Around 4,717 pilgrims from Jammu and Kashmir will perform Hajj this year, with the first batch departing from Srinagar on April 18. Flights will run till April 28, with separate accommodation for men and women and a ban on self-cooking. ✈️🕋
#Hajj2026@diprjk@airnewsalerts
Gujjar-Bakarwal community has given Jammu and Kashmir far more than the online abusers are willing to admit. For generations,they have shown courage in harshest terrains and stood firmly against terrorism. They are among pillars that have helped hold this region together through its most difficult decades.
My video is a clear stand against hate and humiliation being directed at the Gujjar-Bakarwal community on social media. The language being used today against this tribe does not merely insult a tribe; it assaults human dignity.
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدان کشت و ��وں ہی نہیں
حاصل زندگی خرد بھی ہے
حاصل زندگی جنوں ہی نہیں
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
This was the spirit of the school I studied in for 9 years ( St Joseph’s College, Nainital) and also the spirit of my 40 years in the Army. We were all soldiers who worked and fought together. Religion was our personal affair with the maker.
پیر نصیر الدین نصیرؒ
اُنکے اندازِ کرم اُن پہ وہ آنا دِل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دِل کا
نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دِل کا
عُمر گُزری ہے مگر درد نہ جانا دِل کا
کُچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دِل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پُرانا دِل کا
وہ مُحبت کی شُروعات، وہ بے تھاہ خُوشی
دیکھ کر اُنکو وہ پھولے نہ سمانا دِل کا
دِل لگی دِل کی لگی بن کے مِٹا دیتی ہے
روگ دُشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دِل کا
میرے پہلو میں نہیں آپکی مُٹھی میں نہیں
بے ٹھکانا ہے بُہت دِن سے ٹھکانہ دِل کا
وہ بھی اپنے نہ ہُوئے دِل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر ہے نہ آنا دِل کا
بے جھجک آ کے مِلو ہنس کے مِلاؤ آنکھیں
آؤ ہم تُم کو سِکھاتے ہیں مِلانا دِل کا
نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مِٹانا دِل کا
حسرتیں خاک ہُئیں مِٹ گئے ارماں سارے
لُٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانہ دِل کا
لے چلا ہے میرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو مُمکن ہی لوٹ کے آنا دِل کا
اُنکی محفل میں نصیرؔ اُنکے تبسُم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دِل کا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔