یہ پاکستان کو ڈبونے جا رہے ہیں ، ہم اپیل کرتے ہیں سول سوسائٹی سے سب سیاسی جماعتوں سے کہ اگر آپ کو پاکستان عزیز ہے تو اٹھ کھڑے ہوں اور جدوجہد کا آغاز کریں۔ محمود خان اچکزئی کی پریس کانفرنس
عمران خان، بشریٰ بی بی، خان صاحب کی بہنیں اور تمام بے گناہ سیاسی اسیران کی قید صرف چند افراد کی آزمائش نہیں، یہ انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا سوال ہے۔
آوازیں قید کی جا سکتی ہیں، نظریات نہیں!
#ReleaseImranKhan#FreeAllPoliticalPrisoners
کچھ دوست سوال اٹھا رہے ہیں کہ سہیل آفریدی رات کو سی ایم ہاؤس کیوں گئے، نا جاتے تو بچ جاتے۔ ان میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو سہیل آفریدی کی لاہور کی سٹریٹ موومنٹ پر بھی یہی سوال اٹھاتے رہے کہ “گرفتار ہونے لاہور آیا ہے”
پھر جب خان صاحب کی بہنوں کو ریسکیو کرنے لاہور کی طرف نکلا، تو رات لاہور گزارنے کا ارادہ کیا، تب بھی سوال اٹھا کے شاید گرفتار ہونے آیا۔ کچھ مخصوس وٹس ایپ گروپوں میں تو کارکنوں کو فیصلہ سنا دیا گیا کہ یہ تو آیا ہی گرفتار ہونے ہے۔ پر ایسا نہ ہوا۔
میں ماضی کے دور کا زکر کروں تو 2014 کا اسلام آباد دھرنا ڈھائی دن بعد جب پہنچا تو عمران خان صاحب اپنے گھر اکیلے سونے چلے گئے، ہماری حکومت نہیں تھی، گرفتار بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن گئے۔ اور پھر بہت مرتبہ اکیلے گھر ہی رات گزاری۔
۹ مئی کے بعد جب زمان پارک سے عمران خان صاب کی سیکیورٹی احمد خان نیازی اور انکی ٹیم چلے گئے، کوئی کیمپ نہیں رہا اور باہر ایک بندہ بشر نہیں بچا، تو بھی خان صاحب نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور وہیں سے اکیلے 5 اگست کو گرفتار ہو گئے۔
سہیل آفریدی ہر رات ہی سی ایم ہاؤس جا کر گزارتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ وہ بس گرفتاری کی رات اچانک وہاں چلا گیا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ یہ تحریک نہ چلاتا تو سی ایم ہی ہوتا۔
کور کمیٹی کی مشاورت میں دیگر ساتھیوں نے اسکو بہت مشورہ دیا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اگر لانگ مارچ کا اعلان واپس لے لو تو حکومت چلنے دیں گے، کچھ نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ کا اعلان خان صاحب نے نہیں تم نے کیا تھا، تم اسکو کال آف کر دو ، یہ نہ ہو کہ کے پی کی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں۔ پر سہیل نے تحریک روکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بہادر شاہ ظفر اور ٹیپو سلطان کی مثال دی، جو مثال خان صاحب دیتے رہے ہیں ہمیں۔
مجھے ان اجلاسوں میں سہیل آفیدی کے اس جرآتمند فیصلے پر رشک آتا رہا۔ میری تمام تحریکیوں سے گزارش ہے کہ ہمیں اس جرأتمندی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ اسکی نیت پر سوال۔
شکریہ
🚨 ہمارا لانگ مارچ مکمل طور پر ایک منظم پرامن اور جمہوری لانگ مارچ تھا جو کہ جاری ہے ہماری مزاحمت جاری رہے گی ہم اس عوام کی تھتکاری ہوئی جعلی حکومت کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے ۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
ضلع پشاور صدر عرفان سلیم کا ایمرجنسی ویڈیو پیغام۔
سب تیار رہیں اپ سب کو جلد کال دی جائے گی، اس غیر ائینی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف اپ نے بھر پور تعداد میں نکلنا ہے، ہم نہ پہلے ڈرے اور نہ اب ڈریں گے۔