2000 روپے کا چالان ہونے پر رکشہ ڈرائیور نے نہر میں چھلانگ لگا دی!
مریم نواز صاحبہ! یہ بات یاد رکھیے گا کہ اس دفعہ شاید لوگ آپ کو بھاگنے کا موقع بھی نہ دیں۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک غریب مزدور دن بھر میں بمشکل 1700 سے 1800 روپے کماتا ہے، مگر اس کے رکشے کا چالان 2000 روپے کر دیا جاتا ہے۔ اوپر سے 400 روپے کا پٹرول الگ!
سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں ایک شہری کے رکشے کا 2000 روپے چالان ہونے کے بعد نہر میں چھلانگ لگا دی
مریم نواز صاحبہ! کیا غریبوں کو اس لیے زندہ رہنے کا حق نہیں ۔
یہ نومبر 2007 کے وسط کی بات ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے ڈرائنگ روم میں پولیس کے ایک اعلی ترین افسر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ موصوف ڈاکٹر صاحب سے دیرینہ نیاز مندی رکھتے تھے اور جب کبھی پتہ چلتا کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں موجود ہیں تو شام کے بعد ملنے آجایاکرتے۔ افسر صاحب سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہو رہی تھی۔ ملکی سیاست پر ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ اب مزید 10 سال تک مشرف کا ہی اقتدار ہے۔ انہوں نے بڑی واضحیت اور اعتماد سے دعوی کیا کہ 7 نومبر کو کامیابی سے ایمرجنسی لگانے کے بعد مشرف اب ویسا ہی مضبوط ہو چکا ہے جیسے وہ 1999 میں تھا۔ میں حیرت سے ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس وقت یہ سوچ صرف ان کی نہیں تھی مشرف کی جماعت کے بہت سے لوگوں کی یہ ہی سوچ تھی۔ ۔ اکتوبر ميں 2007رمضان المبارک کے آخری عشرے میں چوھدری پرویز الہی نے منہاج القرآن کے شہر اعتکاف کا وزٹ کیا۔ ان ڈاکٹر صاحب کے حجرہ اعتکاف میں ملاقات کے دوران انہوں نے کمال اعتماد سے اس بات کا اظہار کیا کہ نئے انتخابات کے بعد ان کی جماعت کی نہ صرف پنجاب میں بلکہ مرکز میں بھی دوبارہ حکومت قائم ہو رہی ہے!! بعد ميں ہوا کیا وہ آپ سب جانتے ہيں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے بعد موجودہ حکومت اور ریاستی حلقے بھی بلا کے اعتماد میں ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ اب موجودہ حکومتی نظام کو دہائيوں تک کوئی خطرہ نہیں۔ مستقبل بعید میں تاحد امکان آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہی ہونگے۔ کچھ مہینوں و سالوں کی بات ہے عمران خان کا کرشمہ ختم ہو چکا ہوگا۔ ان کے ورکرز تھک چکے ہونگے۔ تنظیمات توڑ پھوڑ کا شکار تو پہلے ہی ہیں، رہی سہی کسر بھی ختم ہو چکی ہوگی۔ ملک میں بیرون سرمایہ کاری کے اربوں ڈالر آچکے ہونگے ۔ معدنیات کی برامد سے ملک بھر میں معاشی خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ 2029 میں انتخابات ہونگے تو عوام کے پاس سوائے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کوئی اور آپشن موجود ہی نہیں ہوگا۔ اگر نئی نسل کے کچھ ووٹرز نے خود سری دکھائی بھی تو ان کاآرمی چیف کی معاونت سے وہ ہی علاج کردیا جائے گا جیسا 9 فروری 2024 کو کر دیا گیا تھا اور یوں 2034 تک تو راوی کو سوائے چین کے اور کچھ نظر ہی نہیں آئے گا کہ لکھے۔ 2034 میں عمران خان ذندہ بھی ہوا تو 82 سال کاہوچکا ہوگا۔ بانس باقی بھی رہا تو وہ بانسری بننے کے قابل کہاں رہے گا؟ سو کم از کم آئيندہ تین عشرے پاکستان کی سیاسی افق پر مریم نواز ، بلاول بھٹو، ایمل ولی و مثلھم کے سیارے ہی ریاست کے خاکی آفتاب کی روشنی سے چمکتے رہیں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے اعتماد اور مشرف و ق لیگ کے 2007 کے اعتماد میں کوئی مماثلت ہے کہ نہیں؟ مجھے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے ڈرائنگ روم میں موجود پولیس افسر اور حجرہ اعتکاف گاہ میں بیٹھے چوھدری پرویز الہی کے اعتماد پر جو حیرت ہو رہی تھی اس سے دس گنا ذیادہ حیرت موجودہ ارباب اختیار کے اعتماد پر ہورہی ہے۔
میری حیرت کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان سب کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان ہے جبکہ مجھے یہ ارباب اختیار اور محافظین ریاست اصل مسئلہ نظر ارہے ہیں۔ عمران خان رہے یا نہ رہے مجھے نظر آرہا ہے کہ موجودہ نظام جبر و ظلم اب ذیادہ دیر نہیں چل پائے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی نئی نسل سو فیصد اتفاق سے اس نظام جبر سے بے زار ہوچکی ہے۔ یہ بے زاری بتدریج نفرت میں بدل رہی ہے۔ ارباب ریاست اصل مسئلے کی تشخیص ہی نہیں کر پارہے سو وہ جس دوا کا بھی اہتمام کرتے ہیں اس سے مرض میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بیزاری سے نفرت کے سفر میں تیزی آرہی ہے۔ یہ نفرت ایک حد سے بڑھے گی تو اس سے بغاوت جنم لے گی ۔ مہینوں او ر سالوں کا تعین کرنا تو میرے لئے ممکن نہیں لیکن میں یہ نوشتہ دیوار بغیر کسی دوربین کے پڑھ رہا ہوں۔پریشانی یہ ہے کہ پاکستان جیسے مذہبی مسلکی لسانی اور علاقائی تعصاب والے ملک میں اگر کوئی بغاوت رونما ہوتی ہے اس کی تباہی خاکم بدہن لیبیا و شام و عراق کی بغاوتوں سے بھی ذیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے
اس بغاوت کو روکنے کی چابی صرف ایک بندے کا ہاتھ میں ہے اور اس کا نام ہے عمران خان ۔ کاش ہمارے ارباب ریاست و محافظین ریاست یہ بات سمجھ پائیں کہ جس عمران خان کی شخصیت کو وہ ام الامراض سمجھے رہےہیں اسی کے ہاتھ اس زہر کا تریاق جو اس وقت وجود پاکستان کی رگوں میں سرایت ہو چکا ہے۔
رحیق احمد عباسی
ٹی ٹی پی کی شروع دن سے ڈیمانڈ تھی فاٹا کو کے پی سے الگ کیا جائے۔
گورنر راج ایمرجینسی لگانے کے بعد فاٹا کو خیبر پختون خواہ سے علیحدہ کر کے وفاق کے نیچے کر دیا گیا ہے۔
کل ان لیڈران کو جیل میں چودہ دن گذر گئے ہوئے ہیں، سب سے اہم بات یہ کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ گرفتار نہیں کیا گیا، بلکہ اٹھا لیا گیا ہےـ
یہ کیا ملک بنا دیا گیا ہے؟
یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک ساڑھے چار کروڑ کا نمائندہ وزیر اعلیٰ بس غائب ہے؟؟؟
یہ عمران خان کو قتل کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اس وقت عمران خان کو ان کی جانب سے قتل کرنے کی کوششوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا امکان تھا، تب ہمارے پاس اطلاعات تھیں کہ یہ اس احتجاج کو عمران خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ بالکل واضح ہے کہ عاصم منیر اب عمران خان کو مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے دہشت گردوں کو واپس لا کر دوبارہ آباد کیا۔ آج وہی فوجی اسٹیبلشمنٹ، اپنے فیلڈ مارشل کی قیادت میں، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ یا تو دہشت گردوں کو خود نکالو، یا آئی ڈی پیز بن کر علاقے سے نکل جاؤ تاکہ ہم آپریشن کر سکیں، ورنہ یہیں رہو اور فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج (Collateral Damage) بننے کے لیے تیار رہو۔
یہی زبان ہم نے مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں قابض افواج کے منہ سے سنی ہے۔ آخر یہ رجیم مقامی آبادی کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے اتنی بے تاب کیوں ہے؟ #آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
جب مریم نواز کے کمرے کے دروازے کو خراش آئی تو روایتی میڈیا میں بیٹھے شریف خاندان کے صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا،عورت کے تقدس، چادر اور چار دیواری کی پامالی کے نام پر گھنٹوں پروگرام کیے گئے، بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھی گئیں، ایسا ماتم کیا گیا جیسے ملک میں پہلی بار کسی عورت کی بے حرمتی ہوئی ہو
لیکن آج جب عمران خان کی تین بزرگ بہنوں کو گرفتار کرکے جیل کی صعوبتوں سے گزارا جا رہا ہے تو وہی عورت کا تقدس کہاں مر گیا؟ وہی چادر اور چار دیواری کہاں دفن ہوگئی؟ آج گھنٹوں پروگرام کیوں نہیں ہوتے؟ آج بازوؤں پر کالی پٹیاں کیوں نہیں بندھتیں؟ کیا عورت کی عزت صرف شریف خاندان کی عورتوں کے لیے مخصوص ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ انہیں ڈیجیٹل دہشت گردی سے نہیں، اپنی منافقت کے بے نقاب ہونے سے تکلیف ہے کیونکہ سوشل میڈیا نے ان سے وہ طاقت چھین لی ہے جس کے ذریعے یہ طے کرتے تھے کہ کس مظلوم کے لیے رونا ہے اور کس ظالم کے لیے تالیاں بجانی ہیں
🚨🚨
بیٹھے بیٹھے عمران خان کی بہادری اور استقامت کا ایک قصہ یاد آگیا!!!
تحریکِ عدم اعتماد کی رات کا واقعہ ہے۔ رمضان کی وہ رات تھی جب تحریکِ عدم اعتماد مکمل ہوئی اور عمران خان وزارتِ اعظمی سے ہٹا دیئے گئے۔
میں اس وقت پارلیمنٹ کی پریس گیلیری میں بیٹھ کر عمران خان کے زوال کو اپنی آنکھوں میں نقش کر رہا تھا۔
کارروائی کے اختتام پر میں گھر لوٹ گیا اور تنہائی میں بیٹھے سوچ رہا تھا کہ عمران خان کا باب ختم ہوا، سوچ رہا تھا یا عمران خان بیرونِ ملک چلے جائینگے یا گمنامی کی زندگی گزارینگے۔
سحری کا وقت ہوا تو پی ایم پروٹوکول سے مجھے فون آیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے صبح ۹ بجے کور کمیٹی کی میٹنگ رکھی ہے تو فواد چوہدری صاحب کو مطلع کردیجیئے۔
میں حیران رہ گیا کہ یہ شخص ابھی کچھ گھنٹے پہلے ایک محاز پر شکست سے دوچار ہوا ہے اور اب دوسرے محاز کے لیئے تیار ہے۔
یہ پہلا موقع تھا جب عمران خان نے مجھے بےحد متاثر کیا۔
دوسرے دن عمران خان بنی گالہ کے کمیٹی روم میں کالے چشمے لگائے تشریف لائے۔ لہجے میں سختی مگر چہرے پر اطمنان صاف ظاہر تھا گویا عمران خان کو یقین تھا کہ وہ اب پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیئے بدل دینگے۔
پھر عمران خان نے اسی میٹنگ میں ایک مزاحمت سے بھرپور سیاسی لاحۂ عمل دیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ میں نے بھی دیکھا، آپ نے بھی دیکھا اور پوری دنیا نے دیکھا۔
عمران خان اب رہا ہو یا نہ ہو، برسرِاقتدار آئے یا نہ آئے، لیکن اس نے پاکستان کی سیاسی بساط پر وہ نقش چھوڑ دیئے ہیں جو شاید تاریخ میں اب کبھی مٹائے نہ جاسکیں۔
کچھ لوگ طویل عرصہ اقتدار میں رہ کر تاریخ میں فراموش کر دیئے جاتے ہیں مگر عمران خان جیسے کچھ لوگ قلیل عرصہ اقتدار میں رہ کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیئے زندہ و جاوید ہوجاتے ہیں۔
عمران خان تاریخ نہیں تاریخ ساز ہے۔
عمران خان کا سیاسی منظرنامے سے غائب رہنا عمران خان کی نہیں پاکستان کی سیاست کی بدقسمتی ہے۔
یہ بات ماننے والی ہے کہ عمران خان نے ایک ایسی جماعت بنائی ہے، جس نے ماسٹرز کی ہر چیز بلاک کر دی ہے، عمران خان اس صدی کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط اعصاب کا مالک ہے، انیق ناجی
ارشد شریف کے قتل کی جو آفیشل انکوائری ہوئی اس کا ایک آفیسر آج تک نوکری پہ بحال نہیں ہوا اس انکوائری کو دبا دیا گیا اگر آپ اس انکوائری رپورٹ کو پڑھیں تو بہت کلیئر ہے کہ کس طریقے سے مارا گیا ! مظہر عباس
چلیں یہ بے شرم باہر تو نکلا اتنے دنوں سے چھپ کر بیٹھا تھا۔ ۔ میں اسے اسی لئے تو چھڑ رہا تھا کہ آپکو بتا سکوں کہ یہ گرفتار نہیں ہے۔ یہ کرا جی میں خاموش بیٹھا جنرلز کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا یہ دلال کہ گورنر راج اور ایمرجنسی غلط ہے۔ ۔ ایک ٹوئیٹ نہ کر سکا pti KPK حکومت پر کرپشن کے الزامات غلط ہے ۔ لیکن دیکھیں جیسے ہی اس بے شرم کی دم پر پاؤں رکھا فورا بل سے باہر آ گیا۔ مزے یہ لوٹتا رہا اور پارٹی کا دفاع اب تیمور جھگڑا کر رہا ہے۔
ایران کی طرف سے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹ دینے کی دھمکی سے سنسنی تو بہت پھیلی ہے۔ اور گہرائی میں تفصیلی تجزیہ تو اس کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن عام خبروں میں موجود اطلاعات کی بنیاد پہ موٹا موٹا سا جائزہ کچھ یوں ہے کہ
انٹرنیٹ کی گلوبل کنیکٹوٹی کو کوئی بڑا خطرہ نہیں کیونکہ گلوبل کنیکٹوٹی بے شمار متوازی لائنوں پہ مشتمل ہے جنہیں بچھایا ہی اس غرض سے گیا ہے کہ کسی ایک لائن کی خرابی یا مینٹیننس کی صورت میں نیٹ کا بہاؤ جاری رہے۔
البتہ گلف ممالک کی کمزوری یہ ہے کہ انکی کنیکٹوٹی ہرمز سے گزرنے والی زیرسمندر کیبلز سے ہی ہے۔ البتہ یہاں امارات کو یہ ایڈوانٹیج ہے کہ اس نے ہرمز سے باہر فجیرہ کی بندرگاہ پہ سیٹلائٹ کمیونیکشن سسٹم نصب کیا ہوا ہے جو سیٹلائیٹ سے سگنل لیکر کیبل کے ذریعہ دبئی کو بھیجتا ہے۔ اگر ایران اسے بھی اُڑا دیتا ہے تو پھر امارات بھی قطر بحرین وغیرہ جتنا ہی متاثر ہوگا۔
گلف ممالک کے بعد جو ممالک متاثر ہونگے وہ انڈیا اور پاکستان ہیں۔ پاکستان کم اور انڈیا زیادہ ، کیونکہ پاکستان کا کیبل کے ذریعہ انٹرنیٹ رابطہ چین سے بھی ہے اور ایک کیبل کو چین کو مشرقی افریقہ سے ملاتی ہے وہ پاکستان سے گزر کے بحیری عرب کے نیچے مشرقی افریقہ کے ساحلوں کو جوڑتی ہے یہ پاکستان کی یورپ کے ساتھ متبادل لائن ہے۔
البتہ انڈیا کو یورپ سے ملانے والی لائنیں گلف ہرمز سے ہی گزرتی ہیں۔
تب متبادل کیا ہوگا ؟
گلف ممالک تو غالباً ایلون مسلک کے سٹارلنک کی خدمات حاصل کرنے پہ مجبور ہو جائیں گے لیکن انڈیا کے عوام کی قوت خرید کم ہے یہان بڑے بزنس اور حکومت تو سٹارلنک کے متبادل کو اختیار کر سکتی ہے لیکن عوام اور چھوٹے بزنس کے لیے یہ بہت مہنگا ہوگا۔
باقی دنیا پہ کوئی خاص اثر نہ ہوگا ماسوائے اس کے کہ مجموعی بینڈوڈتھ کم ہو جائے گی یعنی نیٹ کچھ سست پڑ جائے گا۔
مصطفی کمال نے اپنی لیک آڈیو کا اعتراف کر لیا
یہ آڈیو اصلی ہے جہاں میں کہے رہا پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے کہا
ہمارا مینڈیٹ تو 60 فیصد جعلی ہے مگر ایم کیو ایم کا تو 100 فیصد ہی جعلی ہے
سب آہستہ آہستہ ایکسپوز ہورہے ہیں
اسد طور 🔥🔥🔥
جھوٹ بول کر خیبرپختونخوا سے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑے میرٹ والی حکومت ختم کردی گئی انکا وزیراعلی سپیکر اسمبلی اور کئی صوبائی عہدیدار غائب ہیں۔ 72 گھنٹے میں دہشتگردی کے نام پر آپریشن شروع کرنا تھا لیکن 12 دن ہوگئے وہاں اب سڑکوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔حکومت اور مقردرہ نے ایک کونسل بنائی 48 ارکان پر مبنی جو اس صوبے کے معاملات چلانے کے لیے۔ اس کونسل کے عام رکن نہیں بلکہ ڈپٹی چیئرمین علی جان مرجان کا وہڈیو بیان ہے کہ طالبان اور حافظ گل بہادر سے جنگ نہیں کرنی چاہئے مذاکرات کرنے چاہیں اور افغانستان جا کر بات چیت سے مسئلہ حل کیا جانا چاہہے۔
جس جھوٹ کی بنیاد پر مقبول ترین حکومت ختم کی گئی وہ جھوٹ بے نقاب ہوتا جا رہا یے۔ یہ 48 رکنی کونسل لڑے گی دہشت گردوں سے؟ اس طرح کڑے گی؟؟