ہم غزہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آج رات ہم پر حملہ کیا جائے۔ میرا موبائل پہلے ہی اسرائیل نے جام کر دیا ہے لہذا اب اس ناکارہ فون کو میں سمندر برد کرتا ہوں۔
آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غزہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر لا متناہی پر امن دھرنا دیں کیونکہ امریکہ اس نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔
بذریعہ اکاؤنٹ ایڈمن
#SupportGaza
#NationRejectsTrumpDeal
Last night, several plainclothes armed men stormed my residence in Lahore. They brutally assaulted our staff, harassed my daughter-in-law, and forcibly took away my son, Shahrez Khan, in front of his two young daughters.
For over three years, this fascist regime in Pakistan has unleashed a reign of terror, raiding thousands of homes, abducting and harassing countless innocent civilians. Yet, despite their brutality, they have failed to break Imran Khan.
Our children understand that the struggle Imran Khan is leading is far greater than any one of us. He has set a remarkable standard of resilience against tyranny. These cowardly actions only expose the fear and desperation of the oppressors.
We place our trust in Allah alone, seeking His protection and justice.
#گھبرانا_نہیں_ہے
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
The strongest people aren't those who show strength before others, but those who win battles we know nothing about through quiet prayer and unwavering faith.
ابھی ابھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے واشنگٹن سے رابطہ کرکے عافیہ رہائی مہم کی صورتحال سے آگاہ کیا،آئندہ 30 گھنٹے بہت اہم ہیں، ایک چھوٹی سی امید پیدا ہوئی ہے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی،دعا بھی کیجئے ،سوشل میڈیا پر آواز بھی اٹھایئے،اور پیٹیشن بھی دستخط کیجئے، ہیں آخری لمحے تک اللہ پر توکل کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششوں کو جاری رکھنا ہے۔
@Aafiamovement@AltafShakoor1@FowziaSiddiqui@CliveSSmith
“The people of Pakistan will have to come out against the occupation imposed by the Extension Mafia. Otherwise, our future generations will be forced to live like insects.
The country is under the control of an occupation and extension mafia, who are using every dirty tactic to extend their hold on power, which neither the constitution, nor the law, or even political ethics and morality, allows.
The 26th Constitutional Amendment and the other laws enacted for extensions are part of this scheme. Both the judiciary and parliament are being trampled upon, as well as the public.
The extensions that have been granted are a massacre of democracy, the rule of law, and the rights of the people. Forcing extensions and taking over does not strengthen institutions; it makes them weaker.
The nation must stand up for itself, get organized, and peacefully protest, because until there is a ‘Revolution of Justice’ in the country, democracy cannot prevail. To bring about this revolution of justice, everyone must come forward.
This is not an issue of any one person or party; it is a matter of Pakistan’s survival and integrity.”
Former Prime Minister Imran Khan in his conversation with the media and his lawyers in Adiala Jail ( 5th November 2024)
As the chaos & repression increases, I want all our people to firmly demand the following, on all media platforms, in Parliament & provincial legislatures and also through street protests:
Rule of Law,
Release of all political prisoners &
Return of stolen mandate.
We will not step back from our legitimate demands!
We are outraged by the shocking visuals of Advocate Intazar Panjutha, who appears visibly very weak.
His statements of being victim of violence during abduction reflect the alarming state of human rights abuses happening under the watch of establishment and government.
Those responsible for this cruel and unlawful treatment must face justice. We are hopeful that the court will now provide justice to Intazar, one cannot stay silent and watch this rampant abuse of human rights.
مراد سعید کا اپنے ٹویٹر اکاونٹ میں کارکناں کو پیغام
جیسے کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ صاحب نے اپنے بیان میں بتایا ہے، عمران خان کی ہدایت پر احتجاجی تحریک کا مکمل لائحہ عمل پارٹی دے گی۔ میں عموماً جلسوں، ریلیز یا احتجاج کی تیاریوں کی ہدایات اور پراگریس صرف متعلقہ ٹیمز سے ہی شئیر کرتا ہوں لیکن آپ کی دلچسپی اور اپنے لیڈر کے حوالے سے فکرمندی کے باعث ایک طرح سے اپ ڈیٹ دے رہا ہوں؛
اپنے حلقے اور آئی ایس ایف کی سابقہ قیادت اور ممبران سے لے کر، ملک بھر میں جو ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جن کارکنان نے امن تحریک، انتخابی مہم اور جلسوں کے انعقاد میں معاونت کی۔ بنی گالہ اور زمان پارک اور خان صاحب کی عدالتی پیشیوں کے موقع پر ڈیوٹیز سرانجام دیں اور رجیم چینج آپریشن کے بعد سے عوام کو موبلائیز کرتے رہے ان سب کو میری جانب سے ناصرف ہدایات بھیج دی گئی ہیں بلکہ متعلقہ ذمہ داران کے ساتھ مل کر وہ تیاری بھی شروع کرچکے ہیں۔
آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ کو بھی موبلائزیشن کا پلان دے دیا گیا ہے۔ امید ہے گذشتہ چند ماہ میں خالد خورشید کی سرپرستی اور مرکزی صدر مینا خان آفریدی کی قیادت میں یونین کونسل اور ویلج کونسل لیول پر تنظیم سازی پر جو فوکس رکھا گیا تھا وہ اس مرحلے پر مددگار ثابت ہوگا۔
دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونےوالے شہریوں کے لواحقین، بم دھماکوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آکر جن افراد کے گھر اور کاروبار تباہ ہوئے، جن کے پیارے لاپتہ ہوئے، جن پر تشدد ہوا اور بے گناہ جیلوں میں ڈالے گئے ایسے تمام افراد جن پر ریاست کے نام پر ناجائز طاقت کے حصول اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والے ٹولے کی جانب سے ذہنی، جسمانی تشدد ہوا یا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ان کو بھی فائنل کال پر شرکت کرنے کی دعوت دی جائیگی۔ اس کی ذمہ داری نوجوانوں کو سونپ دی گئی ہے۔
نوجوان قیادت، تحریک کے کارکنان اور عمران خان کے جانثاران چاہے تنظیم کا حصہ نہ بھی ہوں وہ ابھی سے فائنل کال کے لیے اپنے قافلے تیار کریں۔ #ReleaseImranKhan کے ساتھ اپنی تیاریوں سے دوستوُ کو فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ٹوئٹر پر آگاہ کریں تاکہ دیگر ساتھیوں کوموٹیویشن ملے اور فوکس عمران خان کی رہائی پر رہے۔
کسی بھی لایعنی بحث میں الجھنے کے بجائےتمام کارکنان ان نکات پر فوکس رہیں اور ان کے مثبت جواب یقینی بنائیں؛
آپ نے عمران خان کا پیغام کتنے لوگوں تک پہنچایا؟
کیا آپ نے اپنے دوستوں، عزیز اقارب اور محلے میں موبلائزیشن کا عمل شروع کیا ہے؟
اگر آپ کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ نہیں ہے تو کیا دوست مل کر ڈی چوک کا پلان ترتیب دے رہے ہیں یا آپ کے حلقے کے امیدوار یا مقامی تنظیم کے ساتھ شرکت کے لیے آئیں گے؟
کیا سوشل میڈیا کے ہمارے جو ایکٹویسٹ بازاروں میں مہم چلارہے تھے، آپ نے اپنی مہم آرگنائیز کرنا شروع کی اور لوگوں کے کوائف جمع کرنے لگے ہیں؟ یاد رہے اس ڈیٹا کی بنیاد پرآپ نے ٹیمیں بھی تشکیل دینی ہیں اس لیے یہ عمل جلد از جلد شروع ہوجانا چاہئے۔
اور ہمارے جن ساتھیوں کے لیے گراؤنڈ پر ایکٹیو ہونا ممکن نہیں کیا آپ عمران خان کی رہائی پر فوکس ہیں اور آپ کی آج کی ایکٹویزم عمران خان کی رہائی کی جانب پراگریس میں شمار کی جاسکتی ہے؟
یاد رہے اگلے دو مہینے اور خصوصاً نومبر بہت اہم ہے۔ اس بات کو میرے گذشتہ ایک سال کے بیانات اور خصوصاً عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے حالیہ بیانات کے تناظر میں دیکھیں اور اپنا مکمل فوکس عمران خان کی رہائی کے لیے فائنل کال کی تیاری پر مرکوز رکھیں۔ اسے اپنے لیڈر کی زندگی اور اپنے ملک میں آئین اور قانون کی عملداری کے لیے آخری معرکہ سمجھیں۔
شرمناک قانون بنایا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 25 کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں؟
صرف اس لیئے کہ 26 ویں آیئنی ترمیم کے باوجود خوف ہے کہ کہیں انصاف نا ہو جائے اور جھوٹا مینڈیٹ دھڑام سے زمین بوس نا ہو جائے۔ مندرجہ زیل موازنہ پر غور فرمایئے۔
بھارت کی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 34 ہے
پاکستان میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 17 ہے
یعنی پاکستان سے دو گنی زیادہ ججوں کی تعداد ہے جب کہ آبادی کے تناسب سے بھارت ہم سے 6 گنا بڑا ملک ہے۔ شرارت ہے کے نہیں؟
اب امریکہ سے بھی مقابلہ کر لیں۔ امریکہ میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد صرف 9 ہے جب کہ اُنکی آبادی پاکستان سے 4۔1 گنا زیادہ ہے مگر سپریم کورٹ کے جج ہم سے آدھے ہیں۔ مکٗاری ہے کے نہیں؟
'پاکستان میں انصاف' کی رینکنگ دنیا کے 139 ممالک میں 130 پر ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ صرف اِس وجہ سے کہ سارے قوانین اس لیئے بنائے جارہے ہیں کہ عدالت پر قبضہ کرلیں تاکہ ظلم اور بربریت کا نظام چلتا رہے اور ملک کی پسندیدہ سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کو زبردستی اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اور پاکستان کے 90٪ لوگوں کے عظیم قائد
@ImranKhanPTI
کو پابند سلاسل رکھیں۔
یہ ہو نہیں سکتا۔ یہ ظلم چل نہیں سکتا۔ یہ رات ختم ہو رہی ہے اور امید کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ لوٹ لو مگر جو ملک سے بھاگے گا ذلٗت اُسکا مقدٗر ہے۔ یہ لوح ازل میں لکھا ہے تم اِسکو بدل نہیں سکتے۔
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
انشاللہ
نئے چیف جسٹس کے لیے سب سے بڑا امتحان
یہی ایک مسئلہ ہے جہاں سے پاکستان کا ہر مسئلہ جنم لیتا ہے۔
پوری قوم ابھی تک یہیں پھنسی ہوئی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے بغیر یہاں سے آگے بڑھنا مشکل ہے۔