Dondurucu soğukta soyuldular, işkenceye ve aşağılamaya maruz kaldılar ve birçoğu ardından hapishanelere götürüldü bir çoğuda öldürüldü.
Bu video, Gazze'nin kuzeyindeki Filistinli sivillere olanların bir parçasıdır .
غزہ میں نسل کشی بند کرو، یہ جملہ کہنے کی دیر تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال تالیوں سے گونج اٹھا، گزشتہ سال یہ تاریخی تقریر کرنے والی وکیل صاحبہ سلووینیا کی پہلی خاتون صدر ناتاشا پیرک ہیں،انہوں نے کہا ہم ہولوکاسٹ نہ روک سکے، روانڈا کی نسل کشی نہ روک سکے، سریبرینیتسا کی نسل کشی نہ روک سکے، اب غزہ کی نسل کشی روکنا ہو گی، اب کوئی بہانہ نہیں بچا اس کے بعد ہال تھا اور بس تالیوں کی گونج، ناتاشا کہتی ہیں کہ وہ اسرائیل یا فلسطین کی طرف نہیں انسانیت اور بین الاقوامی قانون کی طرف ہیں، اس سال 81ویں اجلاس میں سلووینیا کی تقریر نئی حکومت کے وزیراعظم یانیز یانشا نے کی جنہوں نے نیتن یاہو سے نیویارک میں ملاقات بھی کی جس کے بعد ظاہر ہے پالیسی ذرا نرم ہوگئی،سلووینیا کا طرز حکومت تقریبا پاکستان جیسا ہے، اسی سال مئی جون میں انتخابات کے بعد نئی حکومت بن چکی ہے، ناتاشا ہیڈ آف سٹیٹ ہیں حکومت کی سربراہ نہیں، وہ دسمبر 2022 میں 5 سال کے لیے منتخب ہوئیں اور 2027 تک صدر رہیں گی اگر اس دوران حکومت کسی وجہ سے ان مواخذہ نہیں کرتی تو۔۔۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈورڈ مِلیبینڈ:
”بینجمن نیتن یاہو کی (اسرائیلی) حکومت نے غزہ اور مغربی کنارے کو جو تکلیف پہنچائی ہے، وہ دنیا کے ضمیر پر ایک داغ ہے۔ ہم ناانصافی اور تکالیف پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے۔“
”ہم مغربی کنارے میں آباد کار دہشتگردوں کی جانب سے نسلی بےدخلی، غزہ میں جنگی جرائم کے ثبوتوں اور فلسطین پر اسرائیل کے غیرقانونی قبضے کو بےنقاب کرتے ہیں۔ ہم ’دو ریاستی حل‘ کو تباہ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔“
”ہم غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائیں گے اور اُن کیلئے برطانوی مالیات، تعمیرات اور خدمات کی سپلائی لائنز کو روکیں گے۔“
”مشرقِ وسطیٰ میں امن کا واحد راستہ ’دو ریاستی حل‘ ہے۔ ایک محفوظ فلسطین اور ایک محفوظ اسرائیل، دونوں قوموں کیلئے آزادی، وقار اور حقِ خودارادیت کے ساتھ۔“
آپ کو یاد ہوگا جب مئی میں غزہ کی جانب انسانی امداد لیجانے والے 50 کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمودفلوٹیلا کو اسرائیلی فوجیوں نے بحیرہ روم میں روکا، راؤٹرز کے مطابق قافلہ بین الاقوامی واٹر میں تھا لیکن اس کے باوجود اسے اسرائیلی پورٹ پر لیجایا گیا، اب قافلے میں باقی دیگر ممالک اور پاکستان سمیت یورپ کے بھی متعدد شہری تھے، جس پر سپین سے تعلق رکھنے والی رکن یورپی پارلیمنٹ آرین مونٹیرو @IreneMontero نے یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کلاس @kajakallas کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یورپی شہریوں کو اغوا کیا، تم کیا کرتی اگر یہ ہی حرکت روس نے کی ہوتی جو بحیرہ روم کے وسط میں بیٹھا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیل ہے اس لیے تم بیٹھ کر بس مسکرا سکتی ہو، شرم کرو۔۔۔
یہ تقریر مئی 2026 کی ہے، آج کل پھر سوشل میڈیا پر گھوم رہی، سوچا دوستوں کو پس منظر بتا دوں
اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب شروع ہوتے ہی متعدد ممالک کے سفارتکاروں نے جب جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا تو صاحب نے سٹیج سے ان سب کو Moral Cowards یعنی اخلاقی طور پر بزدل قرار دیا جس پر آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے جوابا کہا کہ ہم نے سنا کہ سٹیج سے ہمیں اخلاقی بزدل کہا گیا، میرے لیے بزدل وہ ہیں جو امن کے لیے بیٹھنے سے مزاکرات سے انکار کرتے ہیں، وہ لیڈر بزدل ہیں جو لوگوں کو اشد ضرورت ہونے کے باوجود ان تک انسانی امداد نہیں پہنچنے دیتے، اخلاقی بزدل وہ ہیں جو مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔۔۔
ٹویوٹا فورچونر سے اتر کر موٹر سائیکل پر سوار ایک عام شہری پر ہاتھ اٹھانا بہادری نہیں، بزدلی کی علامت ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ شہری مدد کے لیے پولیس اہلکار کی طرف دیکھتا رہا، مگر پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنا رہا۔ آج مجھے اپنے اور اپنے نظام پر افسوس ہے کہ ہم ایک عام شہری کو تحفظ دینے میں بھی ناکام ہو رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اس واقعے میں ملوث شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اسے ایک مثال بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی طاقت کے زعم میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کرے۔ @MaryamNSharif
یورپین پارلیمنٹ کی سپین سے ممبر ایرینی مونٹیرو نے یورپین پارلیمنٹ کی صدر سے کہا کہا-
، اسرائیل پچھلے 24 گھنٹوں سےبحیرہ روم کے عین وسط میں بحری جہازوں اور یورپی شہریوں کو اغوا کر رہا ہے۔ آپ کو یہ مذاق لگ رہا ہے۔ کیا آپ ان کی حفاظت کے لیے کبھی کوئی قدم اٹھائیں گی؟ وہ یورپی شہری ہیں۔
اگر یہ ایران ہوتا، یا روس ہوتا جو بحیرہ روم کے وسط میں یورپی شہریوں کو اغوا کرنے آ کھڑا ہوتا، تو آپ کیا کرتیں؟ لیکن چونکہ یہ اسرائیل ہے، تو آپ مسکراتی ہیں اور دوسری طرف دیکھ لیتی ہیں
اپ کو شرم انی چاہیے۔
🔴 سابق امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کو ورجینیا میں ایک عوامی تقریب کے دوران احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔
• ایکٹوسٹ نے سوال کیا: “آدھے ملین بچوں کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، تمہیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟”
• بلنکن کی اہلیہ نے مداخلت کی: “براہِ کرم، بچوں کے سامنے…”
• ایکٹوسٹ نے جواب دیا: بچے؟ کیا آپ واقعی بچوں کی پرواہ کرتے ہیں، یا صرف اپنے بچوں کی فکر ہے؟
سی این این: “کیا آپ دوبارہ غزہ واپس جائیں گی؟”
امریکی نرس: “ایک دھڑکن میں ہی واپس چلی جاؤں گی، میرا دل غزہ میں ہے۔ فلسطینی عوام وہ سب سے عظیم لوگ ہیں جن سے میں کبھی ملی ہوں۔ اگر میرے اندر اُن کے حوصلے کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ہو، تو میں خوشی سے مر سکوں گی۔”
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی: "میں ایک عورت ہوں اور ساتھ ہی ایک ماں بھی۔میں معصوم بچوں کے قاتل کا ساتھ نہیں دے سکتی۔" بہادر خاتون نیتن یاہو کے سامنے گلے میں فلسطینی پرچم ڈال کر گھومتی رہیں
بین الاقوامی منافقت
اگر ایک روسی مزائل یوکرائن میں ہسپتال پر گرے، تو یورپی ممالک چیختے ہیں یہ پیوٹن کا وار کرائم ہے، اور اگر نیتن یاہو سینکڑوں مزائل ہسپتالوں، سکولوں اور گھروں پر مارے تو یہی یورپی ممالک کہتے ہیں یہ اسرائیل کا سیلف ڈیفنس ہے.
یہ کیسی منافقت ہے؟
ہسپانوی وزیر خارجہ 🔥
جب بات یوکرین کی آتی ہے تو جرمنی ایک اخلاقی ملک بن جاتا ہے۔ لیکن جب بات فلسطین کی ہو تو وہ تین بندروں کی طرح بن جاتا ہے۔ جرمنی ایک منافق اور قابلِ افسوس ریاست ہے۔
اٹلی کی خاتون وزیراعظم کا ایک اور دلیرانہ فیصلہ! 🇮🇹
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ سے نکال کر اٹلی کو شامل کرنے کی پیشکش پر جارجیا میلونی کا صاف انکار۔
"ہمیں خیرات میں نہیں، میرٹ پر جیت کر کھیلنا منظور ہے"۔ غیر منصفانہ فیصلوں کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہی لیڈرشپ ہے۔ #Italy #FIFA #WorldCup #Meloni
آج اگر ایمان اور ہادی جیل میں ہیں تو اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری ریاست ایک نہتی لڑکی سے ڈرتی ہے۔
پچھلے 70 دن سے ان کے جیل میں ہونے سے پاکستان کے اندر سینکٹروں خاندان چاہے وہ لاپتہ افراد کے لواحقین ہیں چاہے وہ بلاسفیمی گینگ کے شکار پڑے ملزمان ہیں چاہے وہ عام ریڑھی والے مزدور ہیں ان کے مقدمات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ۔انکے مقدمات لگائے ہی نہیں جارہے کیونکہ اگر ان کے مقدمہ لگ بھی گیا تو پھر سوال اٹھے گا کہ ایمان اور ہادی کہاں ہیں ؟؟
مطیع اللہ جان
@Matiullahjan919@AsadAToor@ShireenMazari1
ٹرمپ کو بات کرنے کی تمیز نہیں، اس قابل نہیں کہ اس کی بات کا جواب دوں۔ اس کا بیان شائستہ ہے نہ انسانی معیار کے مطابق ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون کا ٹرمپ کو کرارا جواب