آپ سہولیات اور تنخواہ کے لحاظ سے چیک کریں تو پاکستان کے افسران ، سیاستدان،جج ، جرنیل دنیا کی ٹاپ کی تنخواہ اور سہولیات لیتے ہیں
آپ کارکردگی کے لحاظ سے دیکھیں ہم ہر پیمانے پر دنیا کے سب سے نیچے خانے میں ہوں گے
اگر مجھ سے کوئی پاکستانی سرکاری ملازم/افسر (چاہے وہ کسی بھی محکمے میں ہو) کی تعریف پوچھے تو میرا جواب ہو گا:
"سست, کاہل, نالائق, غیر ذمہ دار, مفاد پرست, راشی, کرپٹ اور اکڑو"-
(مٹھی بھر ایسے نہیں بھی ہونگے لیکن اکثریت ایسی ہی ہے)-
اہم اپیل — سواں گارڈن، D بلاک
تمام اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ سواں گارڈن D بلاک میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث گاڑی اور اس شخص کی شناخت/ٹریس کرنے میں ہماری مدد کریں۔
⚠️ یہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والا اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔
اگر کسی بھائی کے پاس اس گاڑی یا ڈرائیور کے بارے میں کوئی معلومات، CCTV فوٹیج یا شناختی تفصیل موجود ہو تو براہِ کرم فوراً متعلقہ افراد یا پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔
آپ کی ایک اطلاع کسی اہم معاملے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
براہِ کرم یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ گاڑی والے کو جلد از جلد ٹریس کیا جا سکے۔
یا اللہ جی
گزشتہ رات پمز کے بچہ وارڈ کی نرسری میں ڈاکٹر سے لے کر نرسز، وارد بوائے، اے سی انجینئر، الیکٹریشن کوئی بھی اپنی ڈیوٹی پر نہیں تھا جس کے نتیجے پندرہ معصوم اس دنیا میں آنکھ کھولے بغیر آپ کے پاس پہنچ گئے۔
آپ اس کے زمہ داروں کے لئے کافی ہو جائیے، جنہوں نے ان بچوں کو جلا کے مارا ہے انہیں دنیا میں ہی ایسی دردناک موت عطا کیجئے اور ان کا انجام عبرت دنیا کو دکھائیے۔
آمین
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
ایک طرف پمز میں لگی آگ ،15 نومولود بچوں کی ہلاکت دیکھیں اور ساتھ ہی اس سرکاری افسر کے ٹھاٹھ ۔۔۔ ریاست کی بربادی اسی سسٹم کے ہاتھوں ہوئی ہے ، سرکاری ملازموں کے ہاتھ میں ریاست کا اختیار ہے اور سیاست دن ان کے شریکِ جرم ، قصہ مختصر اس ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے اور بس
بجلی کے بل موجودہ حکومت کے دور میں دوگنے سے بڑھ گے ہزار طرح کے فکسڈ ٹیکس الگ لگائے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی استعمال نا کرنے پر بھی ٹیکس دینا ہے اس کے باوجود خسارہ پانچ ہزار ارب سے بڑھ گیا ہے
یہ رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے دوگنی ہے
پوچھنا یہ تھا اویس لغاری کو تمغہ کس لیے دیا ہے ؟
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
لگتا ہے پاکستان کی ہر حکومت، ہر اسٹیبلشمنٹ۔۔۔ شوگر مافیا کی یا تو غلام ہے یا ساتھی ہے۔ جتنی بے شرمی سے شوگر مافیا اور آئی پی پیز پاکستانی غریب عوام کے ٹیکس سے حرام کے اربوں ڈالرز بناتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے لواحقین کو پتا چلے وہ بھی شرما جائیں۔ اُنھیں تو جہازوں پر کم از کم ہزاروں کلومیٹر کا مشکل سمندری سفر کر کے آنا پڑتا تھا اور بدلے میں کچھ نہ کچھ ادا بھی کرنا پڑتا تھا۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ "آئی پی پیز" بجلی پیدا کیے بغیر باقاعدگی سے ملینز آف ڈالرز لینے کے "پابند" ہیں۔ شوگر مافیہ اتنا لاڈلا ہے کہ پہلے انھیں گنا خریدنے سے چینی بنانے تک حکومت سے امداد ملتی ہے، پھر ایکسپورٹ کرنے کی "سہولت" ملتی ہے کہ بیچاروں سے زیادہ چینی بن گئی ہے۔ پھر چینی کی قلت پیدا کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ پھر مہنگی کر کے بیچنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ پھر ایکسپورٹ کی ہوئی چینی امپورٹ کرنے میں مدد ملتی ہے اور ۔۔۔۔ یہ وہ شوگر ملز ہیں جنھیں لگانے کے لیے بھی حکومتی قرضے اور "امداد" ملی تھی، اُس ملک کی حکومت سے امداد جو خود آئی ایم ایف سے امداد لے رہی ہے۔ آئی ایم ایف تو قرضہ معاف نہیں کرتا البتہ مافیا کے قرضے معاف ہو جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی شوگر ملز اور کے پی کے تمباکو مافیا کو کوئی ہے پوچھنے والا؟
کبھی کبھی انسان بہت پڑھ لکھ کر بھی وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنی ڈگری سے زیادہ اپنی ہمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ❤️پیارے سے اس بھائی نے ایم اے انگلش کیا، اپنی تعلیم مکمل کی، آنکھوں پر چشمہ لگا اور نظر بھی کمزور ہوگئی، لیکن سب سے مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب اتنا پڑھنے لکھنے کے باوجود نوکری نہ ملی۔
بھائی نے ہمت نہیں ہاری۔ بہاولپور سے باہر تک گئے، مختلف جگہوں پر انٹرویوز دیے، کئی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹائے، اس امید کے ساتھ کہ شاید کہیں اپنی تعلیم کے مطابق ایک اچھی نوکری مل جائے۔ لیکن افسوس کہ جو سیلری آفر کی جاتی تھی، وہ اتنی کم تھی کہ ایک میٹرک پاس شخص کی تنخواہ کے برابر بھی نہیں بنتی تھی۔
پھر بھائی نے ایک فیصلہ کیا…
نوکری کو خیرآباد کہا اور اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ❤️
انہوں نے سوچا کہ اگر ڈگری کے مطابق نوکری نہیں مل رہی تو کیا ہوا، محنت تو اپنے ہاتھ میں ہے۔ چاہے سڑک کنارے کھڑے ہو کر کاروبار کرنا پڑے، لیکن کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے ہاتھ سے رزق کمایا جائے گا۔
آج یہ بھائی اسلامیہ یونیورسٹی روڈ، بہاولپور اولڈ کیمپس کے سامنے اپنی موٹر سائیکل پر گھر کا بنا ہوا مکرونی اور چنے چاٹ فروخت کر رہے ہیں، اور قیمت صرف 100 روپے ہے۔ ❤️
اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ کھانا ان کی اپنی والدہ کے ہاتھوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک طرف ماں کی محنت، دوسری طرف بیٹے کی جدوجہد، اور دونوں کے درمیان ایک خواب… اپنا ریسٹورنٹ بنانے کا خواب۔
بھائی نے بتایا کہ ان کا خواب ہے کہ ان شاء اللہ ایک دن اپنا ریسٹورنٹ بنائیں گے۔
سچ کہیں تو اتنا پڑھ لکھ کر جب انسان کو اپنی قابلیت کے مطابق نوکری نہ ملے تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے حالات میں ہمت ہار بیٹھتے ہیں، لیکن اس بھائی نے ہمت ہارنے کے بجائے اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ صرف مکرونی اور چنے چاٹ کی ایک پلیٹ نہیں ہے…
یہ ایک نوجوان کی محنت، خودداری، ماں کی دعا اور ایک بڑے خواب کی قیمت ہے۔ ❤️
ہمیں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی محنت سے حلال رزق کمانے کے لیے سڑک کنارے کھڑا ہے تو صرف اس لیے نظر انداز نہ کریں کہ اس کے پاس کوئی بڑی دکان نہیں۔ اگر چیز اچھی ہے تو ضرور خریدیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں، دعائیں دیں اور دوسروں تک بھی اس کا ذکر پہنچائیں۔
کیونکہ ہوسکتا ہے آج یہ بھائی موٹر سائیکل پر مکرونی اور چنے چاٹ بیچ رہا ہو، لیکن کل یہی بھائی اپنے خوابوں کا ایک خوبصورت ریسٹورنٹ چلا رہا ہو۔ ❤️
اللہ پاک اس بھائی کی محنت میں برکت عطا فرمائے، ان کی والدہ کو صحت اور خوشیاں دے، ان کے رزق میں وسعت دے اور ان کا یہ خواب بہت جلد حقیقت بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲❤️
اور یاد رکھیں، چھوٹا کاروبار کبھی چھوٹا خواب نہیں ہوتا۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے دوبارہ کھڑا ہو جائے۔ ❤️
جتنی بے شرمی سے شوگر مافیا اور آئی پی پیز پاکستانی غریب عوام کے ٹیکس سے حرام کے اربوں ڈالرز بناتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے لواحقین کو پتا چلے وہ بھی شرما جائیں۔
سوڈان میں ایک ماں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔
یا الله آج کے انسان کو کیا ہوگیا ہے. ان مظلوموں کی مدد کرنے والا کیا اس دنیا میں کوئی نہیں بچا ؟ ؟ ؟
"میں بھوکی ہوں ، مجھے کھانا چاہئیے" ! فلسطینی بچی
میرا مشن صرف فلسطین کی آواز اُٹھانا ہے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دُنیا تک پہنچانا ہے اور جو مسلمان خاموش بیٹھے ہیں اُنکو بھی آواز اُٹھانے پر قائل کرنا ہے ہم پر جہاد فرض ہو چُکا ہے جس حیثیت میں بھی ہیں اپنا فرض ضرور ادا کریں
ہمارے لوگ بڑے جذباتی ہیں،کبھی خاں صاب کو گالیاں دیتے تھے،آج سب ترس کھا رہے ہیں،
حالانکہ اپنے وقت میں خاں صاب بھی فرعون اول تھے،
لیکن اصل حقیقت یہ ہے، کہ یہ سارے مداری کھیلتے صرف عوام کے جذبات سے ہی ہیں،اور ذلیل بھی عوام کو ہی کرتے آ رہے ہیں،
سو ریلکس ہو کے ان کا تماشہ دیکھیں بس!
یہ ایک حقیقت پاکستان کی کسی سیاسی جماعت نے عوام کے حقوق کی حفاظت نہی کی ہے اور اقتدار کے لئے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کی عوام کو بجلی مافیا ، شوگر مافیا ، گندم مافیا ، پیٹرول مافیا کے آگے پھینک دیا ہے اپنے غلط فیصلوں کی قیمت بھی عوام پر بھتے جیسے ٹیکس لگا کر کییے ہیں
اب حکومت نے خود تسلیم کیا کہ پچھلے سال جو چینی امپورٹ کی وہ سٹاک میں پڑی ہے اس وقت مارکیٹ میں چینی کا ریٹ 150/160کے درمیان ہے مارکیٹ ڈیمانڈ سپلائی پر چلتی ہے اگر چینی وافر تو پاکستانی مارکیٹ میں ڈالیں اس سے چینی کی قیمت واپس 80/90 روپے کلو ہو گی مگر چونکہ خود چینی کے کارخانے تو اپنا نقصان نہی کرنا عوام کو فائدہ نہی دینا وہ چینی باہر بھیج کر ملک میں شارٹیج کریں گے
اس قدر تجربہ کاروں کی حکومت کہ جو چینی پچھلے سال زرمبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے مہنگی خرید کر لائے تھے اس سال وہ ہی چینی واپس بیچ رہے کیونکہ ملک میں ضرورت نہی تھی فراوانی کرتے تو عوام کو ان کے کارخانوں کی چینی سستی دینی پڑتی اس لیے اب واپس بیچیں گے
شہباز حکومت نے پیٹرولیم مصوناعات سے بجٹ خسارے پورے کرنے کے علاوہ فی لیٹر ڈیلر مارجن بڑھا کر ایک اور مافیا کے آگے سر جھکا دیا ہے
شہباز شریف کی ڈکشنری میں عوام نہی ہے بس الیٹ ہے مافیا ہے اور ان کے آگے سر جھکا کر اقتدار قائم رکھنا ہے
سول سپریمیسی کا تصور اب پاکستان میں اگلے تیس چالیس سال تک ایک خواب رہے گا پاکستان کی پچاس سال کی تاریخ میں سیاسی قوتوں اور جماعتوں نے جو چند سولین اختیار لیے تھے پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے اپنی نا اہلئ اور وقتی گروہی مفادات کے لئے وہ سب سرینڈر کر دیے ہیں یہ کام حکومت اور پارلیمان نے خود کیے ہیں اب عوام کو چاہیے ان سیاستدانوں کو ان کے حال پر چھوڑیں اور اپنے مسائل مہنگی بجلی ، پیٹرول گیس وغیرہ پر آواز اٹھائیں اپنے حقوق کی خود خفاظت کریں یہ سیاستدان آپ کو بیچ چکے ہیں