آج ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر وہی ہوا جو ہر منگل اور جمعرات کو ہوتا ہے ۔ آج بھی عدالت کے واضح احکامات موجود تھے کہ لسٹ میں شامل سبین یونس، زبیر احمد قریشی، محمد یار دمڑ ، زاہد خان، رمضان خان اور وحید خان کو عمران خان صاحب سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ مگر جیل انتظامیہ نے عدالتی احکامات موصول ہونے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دی۔
یہ عمل نہ صرف عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی نفی ہے۔ملاقات ہر قیدی کا بنیادی حق ہے ایسے ہتھکنڈے آزمانا کسی نظریے کو شکست نہیں دے سکتا۔ عمران خان کے ساتھی ہر مشکل کے باوجود ثابت قدم ہیں اور حق و انصاف کی آواز بلند کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ۔
اج اڈیالہ جیل میں ساتھیوں کی ملاقات تھی ملاقات نہیں کروائی گئی پھر بھی دیوانے نکلیں گے پروانے نکلیں گے خان کے چاہنے والے نکلے گے۔۔۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
"ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ ٹیسٹ رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے اور اہلخانہ کو مکمل لاعلم رکھا گیا ہے۔ اگر فوری طور پر طبی تشخیص نہ ہوئی تو دوسری آنکھ کے ضائع ہونے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ یہ طبی غفلت کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔"
آپ اپنی ضرورت کے مطابق ان میں سے جو انداز چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
ہم اپنی افواج اور اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو آئین کا حلف آپ نے اٹھایا ہے اس کا آپ خیال رکھیں، جو ہم نے اٹھایا ہے ہم اس کا خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک، ان کا حلف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھیں، پاکستان بچ جائے گا۔
کل جمعرات عمران خان سے رفقا کی ملاقات کا دن۔
ملاقات کی فہرست میں محمد یار ڈمرا، زبیر احمد قریشی، رمضان خان، زاہد محمود، وحید خان اور سبین یونس شامل ہیں۔
فہرست میں شامل تمام افراد کل اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔
#ReleaseImranKhan
پختونخوا اسمبلی کے ارکان کو ملنے والی حیران کن مراعات پہ خود ان کے اپنے لوگ چیخ اٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی اور دوسری پارٹیوں میں کوئی فرق نہ رہے تو کیوں انہیں ترجیح دی جائےگی۔ غلطی سے نہیں غلطی پر اصرار سے تباہی آتی ہے۔ فیصلہ واپس لیں اور قوم سے معافی مانگیں۔
ٹائم نوٹ کر لیں ہم تین سے پہلے پہنچ گئے ہیں اپنی ملاقات کے لئیے پھر نیوز چینل جھوٹ چلا دیتے ہیں کہ وقت پر آئے نہیں تھے، اے آر وائے خاص طور پر۔
ڈاکٹر عظمی خان۔
مجھے زمانے کی گردش سے ڈر نہیں لگتا
میں ارض عشق کے شہر کربلا میں رھتا ھوں
بھٹک رھے ھیں یزیدی فنا کے جنگل میں
حسین والا ھوں شہر بقا میں رھتا ھوں
Today Adyala
یاسمین راشد باہر آ جائیں تو وہ قیادت کے سب مردوں پر بھاری ہیں، وہ بھرپور مزاحمت بھی کر سکتی ہیں اور عمران خان کو رہا بھی کروا سکتی ہیں ، باقی پنجاب بس باتوں تک ہی ٹھہر گیا ، افسوس۔
غداری کا بیانیہ ان نعروں میں دم توڑ گیا۔ لوگ محبت اور بھائی چارے سے رہنا چاہتے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کی گھٹیا پالیسی ایک بار پھر غداری کے سرٹیفکیٹس بانٹ رہی ہے قوم میں جان بوجھ کر تقسیم پیدا کر رہی ہے۔ کشمیر زندہ باد
پاکستان زندہ باد
پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں بہت سے حکمران آئے، مگر عمران خان نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات کیے جنہیں آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید مخالفت، رکاوٹوں اور مشکل حالات کے باوجود کروڑوں پاکستانی انہیں امید، خودداری، انصاف اور حقیقی تبدیلی کی ایک مضبوط علامت تصور کرتے ہیں۔
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے