غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
“Our father has lost 80% of his vision. He’d been complaining about his eye for months but was getting ignored. It’s only now been treated later then it should have been. It’s not in good condition. We have no visibility into why it’s occurred. They’ve given us no medical reports. Everything is covered up.” @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman Khan speak to @Channel4News.
#FocusOnImranKhan
سندھ طاس معاہدہ معطل ہے
ایکسپورٹس گر رہی ہیں
گروتھ ریٹ آدھا ہوچکا
سرمایہ کاری ختم ہورہی ہے
امارات سے تعلقات خراب
افغانستان سے تعلقات خراب
چین پیسے واپس مانگ رہا ہے
سعودی عرب کا معلوم نہیں کیا کرے
تیل کی قیمت تباہ کن سطح پر
کاشتکاروں کی فصلیں خراب
صنعتکاروں کی انڈسٹری بند
بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے
غربت کی شرح بڑھ رہی ہے
تین ہزار سیکیورٹی اہلکار مروا لیے ہیں
گرین انیشیٹو ریت کا ڈھیر بن چکا
ایس آئی ایف سی کا ذکر بھی نہیں بچا
جمہوریت ختم عدالتیں ختم
فوجی افسران کی تنخواہوں میں اضافہ
فوجی افسران کو پراپرٹی ٹیکس معاف
Our twisted idea of journalism is to go after victims, and those in prison, while cheering on and worshipping those in power. And worse, become a victim yourself when called out.
عاصم منیر ، عاصم ملک، ندیم انجم ، فیصل نصیر ، واجد عزیز نو پتا ہے کہ ٹرمپ گیا تے ایہہ سب چد جان گے۔
اسی لئی ایران دے بھیجے غریب پاکستانیاں لئی 8 جہاز امریکہ نو دے دتے ۔
ایہہ ناسور نے اس قوم دا
میرے بھائی کی آنکھ سیاست نہیں ہے یہ اس کی بینائی ہے اس کی زندگی ہے، ہر قیدی کا حق ہے اپنا علاج کرائے، خود یہ بیرون ملک بھاگتے ہیں علاج کے لیے اور میرا بھائی شفا انٹرنیشنل ہسپتال تک نہیں جا سکتا؟ علیمہ خان
#ImranKhanHealthEmergency
ہر دور میں ایک یزید ہو گا اوراس یزید کی بیعت نہ لینے والا، حسین علیہ السلام کی سنت پر چلنے والا حسینی ہو گا۔ ہر دور میں ظلم پر خاموش رہنے والے کوفی بھی ہوں گے۔۔۔!!
Earlier today, we were stopped at Chakri police post by the police. When we informed them that we intended to leave and proceed to Islamabad, they unlawfully blocked us and detained us there for the next four hours. We have now been released and are on our way to Islamabad.
Our family will, InshaAllah, hold a press conference in Banigala at 7:30 pm.
اے مایوس اور دل گرفتہ لوگو ! اے بجھے بجھے سے چہرو ! اے الجھے ہوئے انسانو ! کیا ہے؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے؟ کوئی سرا پکڑائی نہیں دے رہا؟ کوئی امید نظر نہیں آرہی؟ عمران خان سے روا رکھا جانے والا سلوک دل چیر رہا ہے؟ خود کو قید ، خود کو بے بس محسوس کرتے ہو؟
نہیں ! تم بے بس نہیں ہو۔ تم وہ مسافر ہو جس کی منزل کبھی نہیں آئے گی ۔ تم اس ٹرین پر سوار ہو جس کا آخری سٹاپ کوئی ہے نہیں۔ یہ سفر ہی تمہاری زندگی ہے۔ کتنے ہی سٹاپ گزار دیے کیوں بھول جاتے ہو؟ ریڈ لائن والا سٹاپ؟ نومئی کے خوف کا سٹاپ؟ آٹھ فروری کا سٹاپ؟ اتنی کامیابیاں تمہارے دامن میں اور پھر مایوس بھی تم؟
مایوس تو وہ ہیں جو قدم قدم ناکامیوں کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔ ہزار ارب ، سو ارب ، پچاس ارب ، پندرہ ارب ، بارہ ارب سب کدھر گئے؟ ملک کے پرزے پزرے کردیے ، آئین ہوا میں اڑا دیا انصاف کا نظام نالیوں میں بہا دیا لیکن پھر بھی ہر چیز برباد اور مایوس تم؟ فوجی فاونڈیشن ان کا بک گیا اور مایوس تم؟ اب انکی مایوسی کی حد وہ ہوچکی کہ اپنی سانسیں برقرار رکھنے کو غزہ جا کر مرنے مارنے کو تیار اور مایوس تم؟
جو کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے وہ جیتے گا ، جو دھنستا چلا جا رہا ہے وہ ہارے گا۔ ہمارا سفر ہی ہماری کامیابی ہے اور انکے لیے تو ایک سوال ، ایک اعتراض ہی ناکامی ، چہ جائیکہ وہ نفرت کی حدت سے ابل رہے ہیں۔ حوصلہ رکھو ! وہ جیت نہیں سکتے ، ہم ہار نہیں سکتے۔
We categorically REJECT all the medical reports circulating in the media regarding Imran Khan. Our doctor, Dr. Asim Yousif spoke to the doctors last night, who explained the procedure and treatment carried out, but as Dr. Asim Yousuf stated in his video, there is NO way for us to verify any of this.
Now we are even more concerned and worried and our demand remains unchanged: Imran Khan must be urgently transferred to a proper medical facility (Shifa International Hospital Islamabad) where he shall be examined by qualified specialists under Dr. Asim Yousuf’s supervision and in the presence of his family.
Tomorrow, we will be at Adiala Jail at 1:30pm, and we expect the authorities to allow us to meet Imran Khan as this is his legal right. The family will also hold a press conference outside Adiala at 4pm after our meeting with Imran Khan.
تحریک انصاف کی قیادت کو اندازہ ہی نہیں کہ کتنا بڑا طوفان انکو نگلنے کو تیار ہے۔ دو سال کی نااہلی اور کمزوری کا سارا حساب ہوگا۔
اگر طوفان کی شدت کا پوچھنا ہے تو اپنے اپنے کرنل سے پوچھ لیں۔
We have been waiting since yesterday for the written order from the Chief Justice of Pakistan. Nearly 24 hours have passed, and we still have not received it. At the same time, the Chief Justice set a deadline of 16th February for Imran Khan to receive immediate treatment from specialist doctors. Our position is clear and unequivocal, Imran Khan must be examined and treated by specialists, in the presence of his personal doctors, at Shifa International.
مریم ڈائن تے کنجر نواز شریف دی زاتی ملازم فوج۔
اونا دی خواہش وچ قوم دے عظیم لیڈر نال جو سلوک کر رہے اس لئی ساری قوم بلوچاں نال کھڑی ہونی چاھیدی کہ مارو اینا مادوچوداں نو چن چن کے مارو۔
اربوں روپئیہ سالانہ قوم تو اکٹھا کر کے قوم تے لان والے نو صہیونی فوج تے صہیونی ایجنسی نے کرپشن دے نام تے اغوا کیتا،
ڈونلڈ لو دی ٹٹی کھان والے شہدا دی وی عظمت تے اوہی ٹٹی جو اس ملک دے اتے ہی بندوق تانے کھڑے نے اور ایہہ عوام ہے کہ ٹس تو مس نہی ہو رہی۔
Imran Khan, the greatest son of the soil. The rabid and ugly dictator Asim Munir, who is keeping him in a cage, will be long gone. Imran Khan and his legacy will remain.
اس وقت پاکستان میں موجود سب سے بڑا دہشت گرد، جس کی دہشت نے نہ بچوں کو بخشا ہے، نہ ماؤں کو، نہ بیٹیوں کو، نہ بہنوں کو، نہ بزرگوں کو، نہ زِلے شاہ جیسے معصوم سے انسان کو۔