لالہ موسیٰ کا ریلوے اسٹیشن ہو، لاہور کا ڈایئوو ٹرمینل یا ہیتھرو کا ائیر پورٹ، اداسی اور جدائی ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ ملنے بچھڑنے کی دھوپ چھاؤں میں سو طرح کے خیال اور خدشے دل پر اپنا سایہ ڈالتے ہیں۔ بیٹے کا پردیس جا کر کمائی کرنا اور چیز ہے، بیٹی کا رخصت ہو کر سسرال جانا اور بات ہے۔ شوہر کی ملازمت کا سفر اور ہے بچوں کی تعلیم کا سفر اور۔ مگر ہجر فراق کے اس ساون بھادوں سے پرے، ٹکٹ بابو، اسٹیشن ماسٹر، بکنگ کلرک، کنڈکٹر ، جہاز کا عملہ اور سوہن حلوہ، سندھی اجرک، پرانے ناول، ٹھنڈے جوس،یخ بوتلیں اور باسی اخبار بیچنے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ آنسوؤں اور نیک تمناؤں سے بے نیاز یہ طبقہ جذبات کے سمندر میں الگ تھلگ جزیرے کی مانند ، خشک اور لاتعلق رہتا ہے۔ ان مسافروں کے جذبات کی پرواہ صرف خیرات لے کر خیر کی دعا دینے والے مستقل فقیر کرتے ہیں۔
ریل کی سیٹی۔ محمد حسن معراج۔ سنگِ میل پبلی کیشنز
Thrilled to welcome Judith Ravin as our Strategic Advisor! Former U.S. diplomat with 20+ years in international relations & strategic communications, now a Fellow with The DREAM Project & Harvard W3D Latin America lead. Excited for her impact!
#MMPF#Leadership#SustainableFuture
واقعہ، وقت کی دہلیز پہ گرتی بارش ہے جو دکھ اور سکھ، دونوں دان کرتا ہے۔ کچھ کہانیاں پرانی ہیں لیکن بنیاد کا پتھر اس لئے بھی ضروری ہے کہ عمارت اس پہ استوار ہوتی ہے۔ کچھ قصے نئے ہیں کیونکہ حیران ہونا، سانس لینے جیسا ضروری ہے۔ طوالت کی پیشگی معذرت
https://t.co/ylmpdzKaHG
Next to flashy banners of 10 years of excellence of @qatarairways, the transfer desk at Doha this morning is a site of sheer chaos, mismanagement, and poor handling of distressed passengers.
کہنے کو پربھات صرف اس وقت سے مخصوص ہے جب رات کی تاریکی چھٹ رہی ہو اور دن کی روشنی راستہ بنا رہی یو لیکن کچھ پراکرتوں میں اس سے مراد وہ لمحہ لیا جاتا ہے جس میں دو وقت مل رہے ہوں۔ لکھنے والوں نے اس خوبصورت لفظ کو یوں بھی تمثیل کیا ہے کہ جب عمر کا ایک دور، دوسرے میں داخل ہوتا ہے۔
یہ یادداشتیں پربھات کے ایک باب سے اٹھائی گئی ہیں اور پربھات کے ہی دوسرے باب میں بیان ہو رہی ہیں، فرق بس اتنا ہے کہ اس وقت، طے کیا گیا سفر کم تھا اور اس وقت، باقی کی مسافت تھوڑی ہے۔
کالج کی چٹھیاں، ستانوے کے انتخابات، سٹھ میل کا دوست، برطانیہ کی شاہزادی۔۔۔۔۔
گزرے ہوئے کل کی یاد گیری، شائد آگے بڑھتے ہوئے آج اور آنے والے کل کا سامنا کرنے کے لئے آدم زاد کا آزمودہ حربہ یے۔ وقت کے اکھاڑے میں مگر یہ کھیل صرف ہار جیت تک محدود نہیں۔۔۔
https://t.co/NHyeSl9j6n
اس میں ان استادوں کا ذکر ہے جن کی عطا کی گئی تفہیم سے زندگی کا ادراک ممکن ہوا.عبداللہ حسین نے کسی کہانی کے آغاز میں لکھا ہے،آدمی کی یاد کا لنگر بھی عجیب منظر ہے۔
سو لائل پور کی ایک محلہ نما بستی سے اٹھا ہوا یہ لنگر شائد اس لئے بھی مجھے سائبان ہے کہ وہ آنچل جو آسمان تھے، نہیں رہے
"وقت کی یہی ایک بات اچھی یے کہ یہ گزر جاتا ہے"
یہ جملہ ابو کے تقریبا ہر پانچویں یا چھٹے خط میں پڑھنے کو ملتا تھا۔ آج، مگر وقت، وکرم کے بیتال کی مانند گزرنے کے احساس سے گریزاں ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے 1993 کے وسط سے شروع ہونے والی کہانی سننے پہ اصرار کیا۔
I spoke with @MHM1657 about our respective experiences in different cadet colleges in Pakistan. He is a Sargodhian, alumnus of PAF College Sargodha while I attended Cadet College Hasan Abdal from 2004-06. In first of this multipart discussion, we recounted our pre-admission memories.
#Pakistan #CCH #PAF #Sargodhian #Abdalian
https://t.co/fNI2Yt5WOq