#poetrylovers
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
ہر درد محبت سے الجھا ہے غم ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا، جب یاد تیری آئی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی۔۔۔
صوفی تبسم
سنا ھے بہت بارشیں ہیں تمہارے شہر میں
بس اِتنا خیال رکھنا
زیادہ بھیگنا مت
کہ اگر غلط فہمیاں دھل گئیں
تو شاید میری کمی ہر بوند کے ساتھ
تمہارے دل میں اُترتی چلی جائے
اور پھر بارش ختم ھونے کے بعد بھی
میری یادوں کا موسم کبھی ختم نہ ھو
دل کے کسی کونے میں مدہم سی روشنی
دیتا رھےـ
افسوس ھوا کہ برادر اسلامی ملک ایران اور امریکہ کے معاملات طے نہیں ھوئے۔ خوشی اس بات کی ھے کہ پابندیوں سے بندھا ھوا اور ایک ترقی پذیر سا ملک دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو ہفتوں ناکوں چنے چبوا کر ان کے برابر صلح کی بات چیت کرنے بیٹھا۔ مجھے فخر ھے کہ پاکستان نے ان دونوں ممالک کے بیچ
اس نشست کی راہیں ہموار کیں، اسلام آباد میں بین الاقوامی سطح کے انتظامات مہیا کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے بہترین امیج بنایا اور ایک امن جو ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے اپنا لوہا منواتے ھوئے ایک نئی جنگ عظیم رکوائی. مجھے پورا یقین ھے
@urdu_bazm مجھے کیوں عزیز تر ھے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ھے تو کیوں ھے
تجھے کھو کے سوچتا ھوں مرے دامن طلب میں
کوئی خواب ھے تو کیوں ھے کوئی آس ھے تو کیوں ھے
ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبار ساجد
یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ھے تو کیوں ھے
اعتبار ساجد
#اردو
اس قدررات گئےکون ملاقاتی ہے
ایسا لگتا ہےکوئی یاد چلی آتی ہے
میں نے چاہانہ کہااور نہ کبھی خواہش کی
تیرے کُوچے میں تری آب وہوالاتی ہے
یہ ستارے تو یونہی ساتھ چلے آئے ہیں
ورنہ یہ چانداکیلا مرا باراتی ہے
میں تو دشمن کے بچھڑنے پہ بھی رویا ہوں بہت
توتو پھر یار ہےا��ر یاربھی جذباتی ہے
خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رھا، نہ پری رھی
نہ تو تُو رھا، نہ تو میں رھا، جو رھی سو بے خبری رھی
شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برھنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رھی، نہ جنوں کی پردہ دری رھی
چلی سمتِ غیب سے اک ھوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ھری رھی
یار سارے ہی بڑے دل کے ملے ہیں مجھ کو
جب بھی دیتے ہیں مجھے زخم بڑا دیتے ہیں!
ہائے وہ لوگ،ترے ہجر کے مارے ہوئے لوگ
اپنے ہونے کو نہ ہونے کی سزا دیتے ہیں
ہم ہیں غربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
لوگ جب تخت پہ آتے ہیں،بُھلا دیتے ہیں
#رات_گئے_ہم_اور_آپ_ساتھ
جہاں پہ چھوڑ گئے تھے ، وہیں پڑے ہوئے ہیں
کہیں گماں ، کہیں پر یقیں پڑے ہوئے ہیں
تمھارے بھیجے ہوئے پھول کب کے سوکھ گئے
کسی کتاب میں شاید کہیں پڑے ہوئے ہیں
سلیم نتکانی