اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
ملاقات میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان،علامہ راشد محمود سومرو، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش شریک
ملاقات میں مولانا اسجد محمود، ملک سکندر ایڈوکیٹ، مفتی ابرار شریک
ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر گفتگو
خلیج میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کو مولانا فضل الرحمان نے سراہا۔
ملاقات میں وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی کہ آئندہ جمعہ کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے ملتوی کر دیں۔
إعلانُ وقفِ إطلاقِ النار بين إيران وأمريكا أعظم وأبرز خبرٍ في هذه المرحلة الراهنة. وقد اضطلع رئيس الوزراء شهباز شريف، ومعه نائبُه إسحاق دار، والمشيرُ عاصم منير، بجهودٍ دبلوماسيةٍ حثيثةٍ في هذا الظرف البالغ الدقة، وهي جهودٌ حريّةٌ بالتنويه والإشادة، بل تُعَدُّ مبعثَ فخرٍ واعتزازٍ للبلاد.
وما وقع مؤخرا من هجوم إيران على المملكة العربية السعودية فقد كان بغير حقٍّ ، غير أنّ المملكة قد أبدت، طوال هذه الفترة، من الحِلم وضبط النفس، ما يشهد على كريمِ إيثارها ونُبل موقفها، الذي لولاه لما كان وقفُ إطلاقِ النار ممكنًا.
ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی وقت کی سب سے بڑی اور اھم خبر ہے وزیراعظم شہباز شریف انکے نائب اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس انتہائی نازک موقع پر جو سفارتی کوششیں کیں وہ نہایت قابل مبارکباد اور ملک کے لئے فخرو اعزاز کی بات ھیں آخری دن ایران کا سعودی عرب پر حملہ بلاجواز تھا لیکن سعودی عرب نے اس پورے عرصے میں جس تحمل کا مظاھرہ کیا وہ اسکے ایثار کی دلیل ہے جسکے بغیر جنگ بندی ممکن نہ ھوتی
امریکی حملے کا ٹل جانا حالات کی عارضی بہتری خوش آئند ہے،پاکستان سمیت چار برادر اسلامی ممالک خطہ میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کیلئے اس دورانیہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اسلامی برادری کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود اب عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ عرب اور خلیجی ممالک فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کی صورت میں ہی اپنے ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرسکتے ہیں۔
ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ھے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ھیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ھے ھم بار بار اس کی نشاندھی کررھے ھیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاھرہ کرنا ھوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ھوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ھم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ھوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ھوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ھیں
أمير جمعية علماء الإسلام باكستان مولانا فضل الرحمن يدين الهجمات على السعودية ويدعو لوحدة إسلامية لمواجهة التحديات
أدان أمير جمعية علماء الإسلام باكستان مولانا فضل الرحمن بشدة العدوان الإسرائيلي على الشعب الفلسطيني، مؤكدًا أن موقفه كان ولا يزال واضحًا منذ البداية في رفض هذا العدوان المدعوم أمريكيًا، وكذلك رفض السياسات التوسعية التي تتجاوز فلسطين لتطال العالم العربي وإيران.
وفي بيان صحفي، أعرب فضل الرحمن عن قلقه إزاء التداعيات التي أعقبت الهجمات على المملكة العربية السعودية، مشيرًا إلى أن هذه التطورات أسهمت في ترسيخ انطباع بوجود نزعة توسعية لدى إيران، وهو أمر غير مقبول في نظر العالم الإسلامي، لا سيما الباكستان. ودعا طهران إلى اتخاذ خطوات عملية لتبديد هذا التصور، محذرًا من أن مثل هذه الأحداث تؤدي إلى تصعيد التوترات وتقويض جهود السلام في المنطقة.
وأضاف أن استهداف السعودية يأتي في إطار مخطط يهدف إلى إشعال الخلافات داخل الأمة الإسلامية، وجرّها إلى صراعات داخلية تخدم مصالح الولايات المتحدة وإسرائيل. وشدد على ضرورة أن تتحلى الدول الإسلامية بالحكمة وضبط النفس، وأن تعمل على تعزيز وحدة الصف في مواجهة التحديات المشتركة.
كما دعا إلى المضي قدمًا نحو تشكيل تكتل إسلامي موحد، يهدف إلى حماية السيادة وتحقيق المصالح العليا للأمة، وتمكين الدول الإسلامية من دعم بعضها البعض سياسيًا واقتصاديًا وتنمويًا.
وفي ختام بيانه، اعتبر مولانا فضل الرحمن الهجمات على السعودية انتهاكًا خطيرًا لسيادتها ووحدة أراضيها، معربًا عن بالغ أسفه لسقوط ضحايا، ومقدمًا التعازي للقيادة السعودية والحكومة والشعب، ولأسر الضحايا، مؤكدًا تضامنهم الكامل في هذه الظروف.
@MoulanaOfficial@KingSalman@HRHMBNSALMAAN@KSAembassyPK@KSAMOFA@AmbassadorNawaf@spokesman_moia@badermasaker
#JUI #Pakistan #KSA
Maulana Fazl ur Rehman calls for in-camera parliamentary session on regional tensions.
The News
It has become difficult for Israel to maintain its existence. The world has now seen its real face,” MFR said. He further criticised the Donald Trump administration for its support of Israel, claiming it had led to increasing isolation both globally and domestically, with protests emerging within the United States.
Maulana Fazlur Rehman alleged that despite these developments, the government was attempting to appease Washington while diverting public attention from core domestic issues, adding that the Muslim world was under mounting pressure.
https://t.co/CdSmv0qQHd
رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ اختر علی کا اہم خطاب
اس وقت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر چکا ہے۔
پاکستان کی میڈل کلاس تقریباً ختم ہونے کو ہے اور خط غربت کے نیچے لوگ جا رہے ہیں۔
جنگی صورتحال ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جنگیں زیادہ تر سفارتی اور قیادت کے جذبے سے کامیاب ہوتی ہیں۔
مسلمان کا جذبہ شہادت ہے اور جو ارادہ ہے اگر اس سے جنگ لڑی جائیں تو یہ یقینا کامیابی ہوتی ہے اور اس کا ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ایران جس طرح اس جنگ میں کامیابی کی طرف جا رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
ایک طرف امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ ایک بد مست ہاتھی کی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روز دھمکیوں پہ دھمکیاں دے رہا ہے دوسری طرف یورپ اپنی پہچان کی کوشش میں لگا ہوا ہے اپنی خود مختاری منوا رہا ہے ۔
تیسری طرف چین جو ہے وہ اپنے اثر رسوخ کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے اور سب سے زیادہ اگر ہم دیکھیں تو مشرق کے وسطہ میں اس وقت مسلمان جو ہے وہ نقصان پہ نقصان اٹھا رہے ہیں ایک عالمی جنگ چھڑ چکی ہے جس میں الٹیمیٹلی نقصان پھر مسلمانوں کا ہے اور اس وقت حالت ہے اس میں پاکستان کا ایک قلیدی کردار ہے انتہائی اہم کردار ہے
میری تجویز ہے کہ پاکستان او آئی سی میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ میں بھی آواز بلند کرے۔ جس پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ خاموشی ہے۔
پاکستان کو مسلم ممالک کے ایک متحدہ بلاک کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دنیا میں مسلم ممالک کی اہمیت اور قوت بڑھ سکے۔
جہاں پہ پاکستان کی اہمیت ہے تو اس کردار کو نبھاتے ہوئے یو این میں بھی اواز اٹھانی چاہیے وہ یو این وہ معاہدات جہاں پہ امریکہ میں اگر ایک کتے کو بھی مارا جاتا ہے تو وہاں پہ بھی وائلیشن ہوتی ہے اور ہیومن رائٹ کی تنظیم میں اٹھتی ہیں کہ یہ جانوروں کی حقوق کی پاسداری نہیں کی گئی تو یہاں پہ جو فلسطین غزا شام عراق ہر جگہ بمباری کر رہا ہے کون کر رہا ہے اسرائیل کر رہا ہے امریکہ کر رہا ہے تو کیوں واضح پیغام نہیں دیا جا رہا ۔
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جس کے منہ کو خون لگ چکا ہے مسلمانوں کا۔جو کہ جنگی جرائم کا مجرم ہے اس کو ہم پیس نوبل انعام کے لیے تو منتخب کرتے ہیں لیکن ایک واضح پالیسی نہیں آرہی اخر کیوں؟
ایک واضح پالیسی آنی چاہیے ہمیں مسلم ممالک کا ایک یونائٹڈ بلاک بننے چاہیے کیونکہ اس وقت جو دنیا ہے وہ ایک نئی نظام کی تشکیل کی طرف جا رہی ہے ۔
اگر یہاں پالیسی واضح نہیں ہے تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟ یہاں وہ معاہدات سامنے لائے جائیں، وہ ایم او یوز جو سائن کیے جاتے ہیں، ان پر یہاں بحث ہو تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ ان کی میریٹس کیا ہیں اور ڈی میریٹس کیا ہیں۔ ہمیں یہ بتائے جائیں۔
یہاں پہ انرجی کرائیسز کس وجہ سے ہیں؟ آئی پی پیز کے وہ معاہدات جنہیں ہم نہیں بدل سکتے، لیکن جہاں بھی حکومت نے رینیو ایبل انرجی کو انسینٹیوائز کیا، لوگوں نے اسے لگایا، اور آج سولر پالیسی پر مختلف غیر مستحکم پالیسیز ہر روز بدلتی رہتی ہیں۔
آج ایک بیان، کل دوسرا، پھر تیسرے دن تیسرا تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمارا ملک بھی ہے اور سب سے پہلے ہمیں اپنی شناخت اور ملک کی سالمیت مقدم رکھنی چاہیے۔ ہم ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں، لیکن آپ بھی خدارا وہ پالیسیاں سامنے لائیں جن پر عوام عمل کر سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ موجودہ پالیسیز، جو انصاف پر مبنی نہیں ہیں، عوام میں ناپسندیدگی پیدا کریں۔
بجلی اور انرجی کے بحران میں، اگر بجلی کا بل دیکھا جائے تو اس پر متعدد ٹیکسز لگائے گئے ہیں
ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، اور سیلز ٹیکس الگ سے، اس کے علاوہ فائنینسنگ کاسٹ بھی شامل کر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، پندرہ یونٹ بجلی کے بل کا آج کا ریٹ ساڑھے چھے سے سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، تو لوگ کہاں جائیں گے؟
ہمیں دیکھنا چاہیے کہ یہ پالیسیاں کیوں ایسی ہیں۔ سولر اور رینیو ایبل انرجی کو کمزور کیوں کیا جا رہا ہے؟ کم از کم اسے رہنے دیا جائے، کیونکہ یہ گرین انرجی میں مثبت اثر ڈالتی ہے۔
ہمیں ایکسپلوریشن کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے،معدنیات اور ذخائر کو دریافت کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی انڈیپینڈنس حاصل کر سکیں۔ مستقبل میں، خلیجی ممالک فوڈ انفلیشن کا شکار ہوں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور یہاں سکلڈ ورکرز کی کمی نہیں۔ ہمیں اپنی زراعت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں اور برآمدات کے قابل بن سکیں۔ ہم اپنے مشرقی اور مغربی مسلم ممالک کو بھی ایکسپورٹ کر سکیں۔
زراعت کے ساتھ ساتھ اگر ہم اپنا لائیو سٹاک دیکھیں، جہاں انڈیا اور برازیل ریڈ میٹر ایکسپورٹ کرتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم ان سے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، اور زیادہ اخراجات بھی نہیں آئیں گے اگر ہم پریزرویشن پر توجہ دیں۔
شمالی وزیرستان کی تحصیل شواہ اور سپین وام میں آپریشن، عوام کو درپیش مشکلات، دریائے ٹوچی میں طغیانی کے باعث زرعی زمینوں اور آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات پر مفتی مصباح الدین کا پارلیمنٹ میں خطاب۔
شمالی وزیرستان کئی دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور بدامنی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام دونوں طرف سے غیر محفوظ ہیں۔ کل کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں کہ لوگ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے اور آج بھی کھلے آسمان تلے موجود ہیں، جبکہ تیز بارش اور آندھی کا سامنا کر رہے ہیں۔
میں لوکل گورنمنٹ سے اس ایوان کے فلور پر درخواست کرتا ہوں کہ وہاں امن قائم کیا جائے اور ان متاثرہ لوگوں کو جلد از جلد اپنے گھروں تک رسائی دی جائے۔
اہم مسئلہ حالیہ سیلابی صورتحال ہے۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے دریائے ٹوچی، کیتو نہر اور دریائے کرم میں سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔ ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب آ چکی ہے، جبکہ دریائے ٹوچی کے کنارے آباد بستیاں دریا برد ہو گئی ہیں۔
ہمزوی کے علاقے میں مکانات سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں، جبکہ میرعلی ڈویژن میں حسو خیل اور حیدر خیل کے مکانات بھی دریائے ٹوچی میں بہہ گئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کی ویڈیوز بھی پیش کر سکتا ہوں۔
میں نے بارہا اس ایوان اور صوبائی حکومت سے گزارش کی ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ ان تینوں دریاؤں پر حفاظتی دیوار (Protection Wall) تعمیر کی جائے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تو لاکھوں ایکڑ زمین آباد ہو سکتی ہے اور ان علاقوں کی آبادی مستقبل میں اس طرح کی تباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے، ان شاء اللہ۔
اس ایوان کا تیسرا سال چل رہا ہے، مگر قبائلی اضلاع کے اراکین، بشمول میرے، کو اب تک ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ کیا ہم اس ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟
قبائلی اضلاع وہ علاقے ہیں جو دہشتگردی اور آپریشنز سے شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں تقریباً سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ پھر ہمیں کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ کیا قومی خزانے میں ہمارا کوئی حصہ نہیں؟
میں اس ایوان کے فلور پر وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ قبائلی اضلاع کے اراکین کو ان کا حق دیا جائے تاکہ ہم بھی اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کر سکیں اور عوام کی خدمت کر سکیں۔
یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے اور ہمارا حق بھی کہ ہمیں ہمارے وسائل فراہم کیے جائیں۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
رکن قومی اسمبلی جمعیۃ علماء اسلام عثمان بادینی کا اجلاس سے اہم خطاب
اس وقت عالمی جنگ کی صورتحال نے مسلمانوں پر ایک عذاب کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پورے پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان آیا ہے، خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سے۔
لیکن مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہمارا ہمسایہ اسلامی ملک ایران، جس کے لیے ہمارے ہمیشہ نیک جذبات رہے ہیں اور آئندہ بھی ان شاء اللہ رہیں گے، وہاں سے ہمیں تفتان، گوادر اور پنجگور بارڈرز کے ذریعے تقریباً چالیس روپے فی لیٹر پیٹرول مل سکتا ہے، تو ہم اس فیول کو پاکستان میں کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟
جبکہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور ایران بارڈر پر ایسی کوئی رکاوٹ نہیں کہ ٹرانسپورٹیشن ممکن نہ ہو۔
دوسری طرف مہنگائی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ راتوں رات اعلان ہوا اور گڈز ٹرانسپورٹ نے اپنے کرایوں میں ساٹھ فیصد اضافہ کر دیا۔ مسئلہ صرف بچوں کے اسکول جانے یا دفتر آنے جانے کا نہیں، بلکہ لوگوں کے گھروں کے چولہے جلانے کا ہے۔ عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے۔
یہاں کچھ معزز ارکان نے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کی کہانیاں سنائیں کہ ہم نے بڑی دلیری سے مقابلہ کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے لیوی بڑھائی گئی اور پھر کمی کر دی گئی۔ کم از کم یہ تو کیا جاتا کہ جو فیول پہلے سے پاکستان میں موجود تھا، اسے سبسڈی پر فراہم کیا جاتا۔
ہماری پلاننگ یہ ہے کہ ہم مختلف اشیاء کو سبسڈی دیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جس چیز کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، یعنی فیول، اسی پر لیوی ختم کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر فیول سستا ہو جائے تو باقی شعبوں میں بھی ریلیف ملے گا۔
بلوچستان پہلے ہی اپنے معدنی وسائل کی وجہ سے پاکستان کے مسائل کا حل بن سکتا ہے، اور آج وہ فیول کے ذریعے بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ایران سے روزانہ 22 لاکھ لیٹر فیول سمگل ہو کر آتا ہے۔ اگر ہم قانونی طور پر ایران کے ساتھ تجارت کریں اور مناسب ٹیکس ادا کریں تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
بھارت اور ایران اپنی کرنسیوں میں تجارت کر سکتے ہیں، تو پاکستان کیوں نہیں؟ بلوچستان میں پہلے ہی بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور مہنگائی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔
کراچی سے گوادر کا فاصلہ تقریباً 800 کلومیٹر ہے جبکہ تفتان سے کراچی کا فاصلہ 1600 کلومیٹر ہے۔ اگر بلوچستان کے لوگ چند کلومیٹر کے فاصلے سے سستا فیول حاصل کر سکتے ہیں تو انہیں اس کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟
اگر بلوچستان کو واقعی ریلیف دینا ہے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے تو ایران کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کراچی سے سامان تفتان تک 1600 کلومیٹر لے جایا جاتا ہے، جبکہ ایران سے آنے والی اشیاء چند کلومیٹر کے اندر پاکستان میں داخل ہو سکتی ہیں، مگر ہماری پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، جبکہ ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ایک خودمختار قوم ہیں، ایران تنہا مقابلہ کر رہا ہے اور اس ظالم کے ساتھ لڑرہا یے اور ہم اپنی معیشت پر خود ہی بوجھ ڈال رہے ہیں اور اپنے لوگوں پر عذاب ڈال رہے ہیں
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عوام کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل ہمارے سامنے ہے کہ ایران سے سستا فیول اور دیگر مصنوعات لا کر عوام کو سہولت دی جائے۔
مزید یہ کہ اطلاعات ہیں کہ آئندہ دنوں میں بجلی پر بھی ٹیکسز بڑھائے جائیں گے۔ دیہی علاقوں میں جہاں دکانوں کا کرایہ صرف پانچ سے سات ہزار روپے ہے، وہاں بھی وہی شرح لاگو ہے جو بڑے شہروں میں لاکھوں روپے کمانے والوں پر ہے۔ ان چھوٹے علاقوں کو کم از کم ریلیف دیا جانا چاہیے۔
جہاں تک زمینداروں پر ٹیکس کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ زراعت پہلے ہی تباہ حال ہے۔ زمیندار سے اپ خون لے لو۔اور مجبوری میں اپنی زمینوں سے وابستہ ہیں، ورنہ وہ بھی شہروں کا رخ کر چکے ہوتے۔
ہم سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا اور سنجیدگی سے تجاویز پر غور کرنا ہوگا، تاکہ اس اسمبلی کے فلور سے ایک متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے جس پر پورے پاکستان کو اتفاق ہو۔
اگر مشکل وقت آیا ہے تو ہمیں مل کر اس کا حل نکالنا ہوگا، اور مجھے یقین ہے کہ پاکستانی عوام بھی اس میں ہمارا ساتھ دے گی۔
مـیـرا قـائـد :
یہ ہلکی پھلکی مسکان اور تبسم آمیز لب و ادا .
پتہ نہیں کتنے دلوں پہ اس نے گہرام مچائی ہوگی .
قائد محترم سدا یوں ہی مسکراتے رہیں ...!!
@MoulanaOfficial#نکلو_مولانا_کے_سنگ
جمعیت علماءاسلام ھر جابر کے جبر کے خلاف ھمیشہ سے سینہ سپر تھی ھے اور رھیگی ان شاءاللہ، یہ سوچنا ان جابر قوتوں کا کام ھے کہ وہ کس قدر جمعیت علماء اسلام اور اسکی قیادت کو آزمانے کا جگر رکھتے ھیں۔
ھاں جن کا کردار”ذکر و انثی” دونوں میں نہیں ھوتا وہ ھمیں لڑنے کا ھنر سکھانے سے پہلے اپنے گھروں سے نکلنے کا ھنر ھی سیکھ لیں۔
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
یہ وقت ہے سچ جاننے کا اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے
جے یو آئی کی تحریک عوام کی آواز بن چکی ہے
مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#نکلو_مولانا_کے_سنگ
جمعیت ایک نظریہ ہے
اپنا لیجیٸے
جمعیت ایک دعوت ہے
پھیلا دیجیٸے
جمعیت ایک حقیقت ہے
تسلیم کیجیٸے
جمعیت ایک شناخت ہے
قبول کیجیٸے
جمعیت ایک صداقت ہے
یقین کیجیٸے
جمعیت ایک ضابطہ ہے
عمل کیجیٸے
جمعیت ایک تحریک ہے
ساتھ دیجیٸے
@MoulanaOfficial#نکلو_مولانا_کے_سنگ
ہماری کوئی کسی سے ذاتی لڑائی تو نہیں ہے، ان نظریات کے بنیاد پر ہم ایک موقف رکھتے ہیں کہ یہ حکومت جعلی ہے ایک طرف مسلم لیگ کی حکومت جعلی، پھر دوسری طرف صرف پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی، پھر خلاف شریعت اپنی اختیارات کو اور اسمبلی کو اور اکثریت کو استعمال کرنا پھر جس طرح وہ اللہ کے قانون سے بغاوت کر رہے ہیں، پھر ہمیں بحیثیت ایک پاکستانی شہری کے یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایسی حکومتوں کے خلاف عالم بغاوت بلند کر دے۔
یہ سب کچھ اس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ ہمارے حکمران امریکہ کے غلام ہیں، امریکہ اس وقت اسرائیل کے پشت پہ کھڑا ہے، انہوں نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا، ابھی ان کا فلسطینی مسلمانوں کے خون سے پیٹ نہیں بھرا کہ انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا، لبنان پہ وہ قتل و غارت گری کر رہے ہیں، اسلامی دنیا کو گھیرہ ہوا ہے پورا خلیج امتحان سے گزر رہا ہے اور ہماری حکومت یہ سب کچھ اس لئے کر رہی ہے کہ وہاں سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے اور یہاں کے مقامی مسائل پر ان کی توجہ مرکوز رہے۔ تو یہ بھی پبلک کے نظر میں بھی ہونا چاہیے کہ یہ سارے حالات اپنے قوم کے لئے اس لئے پیدا کیا جا رہے ہیں کہ اسرائیل جیسے سفاک، قاتل اور قابض ایک قوت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کو پس منظر میں لے جایا جا سکے اور اسلامی دنیا میں جو قتل و غارت گری ہو رہی ہے وہاں پر امریکہ کو ریلیف دی جا سکے۔ لہٰذا اس سیاست کو ہمیں سمجھنا ہوگا ان کے ناپاک ارادوں کو ہمیں سمجھنا ہوگا اور ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو مردان سے ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے ہم ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کے لئے آغاز کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ پھر ملک بھر میں جاری و ساری رہے گا ان شاءاللہ العزیز۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کےبعد میڈیا بریفنگ
#JUI #Maulana #Presser #GovtOfPakistan #US
ہم نے کچھ ریاستی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور جو عالمی صورتحال ہے، پھر اسلامی دنیا میں جو نئی صورتحال بنی ہے اور اس سے جو پاکستان متاثر ہو رہا ہے، ہر پاکستانی اپنے وطن کے لئے فکر مند ہے، ہمیں بتایا تو جائے کہ کیا مسئلہ ہے؟ اگر آپ سرعام ایک بات نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم عوام کے نمائندوں کو پارلیمنٹ کے اندر ان کیمرہ ہی بتا دیں، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والے ہمیں تو کہیں پاکستان پیچھے بھی نظر نہیں آرہا،
پاکستان کی دو سرحدیں ہیں ایک مغربی سرحد جو افغانستان سے ملتی ہے اور ایک مشرقی سرحد جو ہندوستان سے ملتی ہے ہم نے دونوں سرحدیں بند کرا دی ہیں اور ہماری تجارت نہ اب مغربی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے اور نہ مشرقی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ افغانستان کے پاس تجارت کے بہت سے راستے ہیں اور انہوں نے وسطی ایشیا ممالک کو رابطے میں بھی لے لیا ہے اور اپنے تاجروں سے کہہ دیا ہے کہ تجارت کا رخ بدل دو، ہندوستان پورے مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کر سکتا ہے، لیکن کیا زبردست قسم کے دماغ ہمیں اللہ نے عطاء کی ہے کہ دونوں سرحدیں اپنے اوپر بند کر دی اور اب کہہ رہے ہیں کہ
تیل کم خرچ کرو اس لیے کہ آبنائے ہرمز بند ہو گیا ہے، تیل کی ترسیلات بند ہو گئی ہیں، لیکن پاکستان تو اس بات کا دعوے دار ہے کہ پاکستانی جھنڈے کے نیچے دس جہاز آبنائے ہرمز کو عبور کر چکے ہیں، وہ کہاں چلے گئے ہیں؟ اگر وہ پاکستان آئے ہیں تو پھر پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟ اگر وہ پاکستان سے کسی دوسرے ممالک کی طرف گئے ہیں تو بتایا جائے کہ کراچی میں اترے ہیں، تیل وہاں سے اتارا گیا ہے، تیل دوسرے جہاز پر چڑھایا گیا ہے، دوسرے جہازوں کو یہاں کراچی میں پورٹ عطاء کیا گیا ہے، وہاں سے ان کو دوسرے ملکوں میں بھیجا گیا ہے، اس پر جو آمدن ہے وہ کیا ہے؟ یہ قوم کو کیوں نہیں بتایا جا رہا؟
اور ایک صاحب نے بڑے خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تو پل صراط بن گیا ہے اور ایک حافظ جی جو ہے پل صراط سے دس لوگوں کو گزار سکے گا ہمارے حافظ جی نے دس جہاز گزروا لئے ہیں، یہ قوم کے ساتھ مزاق کیا جا رہا ہے، سنجیدہ چہروں کے ساتھ قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنا اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#JUI #Maulana #Petrol
جمعیت علماء اسلام نے اُن تمام قوانین کی نشاندہی کی ہے جو گزشتہ ایک عشرے سے ہماری اسمبلیوں سے پاس کرائے جا رہے ہیں، اور موجودہ حکومت نے بھی اس تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
چاہے وہ گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون ہو، یا ٹرانس جینڈر کے حوالے سے، اور اسی طرح مسلم عائلی قوانین جو 1961 سے نافذ ہیں، اُن میں مزید خرابیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔ خلافِ شریعت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی لگائی گئی ہے اور اسے زنا بالجبر قرار دینا، یہ تو گویا اللہ کے احکامات کے ساتھ جنگ اور بغاوت کا آغاز ہے۔
ابھی اسلام آباد میں ایک نیا جج پیدا ہوا ہے اس نے ایک نیا فلسفہ پیش کیا ہے کہ بیوی کو شوہر کی کمائی میں پچاس فیصد کا حصہ دار قرار دینے کے لیے اسمبلی قانون سازی کرے۔
یہ تمام وہ قوانین ہیں جن کی ہم بار بار نشاندہی کر چکے ہیں کہ یہی قوانین برطانیہ میں انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہیں، اور آج ہم پاکستان میں اُن کی پیروی کر رہے ہیں۔
انگریز چلا گیا، لیکن اُس کی پیروی ہم سے نہیں گئی، اُس کی اطاعت ہم سے ختم نہیں ہوئی، اور ہم آج بھی اُن کے قوانین کو پاکستان کے عوام اور مسلمانوں پر مسلط کر رہے ہیں۔
وقف املاک کے حوالے سے جس قانون کی باتیں ہو رہی ہیں، اور جس طرح شریعت کے قوانین کو تبدیل کیا جا رہا ہے، بعینہٖ یہی قوانین انڈیا میں بھی انہی الفاظ کے ساتھ پاس ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کے قوانین جنوبی افریقہ جیسے غیر اسلامی ممالک میں بھی موجود ہیں، اور وہی قوانین ہماری اسمبلیوں میں لائے جا رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#JUI #Maulana #Parliament #legislation
حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے پوری قوم کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس اقدام نے عام آدمی کا سکون اور چین چھین لیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام پوری قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آنے والے جمعے کے روز ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بڑے احتجاجی مظاہرے کریں اور حکومت کے اس اقدام کو مسترد کریں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس بعد میڈیا بریفنگ
#JUI #Maulana #Petrol