اسلام آباد:پاکستان میں متعین چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی وفد سمیت سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمداور ملاقات
ملاقات میں خطے کی صورتحال ،امن وامان اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو
امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ پر تفصیلی بات چیت
امریکہ و اسرائیل کی ایران پر حملے عالمی قوانین اور ایران کے قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں
خطے میں امن وامان کے قیام کے لئے کوششوں پر رہنماؤں میں اتفاق کیا گیا
دونوں رہنماوں نے خطے کو پرامن رکھنے کے لئے پرامن زرائع استعمال کرنے پر زور دیا
فوری جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور پورے دنیا پر معاشی اثرات مرتب ہونگے۔
سی پیک اور امن وامان کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام اور برادر ملک چین کی سوچ میں ہم آہنگی سے خطے کو فائدہ ہوگا ۔
پاک چین دوستی ہر قسم کے حالات میں پھلی پھولی ہے۔
ہم باہم مل کر اس خطے کی تقدیر بدل سکتے
ہیں۔چینی سفیر
جے یو آئی پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کی خواہش رکھتی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء نے اس حوالے سے پہلے بھی کردار ادا کیا اور آئندہ بھی کرے گی ۔مولانا فضل الرحمان
چین تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے چینی سفیر کے اعزاز میں ظہرانہ
@CathayPak@MoulanaOfficial
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفورحیدری نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ پیٹرولیم، سیکرٹری پیٹرولیم سمیت تمام متعلقہ عہدیداروں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کو اعتماد میں نہیں لیا۔
میاں نواز شریف، وزیرِاعظم میاں شہباز شریف سے یہ سوال کر رہے تھے کہ رات کی تاریکی میں پیٹرول کی قیمتوں میں یہ “ڈاکا” کیوں ڈالا گیا۔ اگر ایسا ہے تو پھر وزیرِاعظم کو بھی اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیے۔
جنگ ایران میں ہو یا خلیجی ممالک میں، وہاں بھی تیل کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ نہیں کیا گیا، لیکن پاکستان میں قیمتیں اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ غریب تو پہلے ہی پریشان تھا، اب متوسط طبقے کی قوتِ خرید بھی جواب دے چکی ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو ایسے مواقع پر قوم کو ریلیف دینے کے بجائے اسے لوٹنے کا موقع مل جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ نوید قمر کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کلمۂ حق کہا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کیا۔
یہ تمام فیصلے وزیرِاعظم اور ان کی کچن کابینہ کے ہیں، جو قومی معیشت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
جاری کردہ ۔مرکزی میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام پاکستان
پاکستانی عوام پر حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مہنگائی کا ڈرون حملہ کر دیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری
پاکستان کے غریب عوام پیٹرول کی اس شدید مہنگائی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جن ممالک میں جنگ جاری ہے وہاں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ مولانا عبدالغفور حیدری
حکومت نے قبل از وقت پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری
اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں یہ بے تحاشا اضافہ ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرِ ثانی کرے، کیونکہ قیمتوں میں اس قدر اچانک اضافہ تو حالتِ جنگ میں بھی نہیں کیا جاتا۔ مولانا عبدالغفور حیدری
حکومتوں کو چاہیے کہ کوئی بھی معاشی فیصلہ کرتے وقت اپنی قوم کی غربت، معاشی حالات اور پسماندگی کو مدنظر رکھیں اور عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں جو وہ برداشت کر سکیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری
جمعیۃ علماء اسلام کے ترجمان اسلم غوری کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل
حکومت جنگ کے اثرات کو اپنے اخراجات کم کر کے بھی دور کر سکتی تھی۔ ترجمان جے یو آئی
حکومت نے آئی ایم ایف کا مطالبہ جنگ کے بہانے سے پورا کیا۔ اسلم غوری
حکمرانوں نے عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال کر اپنی نااہلی ثابت کر دی ہے ۔اسلم غوری
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے ۔ترجمان جےیوآئی
ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور روزمرہ استعمال کی بیشتر چیزوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جائیں گی ۔ترجمان جے یو آئی
حکومت چاہتی تو بہتر حکمت عملی سے اس بوجھ کو کم کیا جا سکتا تھا ۔اسلم غوری
رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں مہنگائی میں اضافہ عوام کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنے گا ۔ ترجمان جےیوآئی
عوامی مسائل سے نابلد حکمرانوں کے ایسے فیصلے عوام کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں ۔اسلم غوری
حکمران اپنی شاہ خرچیوں کو کم کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کرے ۔ترجمان جےیوآئی
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔ اسلم غوری
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ایک جامع معاشی پالیسی کی ضرورت ہے ۔ترجمان جےیوآئی
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
@RShahzaddk مولانا فضل الرحمن ملک اور اصول کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں،
باقی بوٹ چاٹ کر غلامی کی نوکری پسند کرتے ہو،
دباؤ میں لیٹ جاتے ہو، صرف اقتدار بچانے کے لیے!
امریکا انسانیت کا دشمن ہے، مشکل وقت میں ایران کے شانہ بشانہ ہیں، امت مسلمہ باہم دست وگریباں ہونے کی بجائے صیہونیت کا مقابلہ کرے۔
قائدِجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ
Islamabad:Chief Maulana Fazl ur Rehman Visits Iranian Embassy
JUI Chief Maulana Fazl ur Rehman met with Iranian Ambassador Reza Amiri Moghadam at the Iranian Embassy and expressed deep sorrow and grief over the martyrdom of Iranian Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei.
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا موجودہ صورتحال پر ایوان میں خطاب
پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، ایوان کو بتایا جائے پاکستان کی اس صورتحال میں پالیسی کیا ہے؟ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، حکومت ایوان کو سیکورٹی صورتحال پر بریف کریں، قائد جمعیت کی تجویز
03-March-2026
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ایرانی سفارتخانے آمد
مولانا فضل الرحمان کی ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار
مولاما فضل الرحمان نے نے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے
ایران پر امریکی صہیونی جارحیت کی شدید مذمت
صیہونت اور یورپ گٹھ جوڑ نے پہلے فلسطین پر قبضہ کیا،مولانا فضل الرحمان
اب بھی وہاں شدید تناؤ اور لمبی جنگ سے گذر رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان
حماس کی مضبوط حمایت پر ایران کے خلاف جنگ کی دوسری قسط شروع کی گئی،مولانا فضل الرحمان
بیہودہ قسم کے الزامات لگاکر ان حملوں کا جواز پیش کررہے ہیں،مولانا فضل الرحمان
ایران اس وقت صرف اپنا نہیں بلکہ فلسطین کا بھی دفاع کررہا ہے،مولانا فضل الرحمان
عالم اسلام کو باہمی اتحاد کی ضرورت ہے،مولانا فضل الرحمان
مشکل وقت میں ایران کے شانہ بشانہ ہیں،مولانا فضل الرحمان
امت مسلمہ باہم دست وگریباں ہونے کی بجائے صیہونیت کا مقابلہ کرے،مولانا فضل الرحمان
امریکہ انسانیت کا دشمن ہے ۔انسانی قاتل اور مجرم کی سربراہی میں قیام امن کی کوششیں امن کے نام پر دھبہ ہیں،مولانا فضل الرحمان
ہمارے حکمرانوں کی ٹرمپ جیسے قاتل سے امن کی امید رکھنا سوالیہ نشان ہے،مولانا فضل الرحمان
پاک ایران تعلقات پر مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کے کردار کو سراہتے ہیں،ایرانی سفیر
فتح عالم اسلام کی ہوگی،رضا امیری مقدم
آپ کی آمد ہمارے لئے اطمینان کا باعث ہے،ایرانی سفیر
اسلام امن کا داعی ہے اور امتِ مسلمہ ہمیشہ امن کی خواہاں ہے، عالمی طاغوت کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں،اس جارحیت کے خلاف امت مسلمہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی تکلیف میں ساتھ کھڑا ہے۔
اس سے بڑھ کر امت مسلمہ کے لئے حرمین شریفین کی حرمت اور اس کا تحفظ اولین ترجیح ہے،ہم دل و جان سے حرمین شریفین کی سلامتی و بقا کے لئے ان کے محافظین اور خادم الحرمین الشریفین جناب سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد جناب محمد بن سلمان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں،ان کی طرف بڑھنے والا ہر قدم پوری امت کے لئے چیلنج ہوگا۔
عالمی طاغوت کے خلاف پوری امت مسلمہ کو ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
@MoulanaOfficial@KingSalman@HRHMBNSALMAAN@KSAembassyPK@KSAMOFA@AmbassadorNawaf
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ کھلی جارحیت ہے۔ ترجمان جےیوآئی
مشکل کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ ہیں ۔اسلم غوری
بچیوں کی تعلیم پر واویلا مچانے والے ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے اور درجنوں بچیوں کی شہادت پر کیا جواز پیش کریں گے ۔ترجمان جےیوآئی
منصوبہ بندی کے تحت خطے میں مسلمان ممالک کو آپس میں دست وگریباں کردیا گیا ہے۔اسلم غوری
مسلم اُمّہ کو اتحاد واتفاق کے ذریعے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا ۔ترجمان جےیوآئی
بھارت ،اسرائیل اور امریکہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ دانشمندی سے کرنے کی ضرورت ہے ۔اسلم غوری
ہمارے حکمران غزہ پیس بورڈ کی میٹنگ کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں ۔ترجمان جےیوآئی
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی پاک افغان صورتحال پر تشویش
سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی شکایت جائز ہے۔ مولانا فضل الرحمان
افغانستان کی خودمختاری اور داخلی مشکلات کا احترام بھی ضروری ہے۔ مولانا فضل الرحمان
جذباتی روئے دونوں ممالک کیلئے پیچیدگیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان
دوطرفہ مفادات ،قابل اعتماد سیکیورٹی فریم ورک اور بین الاقوامی مسلمہ ضابطوں کو بروئے کار لایا جائے ۔مولانا فضل الرحمان
سفارتی مہم جوئی مسئلہ کا پائیدار حل تلاش کرسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان
یکطرفہ عسکری مہم جوئی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی کا سبب بنیگا۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں ممالک سے تحمل برداشت اور ذمہ دارانہ رویوں کو اپناتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں ممالک کے خیرخواہ اور خطے میں امن کے خواہاں ممالک سے پرامن سفارتی مداخلت کی توقع رکھتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
جے یو آئی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری کی پاک افغان کشیدگی پر ردعمل
عسکری کارروائیوں سے دونوں ملکوں کے عوام اضطراب کا شکار ہے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری
ہم دونوں برادر اسلامی ممالک سے فوری جنگ بندی اور ذمہ دارانہ رویے کی اپیل کرتے ہیں۔ مولانا عبدالغفورحیدری
خطے میں امن کے خواہاں ممالک کو چاہیے کہ پرامن سفارتی کردار ادا کریں۔مولانا عبدالغفورحیدری
عالمی طاقتیں خصوصاً امریکہ خطے میں اپنے مفادات کے لیے تقسیم کی سیاست سے باز رہیں۔ مولانا عبدالغفورحیدری
مسلمان ممالک کو اپنے اصل دشمنوں کو پہچاننا ہوگا، امت کا اتحاد ہی وقت کی ضرورت ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری مظالم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، مسلم دنیا کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ مولانا عبدالغفورحیدری
بھارت خطے میں مداخلت سے گریز کرے، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بیرونی عناصر کی گنجائش نہیں. مولانا عبدالغفورحیدری
جاری کردہ ۔مرکزی میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام پاکستان
خواجہ صاحب یہ بھی اچھا ھے کہ پشتون قوم سے ازلی تعصب رکھنے والے نے تعصب میں ھی سہی لیکن ایک پشتون کی قابلیت کو کندھا بناتے ھوئے دوسروں کے خلاف تعصب کا اظہار کرھی دیا لیکن آپ جانتے بوجھتے کچھ باتوں سے آنکھیں چرا رھے ھیں
۱- کہ افغانستان کے لوگوں پر تو سوویت یونین نے قبضہ کیا تھا تو جہاد تو ان کے لیے تھا پاکستان کے لوگوں کے لیے اس کو کفر واسلام کی جنگ بنا کراس جنگ میں انہوں نے نہیں دھکیلا تھا جن کی چاکری اب آپ کی فطرت میں رچ بس گئی ھے اور وزیر کے نام پر آپ آج کل جن کے غلام ھیں؟؟؟
۲- آپ کے والد محترم اس ضیاءالحق کے دست راست نہیں تھے جو اسی افغان جنگ کی بنیاد پر خود کو مجاھد کہتا تھا اور جو اس کا کریڈٹ لیتا تھا کہ میں نے سوویت یونین کو شکست دی ھے تو یہ فلسفے اس وقت کیوں اذھان سے محو تھے؟؟
۳- ان افغان طالبان کو کو امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران بیس سال آپ کے انہی آقاؤں نے سٹریٹیجک ایسٹس سمجھ کر پاکستان میں اپنی چھایا میں رکھ کر امریکہ کو بلف نہیں کیا تھا؟؟
۴- سوویت یونیں کے خلاف افغانیوں کے جہاد سے لیکر امریکہ کے خلاف جہاد تک آپ کے ادارے نے ان کی مدد کو سٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی نہیں کہا تھا؟؟
مان لیجئے خواجہ صاحب کہ نہ آپ جیسے سیاستدان جو ان کی نرسریوں میں پروان چڑھے وہ دوراندیش ھیں نہ آپ کے وہ ادارے جن کی آپ نوکری کررھے ھیں اور مان لیجئے کہ آپ کی افغان پالیسی اناسی سال سے ناکام ھے پاکستان مخالف رجیم کے ادوار میں تو خیر ھے آپ کے سٹریٹیجک ڈیپتھ سے پیدا شدہ سٹریٹجک ایسٹس کے دور میں بھی اب تو آپ کی افغان پالیسی منہ کے بل جاگری ھے
رہ گیا مفتی صاحب کا فتوی اور جمعیت علماء اسلام کی پالیسی، تو تاریخ اور اسکا ریکارڈ گواہ ھے کہ وہ فتوی افغان علماء سے ملاقات میں ان کے استفسار پر افغان قوم کے لیے ھی تھا اور اسی تسلسل میں جمعیت نےھمیشہ افغانیوں کے جہاد کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کی اور اپنے کارکنوں کو ھمیشہ اس طرف جانے سے روکا۔
اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ھے کہ شدید سیاسی اور نظریاتی تفاوت کے باوجود مولانا فضل الرحمن صاحب اور خان عبدالولی خان کا تعلق چچا بھتیجے کا تھا اور جتنا خان عبدالولی خان مولانا صاحب سے شفقت کا رویہ رکھتے تھے اس سے بڑھ کر مولانا صاحب ان کی عزت کرتے تھے اور اس موضوع پر شدید اختلاف کے باوجود اس قسم کی کوئ بات چیت اور سوال وجواب کا سرے سے وجود نہیں ھے
اس قسم کے مذھب بیزار کذابوں جن کی تحریروں سے مذھب بیزاری حماقتوں کی حد پہ پہنچی ھوئ لگتی ھے ان کو قوٹ ٹویٹ کرتے ھوئے کم از کم اپنے ازلی تعصب کو تو چھپا لیا کریں