اسلام علیکم!
میں کچھ حقائق عوام کے سامنے لانا چاہتا ہوں
9 مئی کے بعد میرے ساتھ اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے7 مئی کو میری ATC لاہور میں Bail کنفرم ہوئی تو میں اُسی دِن لاہور سے باہر چلا گیا کیونکہ 31 مئی کو میری بیٹی کا نکاح ہونا تھا سوچا 11 مئی کوATC اسلام آباد میں بھی تاریخ ہے لہذا اُس سے پہلے جو انتظامات کرنے ہیں وہ بھی کر لیے جائیں دوست احباب و رشتے داروں کو دعوت پر بھی مدعو کرلیا جائے بُکنگ فلیٹیز ہوٹل میں کروائی وہاں سے تصدیق کی جاسکتی ہے
9مئی کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہے جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے املاک کو نقصان پہنچانے والے کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
پولیس نے ہمارے گھروں پر ریڈ کرنی شروع کر دی گھر پر صرف والدہ صاحبہ ، بیٹی اور بیٹا موجود تھے۔
چند روز قبل تقریباً رات 3بجے میرے گھر کے دروازے توڑ کر 30/40 لوگ داخل ہوئے اور بدتمیزی شروع کر دی اور کہا “وہ قاتل ہے کدھر ہے اُسکو نہیں چھوڑیں گے” میری اہلیہ نماز تہجد پڑھ رہی تھی جبکہ بیٹی اور بیٹا اپنے کمرے میں تھے والدہ صاحبہ کی عمر 85 سال ہے آکسیجن پرہیں
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک پتہ آپکے محافظوں نے کیا کیا؟
گھر میں موجود جہیز کا قیمتی سامان اور سات لاکھ روپے نقد اور DVR لے کر چلے گئے میری والدہ صاحبہ چیختی رہی کہ ایسا نہ کرومحافظ نے ماؤں کا احترام بھی نہ کیا خوب بدتمیزی کی، میں آپ سے یہی اُمید کر سکتا تھا کہ آپ لوگ اخلاقیات سے اتنے نیچے گر جاؤ گے شرم آنی چاہیے تھی۔
میں ایسے نظام اور محافظوں پہ لعنت بھجتا ہوں آپ سمجھ رہے ہو گے کہ یہ صدا ایسے ہی چلنا ہے بے شک ہر رات کے بعد صبح ہر مشکل کے بعد آسانی اور ہر آزمائش کے بعد اس کا صلہ ہے ۔۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بیٹی کا نکاح منسوخ کیا کیونکہ سامان تو میرے پنجاب کے محافظ ہی لوٹ کر لے گئے کوئی نہیں اللہ تو ہے۔ تاریخ کینسل کروانے کی بینکوٹ ہال ( فلیٹیز ہوٹل) سے تصدیق کرلیں۔
لوٹ مار کے لیے گھروں میں داخل ہوتے ہیں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں
میری بڑی بہنوں کے گھروں میں دو دو دفعہ ریڈ کیا جا چکا ہے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ جو ہاتھ لگا میرےمحافظ ساتھ لے گئے
جناب محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان انور، بلال صدیق کمیانہ اور لیاقت ملک بہنیں بیٹیاں اور مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں آپ سب کی اصلیت تو میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہنے کو آپکے خلاف بہت کچھ ہے وضع داری بڑی چیز ہوتی ہے جو میرے بڑوں نے مجھے سکھائی ہے
میری بھتیجی کے سسرال پہ ریڈ کی گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوئے بدتمیزی کی اور جو ہاتھ لگا محافظ لوٹ کر لے گئے
میری بڑی بھتیجی کا سسرال باغبان پورہ ہے کل رات اُسکے گھر ریڈ کی جنکا دور دور تک میری سیاست سے کوئی تعلق نہیں اُسکے دیور کو مارتے ہوئے ساتھ لے گئے ناک کی ہڈی توڑ دی اور CIA میں بند کر دیا
بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کے گھر ریڈ کی اور بھابھی جو کہ ہارٹ پیشنٹ ہیں انکو اور میری بھتیجی جو کہ ڈاکٹر ہے ہراساں کیا اور کہا “قاتل کدھر ہے” DVR اور قیمتی سامان جو ہاتھ لگا ساتھ لے گئے
میرے پنجاب کے محافظ اب ناکوں سے پیسہ اکٹھا نہیں کرتے بلکہ گھروں میں بدمعاشی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں
میرے بڑے بھائی جو علامہ اقبال ٹاون میں رہتے ہیں انکے گھر ریڈ کی انکی بہوؤں کے ساتھ بدتمیزی کی انکی بیوی نے بھی ابھی دل کا اپریشن کروایا ہے انکے ساتھ بدتمیزی توڑ پھوڑ اور جو لے کر جانا تھا لے گئے ہر کسی کے گھر دو سے تین دفعہ ریڈ کرچکے ہیں ہر دفعہ میرے پنجاب کے محافظ بھوکے کتے کی طرح آتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ہڈی ساتھ لے جاتے ہیں۔
میرے بھائی اکرم اقبال کے گھر ریڈ کیا اُنکے بیٹے حمزہ اور اکرم بھائی کو پولیس ساتھ لے گئی۔اکرم بھائی کا ایک بیٹا معذور ہے جسکی عمر 25سال ہے اور وہ باتھ روم تک بھی خود نہیں جاسکتا نہ کھانا خود کھا سکتا ہے۔ باپ ہی اسکے سارے معاملات کرتا ہے۔آج انکو بغیر کسی FIRاور جرم کے لے کر گئے ہوئے 8دن سے ذیادہ ہو چکے ہیں۔باپ اور بیٹا حمزہ CIAکے پاس ہیں۔
افضل اقبال بھائی اور امجد اقبال بھائی کے گھروں پر ریڈ DVRاور قیمتی اشیاء چوری کرکے میرے بھوکے محافظ انکے گھروں سے بھی لے گئے ہیں۔
یہاں تک کہ میرے رشتہ دار جوہر ٹاؤن رہتے ہیں وہاں پر ریڈ کی اُنکا بیٹا راحیل انگلینڈ سےاپنی نوزائیدہ بچی دیکھنے آیا تھااسکو ساتھ لے گئے۔ تھانے اچھرہ میں اسکو بجلی کا کرنٹ لگاتے رہے کہ بتاؤ میاں اسلم اقبال کدھر ہے۔ انہوں نے بیٹے کو چھوڑیا اُسی دن انگلینڈ واپس بھیج دیا وہ وہاں اپنے بازو کا علاج کروا رہا ہے۔
میرے ڈیرے پر ریڈ بار بار کی اور وہاں سے DVRلے کر چلے گئے۔ کام کرنے والے لڑکے قیصر کو پکڑلیا۔ عدالت سے اسکی بازیابی کروائی گئی۔کل رات پھر ریڈ کی اور دوسرے ملازم مرتضی کو لے کر چلے گئے اور ستم ظریفی کہ مار مار کر بُرا حال کر دیتے ہیں۔
آج میرے سب سے بڑے بھائی میاں جاوید اقبال کو CIA ڈیفینس لے کر چلے گئے اُنکا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے۔ لیکن میرے پنجاب کے محافظ چیف سیکریٹری سے لے کرIGاور IGسے لے کر نیچے تک کے عہدوں پر مزے لے رہے ہیں اور چھوٹے محافظ لوٹ مار کر رہے ہیں۔
📌آخری بات میرے کوئی 9 مئی کے حوالے سے کوئی آڈیو کال، ویڈیو کال یا کلپ، کوئی میسج کچھ ہے تو سامنے لاؤ۔جیو فینسنگ کر لیں CDR کچھ تو سامنے لاؤ۔
یہ تو ایک سیاسی آدمی کے گھر ریڈوں کی بات ہورہی ہے کتنے ہزاروں بے گناہوں کے گھروں پر ریڈ اور لوٹ مار کی کہانیاں سب کے سامنے آئیگی پھر چیف سیکرٹری، آئی جی، چیف آفسر CCPO، SSP CIA، جواب دہ ہونگے۔
سوچاتھاوضع داری میں خاموش رہولیکن یہ ظلم تو بڑھتا جا رہا ہے
سوچا عوام کو تو بتا دوں اور ان افسران کو بھی تاکہ یہ نہ کہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا
25 مئی کو CCPO نے یہی کہا تھا کہ میاں صاحب مجھے پتہ نہیں تھا اور 10 بار اس نے دوست بھیج بھیج کر معافی مانگی تھی اور ایک شادی پر ہاتھ جوڑ کر بھی معافی مانگی کہ آپکے گھر پولیس میں نے نہیں بھیجی تھی اگر یہ اس بات سے انکاری ہوا تو دوستو کے نام بھی بتا دونگا
آخری بات اگر میرے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو FIR چیف منسٹر ، چیف سیکرٹری ، اور متعلقہ جو تھانوں سے آئے انکے SP, اور SHO پر کٹے گی۔ انشااللہ
پہلے بھی 25 مئی والی FIR کورٹ میں آڈر کے ساتھ پڑی ہے جس میں چیف سیکرٹری سے لے کر CCPO تک FIR کے آڈر موجود ہیں۔
تھانے نہیں FIR کرے گا تو Private Complaint استغاسہ ہی ہیں۔
غم کی خبر:
سابق سینیئر صوبائی وزیر میاں محمد اسلم اقبال کی والدہ محترمہ کے انتقال پر دلی افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
نمازِ جنازہ آج بروز اتوار، 5 اپریل، بعد نمازِ عصر سمن آباد میں ادا کی جائے گی۔
📍نزد گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول گرلز نزد جامع مسجد شیر ربانی سمن آباد سے اٹھایا جائے گا
تمام دوست احباب سے گزارش ہے کہ نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں
Admin-
اہم حقائق – ویڈیو ضرور سنیں
پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو تنبیہ کی کہ
🔴 پارک ویو میں زمین مت خریدیں
🔴 یہ جگہ دریائے راوی کا حصہ ہے 🌊
#Parkview#ruda#lahoreflood
اس ویڈیو کو ایک بار ضرور دیکھیں اور سنیے!
📌 حقیقت کیا ہے۔
2022 میں میاں اسلم اقبال پنجاب میں وائس چیئرمین ایل ڈی اے اور محکمہ ہاؤسنگ کے سینیئر وزیر تھے تو اس وقت میاں اسلم اقبال نے پریس کانفرنس کر کے عوام الناس کو آگاہ کیا تھا تنبیہ دی تھی کہ آپ یہاں پارک ویو میں ناجائز قابض کی ہرگز زمین مت خریدیں یہ جگہ دریائے راوی کا حصہ ہے اور روڈا نے ان کو این او سی بھی اس لیے دیا تھا کہ یہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ جائیں اور دریائے راوی کی جگہ خالی کر دے مگر پارک ویو سوسائٹی کا مالک عبدالعلیم خان موجودہ وفاقی وزیر فارم 47 اپنی ضد پر قائم رہا جس سے آج غریب عوام کا اربوں روپیہ داؤ پر لگ گیا اس فارم 47 کے وفاقی وزیر نے میاں اسلم اقبال کو پورے ملک میں 50 سے زائد جھوٹے مقدمات میں نامزد کیا اور جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور کے باہر 2 قتل 302 جیسی جھوٹی ایف آئی آر میں نامزد کر کے میاں اسلم اقبال کو مرکزی ملزم بنایا گیا۔
حالانکہ 9 مئی کو میاں اسلم اقبال لاہور میں موجود ہی نہیں تھے
#Ruda
#Parkview
#lahorefloods
عید الاضحیٰ کے پُر نور موقع پر تمام امتِ مسلمہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
آئیے اس مبارک دن پر ہم اپنے دلوں میں کشمیری اور فلسطینی مظلوم بہن بھائیوں کو یاد رکھیں، اور دعا کریں کہ ان پر ظلم کے اندھیرے جلد ختم ہوں۔
اپنی دعاؤں میں چیئرمین عمران خان اور تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی اسیران کو ضرور یاد رکھیں، جو قوم کی آزادی اور خودداری کی جدوجہد میں قربانیاں دے رہے ہیں۔
عید مبارک 🌙
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
جیل میں بشریٰ بی بی کے ساتھ بدترین سلوک جاری ہے ان پر کوئی جرم اب تک ثابت نہیں ہوا اس کے باوجود ان کو سخت ترین جسمانی اور ذہنی اذیت دی جا رہی ہے انھیں غلیظ کھانا دیا جاتا ہے اس سب کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ سب سلوک کر کے عمران خان کو توڑنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں اس سے پہلے کبھی کسی غیر سیاسی تو کیا سیاسی خاتون کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کی جرات کو سلام ہے جو اس سب کے باوجود عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں
#ReleaseBushraBibi
“جو حق پر کھڑا ہوتا ہے وہ ہارتا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ: "میں کسی ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جو حق سچ پر کھڑی ہوتی ہے۔" حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: "کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں-" جھوٹا اور دھوکے باز خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔
۹ مئی درحقیقت لندن پلان کا حصہ تھا جس کا مقصد ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریکِ انصاف کو ختم کرنا تھا۔ جس میں مجھے اور دیگر پارٹی اراکین اور کارکنان کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ ہمارا مینڈیٹ لوٹ کر چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ ہم پر ہر طرح کی فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمیں پر جھوٹے کیسز بنائے گئے-
میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا میں آپ سے ملاقات نہیں کرونگی۔ بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔ مجھے زیر کرنے کیلئے جس طرح میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس طرح پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ ان پر اعانت کا الزام تھا جو کہ ثابت بھی نہیں ہوا۔ لہذا ایک کیس سے دوسرے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں- چار ہفتوں سے میری اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدالتی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی۔
کل ہمارے ایک ایم این اے عبدالطیف چترالی کو ۹ مئی کے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے، کس ثبوت کی بنیاد پر؟ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین کو جیل میں رکھا گیا ہے اور شاہ محمود قریشی اگر مطلوبہ بیان دے دیں تو انہیں قید سے خلاصی مل جائے۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت اور تمام ججز سب ملے ہوئے ہیں کیونکہ ۹ مئی کی جو سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہوئی ہیں ججز ان کو پیش کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ کسی جج نے ہمت نہیں کی کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائے اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ سنائے۔ ہم بے قصور ہیں اور ہمارے لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی اور بغیر فئیر ٹرائل کے سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ہم تمام عدالتوں میں ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منگوانے کیلئے درخواست دیں گے۔
میں نے ۹ مئی اور 26 نومبر کے قتل عام کی منصفانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پاکستان میں عدلیہ اتنی disgraceful کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ پہلے ایک جسٹس منیر تھا جسے اسکے ناجائز فیصلے کے باعث دنیا جانتی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی وہی روش اختیار کی۔ اب سارے ججز ملے ہوئے ہیں اور صرف اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
2/3
عمران خان کا کل ہونے والے سمبڑیال ضمنی الیکشن کے حوالے سے پیغام :
“سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ ہو سکے۔”
1/3
پڑوسی ملک بھارت جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور اس دوڑ میں جاپان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی اس وقت 7.4 فیصد ہے جس کی بنیادی وجوہات وہاں کی حکومت کا زرعی شعبے پر توجہ دینا ان کی دو بڑی فصلیں گندم اور چاول؛ وہاں کی صنعت ؛ ٹیکسٹائل ؛ ترسیلات زر؛ آئی ٹی کے شعبے میں ترقی اور بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ کاری ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کی جی ڈی پی ایک فیصد سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جس ملک میں انصاف ناپید ہو ؛ عدلیہ مفلوج ہو اور سیاسی عدم استحکام موجود ہو وہاں کوئی بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس ملک میں کسان کا حال جان بوجھ کر خراب کیا گیا ہے۔ حکمران کرپشن اور فیشن میں مصروف ہیں اور پاکستان خطے میں سب سے پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ سب جانتے ہیں پنجاب میں کس دیدہ دلیری سے کرپشن جاری ہے لیکن ہمارے سر پر منی لانڈررز کو مسلط کر دیا گیا ہے اور ملک کو سو سال مزید پیچھے دھکیل دیا گیا ہے-اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت 7.4 کے حجم کی جی ڈی پی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑا ہے جو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا۔ تحریک انصاف کے دور میں عمران خان سر توڑ کوششیں کر کے اس جی ڈی پی کو چھ فیصد تک لے کے آئے تھے حالانکہ کورونا کی بدولت مشکلات کا سامنا بھی تھا لیکن ہر شعبے زراعت ؛ صنعت ؛ ٹیکسٹائل میں ریکارڈ پرفارمینس تھی۔ آئی ٹی کے شعبے پر پہلی دفعہ خصوصی توجہ دے کر اسے آگے لے جایا گیا۔ کیونکہ تحریک انصاف کی پالیسیاں بزنس فرینڈلی تھیں صرف اس لیے کیونکہ عمران خان کی ٹیم اچھی نیت سے محنت کر رہی تھی ۔ آج کے دور کا ہمارے دور سے موزانہ کیا جائے تو ہر جگہ تباہی ہے لیکن کسی کو معیشت کی فکر نہیں ہے ہر کسی کو بس یہی فکر ہے کہ اداروں کو تباہ کیسے کرنا ہے تا کہ ان کی گرفت قائم رہے اور ان کی کھال بچی رہے۔ عوام چاہے بھاڑ میں جائے۔ مفاد پرستی ان حکمرانوں کا وطیرہ بن چکی ہے۔ یہ ہمارے لیے انتہائی شرم کا مقام ہے کہ جس بھارت کو ہم طعنے دیتے ہیں وہاں جی ڈی پی کی شرح ہم سے چوگنی ہے اور ہم ڈیڑھ فیصد پر یوں فخر کرتے ہیں جیسے بہت بڑا تیر مار لیا ہو۔یہ ملک اس وقت تک ٹھیک نہیں ہو سکتا جب تک آئین قانون کی حکمرانی نہ ہو اور چوری شدہ مینڈیٹ واپس نہ ہو۔ ہمیں پوری دنیا سے ان حالات میں سوائے بدنامی کے کچھ نہیں ملنا۔ اگر یہ موروثیت پر مشتمل حکمران خاندان جن کی اربوں کی جائدادیں باہر پڑی ہیں یہی اپنا سرمایہ ملک میں لے آئیں تو خاصہ فرق پڑ جائے مگر یہ ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ ملک میں معاشی استحکام نہیں ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ یہ جن ممالک میں اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ انصاف اور قانون کی دوڑ میں سرخرو ہیں اور اسی لیے ان کو اپنی دولت ان ممالک میں محفوظ نظر آتی ہے ۔ دوسرے تو تب اس ملک میں سرمایہ کاری کریں گے جب آپ اور آپ کی اولاد یہاں اپنا سرمایہ لائے گی۔ اب بھی وقت ہے عوام کی آواز کو سنیں عمران خان کا مینڈیٹ واپس کریں۔ عمران خان کو اغواء برائے بیان کے لیے جو اندر رکھا ہے اس کو رہا کیا جائے تا کہ یہ ملک ٹھیک ہو سکے۔ یہ ملک اسی وقت ٹھیک ہو سکتا ہے جب عوام پر امن احتجاج کے لیے باہر نکلیں گے اور حکمران اور ان کو لانے والے ہوش کے ناخن لیں اور عوام کی منشا کو کچلنے سے باز رہیں
پاکستان میں قانون اس وقت مدفون ہے #کوٹ_لکھپت جیل میں قید بے قصور نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رپورٹ ہو رہی ہیں
روزانہ کی تذلیل اور غیر انسانی سلوک پہ بھوک ہرتال پر مجبور۔۔ اس ملک میں اربوں کھربوں کی چوری کرنے والے اے سی کمروں میں جیلیں کاٹتے ہیں جبکہ مظلوم لوگ جن پر کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہو سکا ان سے جانوروں جیسا سلوک کیا جارہاُہے
📌 جعلی حکومت کے کارنامے ہی کارنامے۔۔
فارم 47 حکومت کے دور میں ہر طرح کی زراعت تباہی کا شکار ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن المیہ ہے کہ اس ملک پر مسلط حکمران خود زرعی معیشت کا گلا گھونٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی تمام اہم فصلوں کی پیداوار میں 13 فیصد سے زائد کمی قوم کے معاشی قتل کے مترادف ہے
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
المیہ ہے کہ سب سے زیادہ نوجوان آبادی والے ملک میں سیاسی بحران کی فضا قائم رکھی جاتی ہے تا کہ نوجوان جو باصلاحیت ہیں اور ملک کو آگے لے جانے کی قابلیت رکھتے ہیں وہ کبھی آگے ہی نہ آ پائیں اور ان جیسی نکمی اولادیں موروثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کے سر پر مسلط رہیں۔
پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد کی شدید ضرورت ہے اور اس اتحاد کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی امنگوں کو سنا جائے انھوں نے جس جماعت کو ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اس جماعت کو اقتدار منتقل کیا جائے۔ سیاسی آزادی اور شخصی آزادی دی جائے تا کہ نوجوان اپنی تمام تر صلاحیتوں بروئے کار لاتے ہوئے اس ملک کی ڈھال بنیں
🇵🇰
#قوم_مانگے_خان_کی_رہائی
انشاءاللہ عمران خان بھی رہا ہوگا اور قوم بھی آزاد ہوگی۔ یہ ظلم بزدل لوگوں کے ہارنے کی نشانی ہے۔ مقابلہ کافی کم ظرفی سے کیا مخالفوں نے۔ ہارنا تو تھا ہی ان سب ظالموں نے، مگر ساتھ ساتھ اپنی عزت بھی گنواہ دی! #خان_کی_رہائی_مزاحمت_سے
میں بارہا ذکر کرتا رہا ہوں کہ چینی کی قیمت رکے گی نہیں بلکہ بڑھتی ہی جائے گی۔ اس کی وجہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا خود چینی کے کاروبار کا کرتا دھرتا ہونا ہے۔ شریف خاندان ، حمزہ شہباز ، مریم نواز اور زرداری خاندان خود اس کاروبار سے منسلک ہے پھر عوام کو کوئی فائدہ کیسے مل سکتا ہے۔یہ تو اپنے کاروبار کے لیے عوام کی ہڈیوں سے گودا بھی نکال لیں گے۔ یہ ہمیشہ ہی ایسے ظلم کرتے ہیں کاشتکار کو گنے کا ریٹ دیا نہیں جاتا اور چینی کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ چینی برآمد کی اجازت دے کر جان بوجھ کر چینی کی قلت پیدا کی جاتی ہے۔ چینی اب بھی پاکستان میں وافر مقدار میں ہو گی لیکن یہ خاندان ایسا ہے کہ ان کی بھوک نہیں مٹتی۔ جس ملک میں حکمران خود کاروباری ہوں وہاں پھر ایسے ہی مسائل جنم لیتے ہیں اور عوام سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور رہتے ہیں
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو:
(۲۲ مئی ۲۰۲۵)
”نو مئی کے جھوٹے کیسز کا ٹرائل ایک بار پھر شروع کیا گیا ہے- 9 مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج تک پیش نہیں کی جا سکی اور پچھلے دو سال نے یہ ثابت کیا کہ اس کا واحد مقصد تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج اگر پیش کر دی جائے تو سچ سب کے سامنے آ جائے۔
ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی ہمارے امیدواروں سے فارم 47 کے ذریعے سیٹیں چھینی گئیں- الیکشن پٹیشنز کا فیصلہ دینے کے لیے ذیادہ سے ذیادہ 180 دن کا وقت ہوتا ہے لیکن 15 ماہ گزرنے اور بار بار قانون اور جج بدلنے کے باوجود اب تک سماعت بھی نہیں شروع ہو سکی-
پشاور سے ہمارے جن لوگوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ان کو کابینہ سمیت فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کر کے پٹیشن دائر کرنی چاہیئے اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کرنا چاہئیے۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کریں۔
بطور پارٹی سربراہ بجٹ اور پالیسی سازی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی حکومت نے مجھ سے ہدایات لینی ہوتی ہیں۔ عوام نے تحریک انصاف کو حکومت کیلئے منتخب کیا ہے تو پالیسی مرتب کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے- لہذا بجٹ پیش کرنے سے پہلے علی امین گنڈاپور اور وزیر خزانہ کی مجھ سے ملاقات کروانا ضروری ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے کوئی مجھ سے ملاقات کرنے نہیں آیا، یہ خبر محض جھوٹ پر مبنی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جو سبکی ہوئی اس خفت مٹانے کیلئے وہ ضرور دوبارہ وار کرے گا
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں
انہی وجوہات کی بدولت میں نے مذاکرات کی بات کی ہے۔ مذاکرات ان سے ہی ہوں گے جن کے پاس اختیار ہے اور یہ مذاکرات صرف ملکی مفادات کی خاطر ہوں گے۔ میں کسی مشکل سے نہیں گھبراتا میرا عزم مضبوط ہے۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ فارم 47 کی اس جعلی حکومت نے پہلے ہی ہمارے دو مہینے ضائع کیے۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
جمہوریت کا قیام دو بنیادی اصولوں پر ہوتا ہے ایک قانون کی بالادستی اور دوسرا اخلاقیات۔ مجھ پر اور تحریکِ انصاف سے منسلک دیگر لوگوں پر جس طرح کے بے بنیاد سیاسی مقدمے بنائے گئے ہیں، جبری اغوا اور گمشدگیوں کے بعد پارٹی ممبران سے تحریکِ انصاف چھوڑنے سے متعلق پریس کانفرنس کروائی گئی اس سے ثابت ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہرگز نہیں بلکہ جنگل کا راج قائم ہے۔
اخلاقیات کی پستی کا یہ عالم ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران الیکشن کمیشن اپنی مقررہ مدت پوری کرنے کے باوجود عہدوں پر براجمان ہیں۔ متنازعہ آئینی بینچ کا قیام، اسکے فیصلے اور کیسز کی ہینڈلنگ سے اخلاقیات کی گراوٹ ثابت ہے۔ قانون اور اخلاقیات کی عدم موجودگی میں جمہوریت ہرگز نہیں پنپ سکتی، یہ معاشرے کی تباہی کا باعث ہے اور ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
مجھ پر ہر طرح کی سختی کی جا رہی ہے۔ میرے بچوں سے میری بات تک نہیں کروائی جاتی ، میرے اہل خانہ سے ملاقات کئی کئی دن روک لی جاتی ہے اور میرے معالج تک کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا اس کے باوجود میں اپنی قوم کی خاطر ڈٹ کر کھڑا رہوں گا-“
“تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا، اس کے مذموم عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور وہ زخمی ہے- وہ اپنی رسوائی کے بعد مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ملک و قوم کو اتحاد اور یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا جو تہذیبی و اخلاقی ڈھانچہ تھوڑا بہت قائم تھا، وہ ان لوگوں نے پچھلے دو سال میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ چور ہونا یا ڈاکو ہونا اس وقت اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔
آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ “امر بالمعروف” پر یقین رکھتے ہیں، اگر آپ نیکی اور سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، تو آپ جرم کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔
جب عوام 9 مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انہوں نے سچ کا ساتھ دیا، تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔
الیکشن کی لوٹ پر کھڑی فارم 47 حکومت کے بلند و بانگ کھوکھلے دعووں کے باوجود پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول ناممکن ہے۔ معیشت کی بدحالی دراصل ملک میں آئین و قانون کے نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔
جھوٹ اور فریب پر مبنی یہ نظام آزاد عدلیہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ کو لوٹنے کے بعد مسلسل عدالتی نظام پر ایک حملہ جاری ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم اسی حملے کی ایک کڑی ہے جسے اعظم تاررڑ اوراحسن بھون نے نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی “فیکٹری” میں مینوفیکچر کیا- اس کا مقصد تھا کہ ایک قاضی فائز عیسٰی کی جگہ کئی قاضی فائز پیدا کرو، ہر کورٹ میں ایک قاضی فائز بٹھاؤ اور پورا انصاف کا نظام دفن کر دو-
اقتدار پر قابض ناسمجھ لوگ جھوٹے نظام کو بچانے کے لیے ملک کے ہر علاقے میں پاکستانیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اغواء کاری اور ان پر تشدد روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
حضرت علی کا مشہور قول ہے: کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
پاکستان میں رائج ظلم، جبر اور نانصافی کا نظام بھی انشأللہ ذیادہ دیر نہیں چلے گا!
میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی جانب سے بےحد پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-
ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-
میں اپنے پارٹی لیڈرز، خواتین اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تمام افراد جو ناجائز فوجی عدالتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، وہ بہادری کا استعارہ ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں گفتگو (20-05-2025)
بلوچستان میں سکول کے معصوم بچوں کی بس پر حملہ انتہائی افسوسناک اور بزدلانہ فعل ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشتگردی کی جنگ میں پاکستانیوں نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں۔ موجودہ صاحب اقتدار کو سوچنا چاہیے کہ ان کی پالیسی کہاں غلط ہے جو یہ ناسور پھر ملک بھر میں سر اٹھا چکا ہے۔ اگر بھارت اس کاروائی میں ملوث ہے تو ہمیں پوری قوت سے عالمی فورمز پر بھارت کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ جیسے فورمز پر بھارتی فنڈنگ کو بے نقاب کرنا چاہیے۔بھارت پاکستان میں ٹارگٹڈ آپریشن کر کے لوگوں کو شہید اور قتل کر رہا ہے ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر دنیا کو اس مداخلت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے تا کہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے