"9 مئی کا بہانہ بنا کر عمران خان سے معافی کا مطالبہ کرنے والے ذرا اس تصویر کو دیکھیں۔ اب جب آرمی افسر کا یہ غیر قانونی اقدام سب کے سامنے آ چکا ہے، تو بتائیں کہ قانون کی دھجیاں اڑانے پر کون معافی مانگے گا؟"
حکومت کی جانب سے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے عبوری حکم کے خلاف نظرِثانی کی درخواست بادی النظر میں کئی سنجیدہ قانونی سوالات سے دوچار ہے۔
اول، آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرِثانی، اپیل کا دوسرا نام نہیں۔ نظرِثانی میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ فیصلے میں کوئی ایسی واضح اور نمایاں قانونی غلطی موجود ہے جو ریکارڈ کے چہرے سے عیاں ہو۔ محض یہ کہنا کہ عدالت کو شفا کے بجائے کسی سرکاری ہسپتال کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، عدالتی صوابدید سے اختلاف تو ہوسکتا ہے، ’’واضح غلطی‘‘ نہیں۔
دوم، یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں بلکہ عبوری حفاظتی حکم ہے اور اصل مقدمہ ابھی سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ اگر حکومت کو اس کے نفاذ، سکیورٹی یا انتظامی امور پر اعتراض تھا تو اسی بنچ سے حکم میں ترمیم، تبدیلی یا واپسی کی استدعا زیادہ موزوں قانونی راستہ تھا۔ زیرِسماعت مقدمے کے ایک عبوری انتظام کو نظرِثانی کے ذریعے دوبارہ میرٹ پر کھلوانا، نظرِثانی کو اپیل میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔
سوم، حکومت خود قاعدہ 197 قواعدِ جیل پر انحصار کررہی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل پنجاب کے محکمۂ جیل خانہ جات کے انتظامی دائرے میں ہے۔ پھر بنیادی سوال یہ ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو قاعدہ 197 کے تحت کون سا قانونی اختیار حاصل تھا جسے سپریم کورٹ کے حکم نے سلب کیا؟ محض یہ حقیقت کہ منتخب ہسپتال اسلام آباد میں واقع ہے، اڈیالہ جیل کے قیدی کی تحویل اور طبی منتقلی کا قانونی اختیار چیف کمشنر کو منتقل نہیں کرتی۔
چہارم، آرٹیکل 25 مساوات کا اصول ہے، یکسانیت کا نہیں۔ قانون مساوی حالات میں مساوی سلوک کا تقاضا کرتا ہے؛ مختلف طبی ضروریات رکھنے والے ہر قیدی کو لازماً ایک ہی علاج دینا مساوات نہیں۔
اور سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ نظرِثانی میں عدالت یہ نہیں دیکھتی کہ کوئی دوسرا فیصلہ بھی ممکن تھا؛ وہ یہ دیکھتی ہے کہ پہلے فیصلے میں کوئی ایسی واضح قانونی غلطی تھی جسے برقرار رکھنا انصاف کے منافی ہوگا۔
اس لیے اصل سوال شفا یا پمز کا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کسی واضح قانونی غلطی کی نشاندہی کررہی ہے، یا نظرِثانی کے محدود دائرۂ اختیار میں عدالتی صوابدید کی ازسرِنو سماعت چاہتی ہے؟