Food Safety/Poultry Consultant- with more than 12 years of consulting food businesses.
A photographer, farmer, painting & drawings, nature & history lover.
یہ تو آل شریف کی آتما رول کر رکھ دی گئی ہے۔ جہاز اغوا ، سپریم کورٹ حملہ، طالبان کو خط، اجمل قصاب سے لے کر سارے قصے ، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے آگے کے سب نعرے بیان شفیع جان آن فائر۔۔۔۔😅
تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے۔ فاطمہ جناح سے دشمنی رکھنے والی قوتیں آج عمران خان کی بہنوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ بھی وہی طرزِ عمل دہرا رہی ہیں۔ وقت بدل گیا، کردار بدل گئے، مگر رویے وہی ہیں۔
جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے اپریشن کے رضاکاروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔ ان 6 نوجوانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ جس کام کے لیے مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔
ماجرا کیا تھا؟
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور ٹریول ولاگنگ سے خاص دلچسپی تھی۔
وہ پانچ رکنی پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انھیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی ماؤنٹین گائیڈز کی بھرپور کوشش کے باوجود 21 اگست کو کیمپ تھری پر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
لا۔۔ش دو ہفتے تک برف میں دبی رہی
مو۔ت کے بعد باقی ٹیم نیچے اتر آئی جبکہ ان کی میت سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب گئی۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں نے کام مزید مشکل بنا دیا تھا۔ اسی دوران میت کی برآمدگی کے لیے خاندان سے مبینہ طور تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے۔ ان کے شوہر بھی بیرون ملک سے واپس آگئے تھے۔
6 رضاکاروں کا کارنامہ
بالآخر مبینہ طور پر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز سپانٹک روانہ ہوئے۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔ سخت موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار میت تلاش کر لی۔ ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق ٹیم میت کے ہمراہ کیمپ ٹو پہنچ گئی اور برفباری میں رکاوٹ نہ آئی تو اگلا مرحلہ بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ جب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت برآمد ہوئی تو خاندان والوں نے ان رضاکاروں کو ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا تاہم انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھوں نے یہ کام فقط اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔۔
محبوب علی ارندو۔۔ ایک سماجی کارکن بھی
محبوب علی ارندو اپنے گاؤں کی تعلیمی بہتری کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کی ٹیم کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین نے ایسے نوجوان پیدا کر کے دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق دیا ہے۔
تدوین
@adeebyousufzai
🚨 Covid ویکسین کے بعد سے سات بڑے کینسرز اب تیزی سے پھیل رہے ہیں :
چھاتی کا کینسر: %54 بڑی آنت کا کینسر: %35
پروسٹیٹ کا کینسر: %69 مثانے کا کینسر: %62
معدے کا کینسر: %34 پھیپھڑوں کا کینسر: %53
تھائیرائڈ کا کینسر: %35
ویکسین اب موت دے رہی ہے
دنیا کا پہلا بلوٹوتھ اسکول نہ دیواریں، نہ بچےلیکن تنخواہیں آن لائن ٹرانسفر ہو رہی ہیں👏
کاغذوں میں گرائمر اسکول اور زمین پر صرف اینٹوں کا ڈھیر... ایسی ترقی دیکھنے کے لیے الگ ہی چشمہ چاہیے
ٹیچرز اور بچے تو مسٹر انڈیا' بن گئے ہیں بس ہر مہینے تنخواہ کا نوٹیفکیشن ہی نظر آتا ہے
تعلم کا یہ حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے جہاں بچوں کا مستقبل بننا تھا، وہاں صرف ویرانی اور بدعنوانی بچی ہے
کاغذی اسکول اور اصلی تنخواہیں یہ ہے ہمارے تعلیمی نظام کا اصل چہرہ، جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
کاغذی ترقی بمقابلہ زمینی حقیقت سچائی سامنے لانے پر زبردست رپورٹنگ
"یہ اسکول نہیں، تعلیمی نظام کا جنازہ ہے۔افسوسناک
2013 میں لٹویا کے دارالحکومت Riga میں Maxima supermarket کی چھت اچانک گر گئی۔
لوگ خریداری کررہے تھے اور چند لمحوں میں پوری عمارت موت کا منظر پیش کرنے لگی۔ اس سانحے میں 54 افراد ہلاک ہوئے
وزیراعظم Valdis Dombrovskis نہ اُس عمارت کا مالک تھا، نہ اُس کا نقشہ اُس نے بنایا تھا، نہ وہ انجینئر تھا اور نہ اُس نے عمارت تعمیر کی تھی لیکن پھر بھی حادثے کے چند ہی دن بعد وزیراعظم Dombrovskis نے استعفیٰ دے دیا اور واضح کیا کہ وہ اس سانحے کی سیاسی ذمہ داری — Political Responsibility — قبول کر رہے ہیں۔
یعنی بات یہ نہیں تھی کہ وزیراعظم نے چھت گرائی، بات یہ تھی کہ عمارتوں کی دیکھ بھال کے جس نظام کی نگرانی حکومت کی ذمہ داری تھی، وہ نظام ناکام ہوا اور نظام کی سربراہی حکومت کے پاس تھی
Dajjal adlh makhluk sakti di atas rata-rata, dia datang dgn sgala tipu daya yg menyesatkan.
Mengelilingi dunia dgn sngt singkat membawa pesan² kebohongan dan memperdaya smua manusia agr masuk dalam jebakannya.
Air dia sulap jadi api, siang dia sulap jadi malam. Kemarau dia sulap jadi hujan begitu pun sebaliknya.
Jika dia memperlihatkan wujud aslinya apakah kita bakal tau kalo dia dajjal, apakah kita bakal kuat melawan sihirnya??
Dlam sebuah riwayat orang-orang yg tadinya briman ketika ditemui dajjal saat itu jga langsung rontok keimanannya, byngkan jk tdk ada/sdikit keimanan kita😭
Dalam hadist, Nabi kita berpesan utk mengikat para perempuan di tiang² rumah masing², krn begitu dahsyat fitnah dan tipu dayanya utk menjebak manusia agar tersesat.
Kenapa perempuan?? Karena kbnykan perempuan sngt lemah...
Wallahua'lam..
ابھی تک مر چکے ہوتے تمہارے باپ، آئی سی یو کا ایک دن کا خرچہ 20 ہزار ہے۔
چن چن کر مصطفی کمال جیسے بے حس،بدمعاش، بیشرم، نا اہل،بے غیرت اور مسترد لوگوں کوایسٹیبلشمنٹ نے فارم 47 پر عوام پر مسلط کیا ہوا ہے