🇵🇰 Police reportedly opened fire on supporters of Imran Khan's party in northwest Pakistan, as anger grows over the government seizing control of their home province.
Islamabad took over Khyber Pakhtunkhwa, the province Khan's party runs, kicked out its government and arrested its chief minister.
Protesters took to the streets in Bara, a town near the Afghan border, and that's when the shooting reportedly started.
The government says it stepped in because the province failed to stop militant violence, but in Bara, the guns were pointed at protesters.
Sources: Arab News / Writer: Julie
جبری گمشدہ؟؟؟؟
ان کو کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے؟؟ کہاں رکھا گیا ہے؟؟؟ ان پر کونسی دفعات/ جرائم تھوپے گئے ہیں؟؟؟کسی کو کچھ علم نہیں۔۔۔یہ اغواء کاری اور جبری گمشدگی ہے۔۔۔
یہ عوام کے مینڈیٹ، منتخب نمائندوں کی توہین و تذلیل ہے۔۔۔تاریخ اپنا حساب لے گی۔۔۔
مجبوراً ہمیں یہ کرنا پڑا ۰۰۰۰ ویر داخلہ محسن نقوی
مجبوری؟
جی ہاں مجبوری تھی کہ ہم عمران خان سے ایک ملاقات نہیں کرا
سکتے تھے اور اس لئیے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا پڑا
یاد رکھنا پاکستانی جرنل اگر مفادات پر بات آئی تو پاکستانی پر بھی گولی چلا دے گا، پاکستانی جرنل کے سامنے حب الوطنی اور پاکستان کوئی معنی نہیں رکھتا یہ ڈالر کے لیے اپنی ماں بھی بیچ دیتا ہے
تارک فاتح
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان، خیبر پختونخوا، باڑہ، ضلع خیبر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ ہوائی فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی، گورنر راج اور دفعہ 144 کے نفاذ کے موجودہ حالات میں شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ مزید اہم ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 پُرامن اجتماع کا حق تسلیم کرتا ہے۔ امن و امان کے نام پر غیر ضروری طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سرکاری اسلحہ عوام کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور مظاہرین کی جان و سلامتی یقینی بنائی جائے۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت نہیں بلکہ مکالمہ اور قانون کی بالادستی ہونا چاہیے۔
ترجمان
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان
#HumanRights #HRCP #KhyberPakhtunkhwa #Bara #KhyberDistrict #RightToProtest #FreedomOfAssembly #RuleOfLaw #HumanDignity #PeacefulProtest
وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک تصویر ایک ھزار الفاظ کے مضمون برابر ہوتی ہے۔ A picture is worth a thousand words
وزیر اعظم کا عہدہ تو پہلے ہی بے وقعت ہو چکا مگر اب صدرِ ممککت اور ایوان صدر کے عہدے کی اوقات یہ ہو گئی ہے کہ ایک شخص آستینیں چڑھا کر صدرِ مملکت اور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز کو اُسکے دستخطوں کی جگہ دکھا رہا ہے۔ ایوان صدر اور صدرِ مملکت کے آس پاس لوگوں کا کوئی ڈریس کوڈ یا یا ڈیکورم نہیں۔ کیا ہمارے وزیر داخلہ کسی دوسرے ملک کے سربراہ کے پاس ایسے آستینیں چڑھا کر جا سکتے ہیں؟ ویڈیو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے دستخط نہ ہونے کی صورت میں قانون کا دایاں لمبا ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ شاید اسی لیئے مرکزی دھارے والے میڈیا کو وہ ویڈیو چلانے سے روکا بھی گیا تھا۔ اُس ویڈیو اور اس تصویر میں یہ لگ رہا تھا کہ زرداری صاحب کو ایڈوائس شھباز شریف نہیں محسن نقوی دے رہے ہیں۔ معلوم نہیں نقوی صاحب وزیر اعظم سے کون کون سی فائلوں پر ایسے ہی آستینیں چڑھا کر اور پاس کھڑے ہو کر دستخط کراتے ہونگے ؟
مگر ایسا تب ہوتا ہے جب آصف زرداری جیسا سیاستدان خود کو صدرِ مملکت سے زیادہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سمجھتا ہے۔ کچھ دن پہلے وزیر داخلہ صاحب نے ن لیگ کے صدر شھباز شریف کی موجودگی میں بھی منتخب نمائندوں کی دفتروں میں عدم دستیابی کے بارے لیکچر دیا تھا جس پر وزیر اعظم شھباز شریف نے تالیاں بھی بجائی تھی۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
Shame on all of these people who have gone against the mandate of the people. These anti-democracy characters will be shamed for ever in Pakistan’s history books.
#گورنر_راج_نامنظور