وردیوں والوں
ایجنسیوں والوں
ہمیں دھمکیاں مت بھیجاکرو
دھمکیوں سے ہم ڈرتے نہیں بگڑ��ے ہیں
اگرہم نے (ISB) آنے کا فیصلہ کیا تو تمہاری گولیاں ختم ہوجائینگی ہمارےسینے ختم نہیں ہونگے
شرافت سےرہوگے تو شرافت سےرہیں گے
بدمعاشی کروگے تو پھرہم سےبڑا بدمعاش کوئی نہیں
#اسرائیل_مردہ_باد_کانفرنس
مظلوموں کا ترجمان مولانا فضل الرحمن "
تمہارے ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کا قتل عام ہوا ہے تمہیں انسانیت ��ا کوئی حق حاصل نہیں ہے ،
#اسرائیل_مردہ_باد_کانفرنس
انور مقصود کے اغوا کی خبر تو جعلی تھی ❌️❌️
لیکن پاکستانی قوم کو کیا یہ علم ہے کہ ��ریبوں کے محسن جناب عبدالستار ایدھی صاحب کو عمران خان نے اپنے غرور و تکبر میں انکے بڑھاپے کے دور میں اغوا کی دھمکیاں دی تھیں کہ تم میرے ساتھ ملکر بینظیر حکومت کیوں نہیں گرا رہے؟
آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسط��نی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔
امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔
ضیا بھائی مولانا کے چھوٹے بھائی ہیں میرے ان سے بہت ابھی تعلقات ہیں کمال کے مقرر ہیں اور بلا کا خافظہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بہت نالج ہے جب کوئی معلومات چاہیے ہو انہی سے لیتا ہوں
غنڈا پور کی دھوتی ان سے بہتر کوئی نہی اتار سکتا اسے خوب شئیر کریں
وردیوں والوں
ایجنسیوں والوں
ہمیں دھمکیاں مت بھیجا کرو
دھمکیوں سے ہم ڈرتے نہیں بگڑتے ہیں
اگر ہم نے (اسلام آباد) آنے کا فیصلہ کیا تو تمہاری گولیاں ختم ہوجائینگی ہمارے سینے ختم نہیں ہونگے
شرافت سے رہوگے تو شرافت سے رہیں گے
بدمعاشی کروگے تو پھر ہم سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں
مولانا فضل الرحمن
اگر عسکری مصنوعات اور پراڈکٹس سے واقعی بائیکاٹ کرنا ہے تو مدارس میں جو مدارس عسکری پراڈکٹس ہیں تمام اہل علم،طلبہ اور مسلمان ان سے بائیکاٹ کریں،کیونکہ علوم اسلامیہ کے خلاف دشمن کی سازشوں اور مکروہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے معاون بن رہے ہیں
#اسرائیل_مردہ_باد_کانفرنس
آپ کہتے ہو کہ ہمارے پاس 18 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہے۔۔22لاکھ طلباء پڑھ رہے ہیں۔۔
کدھر ہے یہ سب 😁
ہم بھی تو پڑوس میں ہے ہمیں تو نظر نہیں آرہے ہیں 🥰
مولانا کا عسکری پراڈکٹ کو جواب
#اسرائیل_مردہ_باد_کانفرنس
ھاں جی کیا کہتی ھے خلق خدا اس کراؤڈ کے حوالے سے ؟
یہی قوم اسلام آباد کا رخ کرنے کے لیے تیار بیٹھی ھے اسوقت تو پورے پاکستان سے قافلے نکلیں گے
لہذا مدارسِ دینیہ کے معاملے میں دھوکے بازی سے کام نہ لیا جائے ۔
جو جمہوریت کو بہترین انتقام سے تعبیر کرتے ہیں وہ آج کرسی کے مفاد کیلئے عوام کے مفاد، مدارس کے مفاد، مذہبی مفاد کا گلہ گھونٹ کر اپنے قلم کر روک رہے ہیں۔ مولانا اسعد محمود
@thursday_times