پورہ ہے کل رات اُسکے گھر ریڈ کی جنکا دور دور تک میری سیاست سے کوئی تعلق نہیں اُسکے دیور کو مارتے ہوئے ساتھ لے گئے ناک کی ہڈی توڑ دی اور CIA میں بند کر دیا
بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کے گھر ریڈ کی اور بھابھی جو کہ ہارٹ پیشنٹ ہیں انکو اور میری بھتیجی جو کہ ڈاکٹر ہے ہراساں کیا اور کہا “قاتل کدھر ہے” DVR اور قیمتی سامان جو ہاتھ لگا ساتھ لے گئے
میرے پنجاب کے محافظ اب ناکوں سے پیسہ اکٹھا نہیں کرتے بلکہ گھروں میں بدمعاشی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں
میرے بڑے بھائی جو علامہ اقبال ٹاون میں رہتے ہیں انکے گھر ریڈ کی انکی بہوؤں کے ساتھ بدتمیزی کی انکی بیوی نے بھی ابھی دل کا اپریشن کروای�� ہے انکے ساتھ بدتمیزی توڑ پھوڑ اور جو لے کر جانا تھا لے گئے ہر کسی کے گھر دو سے تین دفعہ ریڈ کرچکے ہیں ہر دفعہ میرے پنجاب کے محافظ بھوکے کتے کی طرح آتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ہڈی ساتھ لے جاتے ہیں۔
میرے بھائی اکرم اقبال کے گھر ریڈ کیا اُنکے بیٹے حمزہ اور اکرم بھائی کو پولیس ساتھ لے گئی۔اکرم بھائی کا ایک بیٹا معذور ہے جسکی عمر 25سال ہے اور وہ باتھ روم تک بھی خود نہیں جاسکتا نہ کھانا خود کھا سکتا ہے۔ باپ ہی اسکے سارے معاملات کرتا ہے۔آج انکو بغیر کسی FIRاور جرم کے لے کر گئے ہوئے 8دن سے ذیادہ ہو چکے ہیں۔باپ اور بیٹا حمزہ CIAکے پاس ہیں۔
افضل اقبال بھائی اور امجد اقبال بھائی کے گھروں پر ریڈ DVRاور قیمتی اشیاء چوری کرکے میرے بھوکے محافظ انکے گھروں سے بھی لے گئے ہیں۔
یہاں تک کہ میرے رشتہ دار جوہر ٹاؤن رہتے ہیں وہاں پر ریڈ کی اُنکا بیٹا راحیل انگلینڈ سےاپنی نوزائیدہ بچی دیکھنے آیا تھااسکو ساتھ لے گئے۔ تھانے اچھرہ میں اسکو بجلی کا کرنٹ لگاتے رہے کہ بتاؤ میاں اسلم اقبال کدھر ہے۔ انہوں نے بیٹے کو چھوڑیا اُسی دن انگلینڈ واپس بھیج دیا وہ وہاں اپنے بازو کا علاج کروا رہا ہے۔
میرے ڈیرے پر ریڈ بار بار ک�� اور وہاں سے DVRلے کر چلے گئے۔ کام کرنے والے لڑکے قیصر کو پکڑلیا۔ عدالت سے اسکی بازیابی کروائی گئی۔کل رات پھر ریڈ کی اور دوسرے ملازم مرتضی کو لے کر چلے گئے اور ستم ظریفی کہ مار مار کر بُرا حال کر دیتے ہیں۔
آج میرے سب سے بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کو CIA ڈیفینس لے کر چلے گئے اُنکا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے۔ لیکن میرے پنجاب کے محافظ چیف سیکریٹر�� سے لے کرIGاور IGسے لے کر نیچے تک کے عہدوں پر مزے لے رہے ہیں اور چھوٹے محافظ لوٹ مار کر رہے ہیں۔
📌آخری بات میرے کوئی 9 مئی کے حوالے سے کوئی آڈیو کال، ویڈیو کال یا کلپ، کوئی میسج کچھ ہے تو سامنے لاؤ۔جیو فینسنگ کر لیں CDR کچھ تو سامنے لاؤ۔
یہ تو ایک سیاسی آدمی کے گھر ریڈوں کی بات ہورہی ہے کتنے ہزاروں بے گناہوں کے گھروں پر ریڈ اور لوٹ مار کی کہانیاں سب کے سامنے آئیگی پھر چیف سیکرٹری، آئی جی، چیف آفسر CCPO، SSP CIA، جواب دہ ہونگے۔
سوچاتھاوضع داری میں خاموش رہولیکن یہ ظلم تو بڑھتا جا رہا ہے
سوچا عوام کو تو بتا دوں اور ان افسران کو بھی تاکہ یہ نہ کہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا
25 مئی کو CCPO نے یہی کہا تھا کہ میاں صاحب مجھے پتہ نہیں تھا اور 10 بار اس نے دوست بھیج بھیج کر معافی مانگی تھی اور ایک شادی پر ہاتھ جوڑ کر بھی معافی مانگی کہ آپکے گھر پولیس میں نے نہیں بھیجی تھی اگر یہ اس بات سے انکاری ہوا تو دوستو کے نام بھی بتا دونگا
آخری بات اگر میرے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو FIR چیف منسٹر ، چیف سیکرٹری ، ��ور متعلقہ جو تھانوں سے آئے انکے SP, اور SHO پر کٹے گی۔ انشااللہ
پہلے بھی 25 مئی والی FIR کورٹ میں آڈر کے ساتھ پڑی ہے جس میں چیف سیکرٹری سے لے کر CCPO تک FIR کے آڈر موجود ہیں۔
تھانے نہیں FIR کرے گا تو Private Complaint استغاسہ ہی ہیں۔
میرا سب سے بڑا ذاتی دُکھ یہ ہے کہ جس ٹولے نے پاکستان کو بدنام کیا۔ ڈان لیکس کروائ۔ میمو گیٹ کیا۔ بھارت میں دہشتگردی کو پاکستان کا قُصور بتایا۔ اینٹ سے اینٹ بجا دینگے کہا۔ اے پی ایس کے بچوں کو ہم نے خُود مروایا کہا۔ پارلیمان میں کھڑے ہوکر کہا کہ فوج ہڈیّوں سے گوشت نوچ گئی قوم کا۔
اللہ جانے اور کیا کیا نہیں کہا۔
وہ اچانک کیسے آبِ زم زم کے دُھلے ہوگئے ؟ اور ہم جو تمام زندگی د��اع کرتے رہے پاکستان کے نام اور وقار کا ہم کیسے سوالیہ بن گئے ؟
اللہ گواہ ہے کہ اس سے زیادہ کوئ سوچ نہیں تنگ کرتی۔
میں اپنے کارکنان اور قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں اور اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہمارے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو قید میں ڈالے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔
اسی طرح عدالتی احکامات کے باوجود صحافی عمران ریاض خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور ان پر تشدد کی مصدّقہ اطلاعات ہیں۔
میں اپنی خواتین قائد��ن، کارکنان اور اپنے قائدین اور کارکنان کی اہلِ خانہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
شہریار آفرید�� کی اہلیہ کو کیسے قید کیا جاسکتا تھا؟
واضح طور پر یہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ اپنے آئینی حقوق کیلئے کھڑے نہ ہوسکیں۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انکی صاحبزادی پر مرد پولیس اہلکاروں کے حملے کے بارے میں جان کر میں نہایت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر شیریں مزاری اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے اغواء کیا گیا اور تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر شیریں مزاری کے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔
ہماری خواتین کارکنان سے کئے جانے والے وحشیانہ سلوک، جس کے ویڈیو شواہد بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں نہایت قابلِ نفرت و مذمت ہے۔
ہماری بہت سی خواتین اراکینِ قومی اسمبلی، کارکنان اور حمایتیوں کو نہایت غیرانسانی حالات میں ملک بھر کی جیلوں میں ٹھونسا جارہا جہاں وہ پولیس کی زیادتیوں کی زد میں ہیں۔
اس فسطائی حکومت کی جانب سے ان خواتین شہریوں کا اغواء اور ان سے کیا جانے والا بہیمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہی نہیں بلکہ ہمارے کلچر اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
ان تمام خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہیں پیہم قید میں رکھنا نِری بےحسّی ہے۔ میں یہ سارا معاملہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے سامنے بھی رکھ رہا ہوں۔
کمراٹ ویلی:
قدرت کے حسین نظاروں، یخ بستہ ہواوں، میٹھے پانیوں، فلک بوس پہاڑوں کو آغوش میں لئے وادی کمراٹ سیاحوں کے لئے دنیا میں جنت سے کم نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
پر امن علاقہ ہے بوقت ضرورت آپ روڈز پر بھی سو سکتے ہیں یہاں چوری ڈکیتی دور دور تک دیکھائی نہیں دیتی