نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو ( دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے۔“
(بخاری،۶۴۳۶)
🔴 سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ:
17 اپریل، فلسطینی اسیران کے دن کے موقع پر، میں دنیا بھر سے اپیل کرتی ہوں کہ اسرائیل کے نئے سزائے موت کے قانون اور جاری نسل کشی کے خلاف بائیکاٹ اور پابندیوں کے لیے منظم ہوں۔
فلسطینی داعی شیخ جھ!د حلس لکھتے ہیں کہ
"میں ابھی غزہ کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ کچھ خواتین اور بچوں کو لفٹ دینے کے لیے رکا۔ ان کے بیٹھتے ہی چند لمحوں بعد پیچھے کھڑی پولیس گاڑی پر بمباری ہوگئی اور اس میں موجود تمام لوگ شہید ہوگئے۔
سمجھ نہیں آ رہا کہ ان نوجوانوں کی موت پر++
علاج کروانے سے انکار کر رہا تھا؛ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ پل بھر میں اس کا اکلوتا سہارا کیسے چھن گیا۔
اگر آپ پوچھیں کہ غم کہاں رہتا ہے؟ تو غم کا گھر اب غزہ ہے، جو یہاں کی ٹوٹی سڑکوں اور تباہ حال گھروں میں ڈیرے ڈالے بیٹھا ہے۔"
حسبنا اللہ و نعم الوكيل
فلسطینی صحافی اسلام بدر:
"میں نے جو دیکھا اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔
ایک باپ اپنے ننھے بیٹے 'یحییٰ' کو کندھے پر بٹھائے شادی میں جا رہا تھا کہ قریب ہی بمباری ہوگئی۔ بچہ وہیں دم توڑ گیا اور باپ زخمی ہو گیا۔ ہسپتال میں وہ زخمی باپ اپنے خون سے لت پت جسم کے باوجود++
ہم سب پر یہ فرض ہے کہ عمران خان صاحب کی بہنوں کی عزت، احترام اور توقیر کا ہر موقع پر خیال رکھیں۔ ان کا غصہ اور سخت لہجہ اپنے بھائی کی وجہ سے ہے اور دنیا کی ہر بہن اپنے بھائی کے لیے ایسا ہی درد رکھتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ صاحب بھی ایک نفیس انسان ہیں جن کا دل اور نیت صاف ہے۔ اسی طرح علامہ راجہ ناصر عباس صاحب اور محمود اچکزئی صاحب کو عمران خان صاحب نے چنا ہے۔ جن سے ہم عمران خان صاحب کی ہدایت پر مشورہ بھی لینگے اور ان کی رائے کی قدر بھی کرینگے۔ ان کا سیاسی تجربہ زیادہ ہے جس سے ہم نے فائدہ لینا ہے۔ ہم سیاسی فہم کے ساتھ ، عمران خان صاحب کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
یہ ایک حقیقیت ہے کہ پچھلے دو سال میں ہم بطور پارٹی نا مزاحمت میں اور نا مصلحت سے انصاف حاصل کر سکے ہیں- کیونکہ ہمارے سیاسی دشمن اخلاقی اور جمہوری پستی کے انتہائی نیچے درجے پر پہنچ چُکے ہیں اور کسی بھی آئین، قانون، عدالتوں کو یا اخلاقی و سیاسی اصولوں کو نہیں مانتے-
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ منظم تنظیم کے بغیر کوئی بھی بڑی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہم نے عمران خان کی پارٹی، جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اُس پر صرف تنقید کی بجائے، باہمی صلاح مشورے اور اتحاد کے ساتھ اُس کو منظم کر کے آگے بڑھنا ہے۔
کوئی بھی معرکہ صرف جوش کی بجائے ہوش سے جیتا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی دشمن ہمیشہ ہمارے چھوٹی سی غلطی کے انتظار میں ہوتے ہیں اور اُس غلطی کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر گولی بھی چلواتے ہیں، ہمارے کارکنوں کو شہید بھی کرتے ہیں، ہماری پارٹی کو بین کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، انتخابی نشان کے ساتھ دھاندلی سے اور عدالت سے ہماری سیٹیں بھی چھین لیتے ہیں اور عمران خان صاحب اور ان کے اہلیہ بشریٰ بی بی صاحبہ پر حد درجے کا ظلم بھی برپا کر دیتے ہیں۔ہم مُسلّح جتھے نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں۔ عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہم بندوق اور ڈنڈے کا مقابلہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پُرامن طریقے سے کرتے رہیں گے۔
مردان کا جلسہ بھی عمران خان صاحب کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا انشاء اللّٰہ۔ تمام لوگوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے!!
بی بی سی نے غزہ میں 160 سے زائد فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر سر میں گولی مارنے کے شواہد جمع کیے ہیں۔ انہوں نے بدترین نتیجہ اخذ کیا:
“اسرائیلی یہودی تفریح کے لیے بچوں کا شکار کر رہے ہیں۔
یااللہ رحم
اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل نمائندے ریاض مسعود اسرائیل کی بربریت اور مظالم بیان کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو قائم نہ رکھ سکے اور رو پڑے.
ایک لیڈی ڈاکٹر کے 10 میں سے 9 بچے شہید کر دئے گئے، ان کی جلی ہوئی لاشیں اس کے پاس ہسپتال پہنچیں.
بریکنگ نیوز
برطانوی میڈیا چینل BBC نے فلسطین میں 160 ایسے کیسز کی وڈیو شہادتیں اکٹھی کی ہیں جس میں اسرائیلی فوج IDF کے سپاہی شوقیہ فلسطینی بچوں کے سروں میں گولیاں مارتے ہیں.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کے سر میں گولی مار کر انہیں قتل کرنا اسرائیلی فوجیوں کا مشغلہ for fun بن چکا ہے.
پاکستان دنیا کی سالسی کرانے میں مصروف ہے اور اس کا اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا ہو چکی ہے
ایک گورے کی رپورٹ
غزہ امن معاہدہ فراڈ ہے ،امن معاہدے کی آڑ میں جینوسائیڈ، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری، ان کے قیدیوں کو قتل کرنے کی قانون سازی اور مغربی کنارے کو سٹیٹ پراپرٹی قرار دینے کی اقدامات جاری رہے اور معاہدے کے ضامن ممالک ،عالم اسلام اور عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
میرے X اکاؤنٹ کو Grok کے مطابق “تھروٹل” کر دیا گیا ہے، مبینہ طور پر اس معاہدے کے بعد جو ایلون مسک اور پاکستانی حکومت کے درمیان X پر پابندی ختم کرنے کے لیے ہوا تھا۔ اس لیے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور ان تمام لوگوں سے درخواست ہے جو یہ ٹویٹ پڑھ سکتے ہیں (پاکستان میں موجود بہت سے لوگوں کے برعکس) کہ براہِ کرم اسے ری ٹویٹ کریں اور اس پیغام کو پھیلانے میں مدد دیں۔ جمائما
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
پنجاب حکومت کا طیارہ : چیئرمین سینیٹ کی کروڑوں کی گاڑی؛ اگر حکمران مٹی کے تیل میں ایک ماہ کے دوران 170روپے فی لیٹر اضافہ کرسکتے ہیں تو عوام کا بھی یہ حق ہے کہ حکمرانوں سے پوچھ سکیں کہ عوامی پیسے سے خریدا گیا طیارہ ملک سےباہر کیوں گیا؟ اس پر کتنا خرچہ آیا؟کروڑوں کی گاڑی کیوں لی؟
امریکہ اور اسرائیلی ریجیمز اور ان کے سپورٹر یورپی یونین اور ہندوتوا کا انڈین رجیم اس وقت اسلامو فوبیا کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔
اسلامو فوبیا کیا ہے؟؟؟مسلمانوں کے خلاف ان کے مذہب کی وجہ سے مجرمانہ اعمال میں ملوث ہونا،
مسلمانوں کے خلاف خوف، تعصب اور نفرت جو مسلمانوں کے بارے میں دھمکی، ہراسانی، بدسلوکی، اکسانے اور ڈرانے دھمکانے کے ذریعے اشتعال، دشمنی اور عدم برداشت کو جنم دے — چاہے یہ عمل آن لائن دنیا میں ہو یا حقیقی (آف لائن) دنیا میں۔
اسلام/ مسلمانوں کو فطری طور پر پُرتشدد، اجنبی، اور موجودہ معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکنے والا مذہب/ گروہ قرار دینا۔
اقوام متحدہ اسلامو فوبیا کیخلاف حقیقی اقدامات اٹھائے۔
حرمت قرآن، ناموس رسالت، مسجد، مدرسہ،،اذان،صلوہ حجاب، داڑھی،، اور دیگر شعائر اسلام کو نشانہ بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے۔انشاءاللہ۔
پاکستان رائٹس موومنٹ