میاں علی اشفاق میرا بچپن کا دوست اور ایک پروفیشنل وکیل ہے۔ دوستی اور تعلق کیسے نبھاتے ہیں وہ جانتا ہے۔ سکول و کالج کے زمانوں میں ہم ہجوم سے لڑے مگر ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مجھے یاد ہے ہم نے ایک دوسرے کے حصے کے زخم کھائے ہیں۔پھر میں صحافی اور وہ وکیل بن گیا۔ میرے کیسز میں اس نے اسٹیبلشمنٹ کے بدترین دباؤ کا سامنا کیا مگر میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ حتی کہ چند قیمتی دوستوں سے اپنے تعلقات بھی بگاڑ لیے اور کبھی اسکا تذکرہ بھی نہیں کیا۔ میں نےاسے زندگی میں صرف ایک بار اپنے لیے روتے دیکھا ہے۔ میرے سارے درد سمیٹنے کے عوض نہ اس نے کبھی کچھ مانگا نہ میں دیا۔
لیکن ایک بات جو ہم دونوں میں مشترک رہی وہ یہ کہ ہم نے ایک دوسرے کے کام میں کبھی کوئی مداخلت کی اور نہ ہی کبھی ایک دوسرے کو مشورہ دیا۔ اپنے اخت��اف کو کبھی دوستی میں نہیں آنے دیا۔اور یہی ہماری شاندار دوستی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔
میری خواہش کہ دنیا میں سب کو کم از کم ایک ایسا دوست ضرور ملے جو خود سے آئے اسے بلانا نہ پڑے۔ جسکے لیے آپ حد سے گزر سکتے ہوں۔ میں خوش قسمت ہوں۔ اللہ رب العزت کا شکر ہے۔