آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے ( کسی دوسرے مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے“۔
(جامع ترمذی،۱۹۳۲)
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔
(سورۃالنحل ، ۷۰)
جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نےایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپؐ کو دیکھنے لگااور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ کون زیادہ خوبصورت ہے) آپؐ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے،اور آپؐ مجھے چاند سےبھی زیادہ حسین نظر آ رہےتھے۔
(ترمذی،۲۸۱۱)
اور(اے پیغمبرﷺ!)کسی بھی کام کےبارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا،ہاں (یہ کہو کہ)اللہ چاہے گاتو(کرلوں گا)۔اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنےرب کویادکرلو، اورکہو: مجھےامیدہےکہ میرارب کسی ایسی بات کی طرف میری رہنمائی کردےجوہدایت میں اس سےبھی زیادہ قریب ہو۔
﴿الکہف ۲۳،۲۴﴾
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اُس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا۔ یقین جانو یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔
سورۃ الحدید
اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اُس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔
سورۃ الطلاق
پانچ نمازیں اللہ نےفرض کی ہیں،جو ان کا وضو عمدہ بنائے اور انہیں ان کےاوقات پر ادا کرے،ان کے رکوع اور خشوع کامل رکھے،توایسےشخص کےلیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسےبخش دے گا۔اور جو یہ نہ کرے تو اس کےلیے اللہ کاکوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہےتو معاف کر دےاور اگر چاہے توعذاب دے۔
(ابوداؤد،۴۲۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔
(سنن ابوداؤد،۴۸۷۷)
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
میدان عرفات میں رسول اللہ نے کثرت سے یہ دعا بھی فرمائی :
’’ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا ، اَللّٰھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ، وَ یَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَ شَتَاتِ الْاَمْرِ وَ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَایَلِجُ فِیْ اللَّیْلِ وَ شَرِّ مَا
یَلِجُ فِیْ النَّھَارِ وَ شَرِّ مَا تَھِبُ بِہِ الرِّیْحُ وِ شَرِّ بَوَائِقُ الدَّھْرِ‘‘ (۱)
’’اے اللہ ! میرے دل میں ، میرے کانوں میں اور میری آنکھوں میں نور پیدا فرمادے ، اے اللہ ! میرا سینہ کھول دے ، اور میرے ہر کام کو آسان فرمادے اور میرے دل کے وسوسوں ، کام کے بکھرائو اور قبر کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ، یا الہی ! میں رات اور دن میں درپیش ہونے والی چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں ، اور ان چیزوں کے شر سے بھی جنہیں ہوا اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے اور زمانہ کی ہلاکت خیزیوں کے شر سے ‘‘
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے ، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ، یہاں تک کہ قربانی کرلے ( پھر بال اور ناخن کاٹے )۔
(صحیح مسلم،قربانی کے احکام۔ ۵۱۲۱)