گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا،
تفصیلی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد دونوں جماعتیں سیاسی اشتراک پر متفق ہو گئیں،
مجوزہ فارمولے کے تحت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا،
جبکہ گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ہوگا،
فارمولے کے مطابق لیڈر آف دی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہوگا،
ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا منصب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملے گا،
سیاسی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے مل کر آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا گیا،
دونوں جماعتوں نے جمہوری اقدار اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ پر اتفاق کیا،
ترقیاتی عمل تیز کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا،
قومی مفاد، عوامی خدمت اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،
یہ فیصلہ گلگت بلتستان میں سیاسی رواداری اور قومی یکجہتی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،
گلگت بلتستان میں مؤثر، مستحکم اور عوام دوست حکمرانی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا،
پنجاب کا ھیرو کون ہے یہ فیصلہ تو بہرحال پنجابی ہی کریں گے! مہاراجہ رنجیت سنگھ ہر پنجابی مسلمان، ہندو اور سکھ کا ھیرو ہے، تبت سے ملتان تک اور سری نگر سے کابل اور شملہ تک پنجاب کی تاریخی سلطنت کی سرحدیں پہنچی تو اس داستان داستان کا ھیرو مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا!! #Punjab
@Micks_it ٹوٹل بھی غلط ہے
ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے
اس حساب سے تو 4 روپے اور آٹھ آنے بنتے ہیں
چوہدری صاحب نے جلدی میں 2 روپے کا
نقصان کروا دیا 64 سال پہلے
@fawadchaudhry جب بات پنجاب اور پنجابیوں پر آئے گی۔
تو پھرہر پنجابی کا یہ فرض ہےکہ وہ مذہب،
مسلک اور پارٹی اختلاف ایک طرف رکھ کر
پنجاب کا مقدمہ لڑے۔
بہت ہو گیابڑے بھائی والا کردار، اب وقت وحالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پنجاب کی طرف اٹھنے والےہر ہاتھ اور ہر زبان کو اسی لہجے میں جواب دیا جائے
بغیر تاریخ پڑھے کالم نہیں لکھنے چاہئیں رنجیت سنگھ کا دور پنجاب کا سنہری دور ہے مسجدوں اور مندروں میں گھوڑے باندھنا رنجیت سنگھ سے بہت پہلے کی بار ہوا ، اکبر اور رنجیت سنگھ ہندوستان کے دو لبرل ترین حکمران جنھوں نے تمام مذاھب کے ماننے والوں کو احترام دیا، آپ نے پہلے پنجابیوں کو رنجیت سنگھ کی اولاد قرار دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رنجیت سنگھ پنجاب کا بیٹا تھا اور اب ابنائے اپنی غلطی مانے کے تاریخی حقائق کے برعکس کالم لکھ دیا،
پاکستان کی سیکورٹی صورتحال میں چکوال جیسا واقعہ ہونا کوئی اچنبھا نہیں سوال یہ ہے کہ جب ایسا واقعہ ہو تو ادارے رسپانس کیسے کریں جو کہ تاوقت بہترین رہا باقی سی سی ڈی پر اس آڑ میں حملے کرنے والے وہی وکلاء و کھوچل سروس ایکٹوسٹ ہیں جو موٹر وے ریپ کیس کے قاتلوں کی پھانسی کے خلاف ہیں
@AbbassFr@asimnyazee@nausheenyusuf جب سے یہ ٹیکس شروع کیا گیا یے
کوئی 5 سے 6 دفعہ پاکستان جانا ہوا ہے
مگر ہر دفعہ ہاٹ سپاٹ یا۔وائی کا استعمال کیا
بجائےاس کے کہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ پی ٹی اےکروائیں
3 سال پہلے27ہزار کا پاکستان سےفون لےلیاتھا
جس پہ آج بھی پاکستانی سم چل رہی۔اور ہر دفعہ جانےپہ فون رجسٹر والا سیاپہ بھی ختم
آزاد کشمیر کی صورتحال پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی کا موقف۔
یہ ہیں اصل کشمیری، انکی زبان، لہجہ، انکا پیراہن، انکی جسمانی ڈول ڈال، رنگت، سب کشمیریوں والی ہے. اور سب سے بڑھ کر انکا نظریہ اور پاکستان کے ساتھ انکی کمٹمنٹ.
یہ سب آپکو کنکتروں میں نہیں نظر آئے گا
آپ میں سے ہر بندہ سی ایم ایچ راولاکوٹ میں زخمی سکیورٹی اہلکاروں اور سویلین مریضوں کی بےحرمتی کی ویڈیوز لگائیں اور ارباب اختیار کے مردہ ضمیر جگانے کی کوشش کریں۔
ان بےغیرت غداروں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ کریں ہر قسم کی مراعات سبسڈی ، کوٹہ بند کریں۔
متشدد غداروں کو ٹھکانے لگائیں
“1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں“
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیاجن میں مشاہد حسین سید اور حامد میر بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں پہلی بار الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت “آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل“تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جو خورشید حسن خورشید نے جیتا،اس وقت 6 صدارتی امیدواروں میں سے 4 مہاجر تھے۔بعد ازاں 1974 میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کے لئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی ،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی ،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔