Sentenced to prison on fabricated charges, the leader continues to inspire millions from his dark cell. We will never forget.
#ReleaseImranKhan#I_0678#CipherIsTruth
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
#Palestine🇵🇸 We express our deepest concern and outright condemnation over the attacks on the Global Sumud Flotilla. It is profoundly troubling for the international community—and in particular for the governments of the United States, the European Union, and the Middle East—that Israel is still being allowed to commit such crimes with complete impunity. #IHRF @gbsumudflotilla #BreakTheSiege #FreePalestine #SailToGaza #GlobalMovementToGaza #GlobalSumudFlotilla
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
جب سے جیل سپرنٹنڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اُس کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم پاکستان و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
#ShameOnGhafoorAnjum
قومی مجرم سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم
اتنا ٹارچر کرنے پر کیسے کوئی انسان راضی ہو سکتا ہے؟ گھر والے نہیں پوچھتے؟ اللہ کو جواب نہیں دینا؟ ساری عمر تو پیچھے عاصم منیر نہیں ہوگا!
#ShameOnGhafoorAnjum
عمران خان پاکستان کی امید ہے، اس کی رہائی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
قوم اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے!
عمران خان کو قید کرکے قوم کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
قوم جاگ چکی ہے
اب کوئی زنجیر نہیں روک سکتی
#عہد_وفا_تحریک_سے
اگر اپ عمران خان کے سپاہی ہیں تو اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کریں۔
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
بشری بی بی اپنے شوہر کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہیں اتنی تکلیفیں سہنے کے بعد بھی بشری بی بی کے لیے زیادہ سے زیادہ اواز اٹھائیں
#FreeImranKhanNow#freebushrabibi