Mufti Shamail Nadwi Receives Ijazah in Hadith from Mufti Taqi Usmani (DB)
A blessed meeting at Masjid an-Nabawi in Madinah Munawwarah, where Mufti Shamail Nadwi received Ijazah in Hadith from Hazrat Mufti Muhammad Taqi Usmani حفظه الله, Grand Mufti of Pakistan.
It was also a great honour for Mufti Shamail when Hazrat Mufti Taqi Usmani warmly welcomed him, kissed his forehead, and addressed him with the words “فاتح الملحدين” (The Vanquisher of the Atheists), appreciating his scholarly efforts, particularly his recent debate. He also offered his duas for Mufti Shamail.
May Allah preserve our senior scholars, accept the efforts of all those serving His Deen, and grant us sincerity and steadfastness. Aameen.
المفتي شمائل الندوي يتلقى إجازة في الحديث من سماحة المفتي محمد تقي العثماني حفظه الله
لقاء مبارك في رحاب المسجد النبوي الشريف بالمدينة المنورة، تلقّى خلاله المفتي شمائل الندوي إجازةً في الحديث من فضيلة الشيخ المفتي محمد تقي العثماني حفظه الله، مفتي عام لباكستان.
وكان من دواعي الشرف والاعتزاز أن استقبل فضيلة المفتي د. محمد تقي العثماني المفتي شمائل الندوي بحفاوة وقبّل جبينه وخاطبه بقول: "فاتح الملحدين"، تقديرًا لجهوده العلمية، ولا سيما مناظرته الأخيرة. كما دعا له بخير.
نسأل الله تعالى أن يحفظ علماءنا الكبار، وأن يتقبل جهود كل من يسعى في خدمة دينه، وأن يرزقنا الإخلاص والثبات. آمين.
#muftitaqiusmani #muftishamailnadwi
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص نے رات کو یہ دو آیتیں پڑھ لیں تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔
(معارف القرآن،ج1،ص694،ط؛معارف القرآن)
ایک روایت میں کہ اسے پڑھنے پر تہجد کے قائم مقام ثواب عطاء کیا جاتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کوئی عقل مند شخص ان دو آیتوں کو پڑھے بغیر نہیں سو سکتا مطلب یہ کہ اگر ہم ان آیات کو پڑھے بغیر سوتے رہے ہیں تو حضرت علی ؓ کے نزدیک ہم تو بے عقلوں میں شامل ہوئے اور یاد رہے جن آیات کے بارے میں حضرت علی ؓ نے یہ فرمایا وہ سورہ بقرہ کی مذکورہ دو آیات ہیں۔
پرویز خٹک کو ہٹا دیا واہ بھئی واہ
محمود خان کو ہٹا دیا واہ بھئی واہ
گنڈہ پور کو لات مار دی واہ بھئی واہ
سہیل آفریدی کو دیس نکالا دے دیا واہ بھئی واہ
یہ ہے ہمارے کپتان کا وژن
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام کرپٹ چور ڈکیتوں ڈرگ پیڈلرز کا انتخاب کس کھوتے نے کیا تھا
پاکستان کا نام جہاں روشن ہوگا، وہاں پر داد دینا اور کسی بھی بندے کو اپریشیئٹ کرنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہو۔۔۔
شہباز شریف صاحب آپ سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اقوام متحدہ کے فلور پر کھڑے ھو کر آپ نے جس انداز سے فلسطین کے لئے آواز اٹھائی وہ داد کے مستحق ھے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
@CMShehbaz
تازہ ترین از مدینہ منورہ
: قائد ملت اسلامیہ مُحافظ اور وکیلِ ختمِ نُبُوَّت ﷺ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی روضۂ اقدس، روضۂ خاتم النبیین ﷺ پر حاضری🫀
راستے بند ہونے کا غصہ اپنی جگہ، مگر جب متبادل راستہ موجود ہو، ساتھ والی سڑک بھی کھلی ہو اور راستہ بھی بتایا جا رہا ہو، پھر بھی ضد کرکے پاکستان، پاکستانی عوام اور نظام کو گالیاں دینا ناقابلِ قبول ہے۔ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لے کر قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں۔
@MaryamNSharif
یہ غزہ ہے غزہ
جہاں بچوں کے اجتماع کو ایرانی منافقت سے آگاہ کیا جا رہا
سعودی قومی دن منایا جا رہے
پاکستان میں آل کوفہ ہمیں بتاتے کہ مجوسیوں کی ساری جنگ ہی اہل فلسطین کے لیے لیکن اہل غزہ بھی مجوسیوں پہ لعنت بھیج رہے
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن التھانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایران ایک
"شرپسند"ملک ہے؟
تو ان کا جواب تھا
”جو کچھ ہم نے دیکھا اور خطہ میں ایران نے جو کچھ کیا، یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ایران امن پسند ملک نہیں ہے۔“
جنکا سب سے شریف بندہ جواد نقوی جیسا زہریلا ہے اندازہ کیجیے انکے زہریلے کیسے خبیث ہونگے ؟
ان خبیثوں کی زبانوں پر امریکی نام نہاد دھشت گردی کی جنگ کے دنوں سے ایک لفظ چڑھا ہوا ہے اور وہ ہے جو انکو بے نقاب کرے انہیں یہ منہ پھاڑ کر تکفیری کہہ دیتے ہیں ، چونکہ میرے جیسے لوگ اللہ کے فضل سے انکی رگ رگ سے واقف ہیں تو کل ایک کالا ناگ میری وال پر آ کر تکفیری کا فتوی لگانے لگا،
جونہی میں نے جواب دیا کہ کہ کہ تم غلیظ جنس کس منہ سے کسی دوسرے گروہ کو تکفیری کہہ سکتے ہو جنکا مذہب ہی اول و آخر ان لوگوں کی تکفیر پر کھڑا ہے تبرہ پر کھڑا ہے جنکو نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے خود تراشہ تھا ، تم تو امت کی ماؤں کی تکفیر کرتے ہو پیغمبر صل اللہ علیہ و سلم کے دوستوں رشتے داروں کو فاسق منافق کہتے ہو
تمہاری شکل ہے دوسروں کو تکفیری کہنے کی مجاز
کھٹمل نے فوراً کمینٹ ڈیلیٹ کیے اور بھاگ گیا کہ تعویز الٹے پڑ گئے
ہم تو انہیں مشرف کے دور سے جانتے ہیں جب یہ امریکی بیانیے پاکستان کے ٹی چینلز پر بھونکا کرتے تھے امریکی بیانیے کی ترجمانی جیو سمیت جہاں سے بھی ہوتی رہی سب روافض تھے
ہم بھولے نہیں ہیں
ایران کی قیادت کے دسیوں لوگ صدام کے گرائے جانے اور افغانستان میں امریکہ کی حمایت یاد دلوا چکے ہیں،
سانپ کسی کا دوست نہیں ہوتا کسی بھی رافضی کو دیکھ لیں کیسے لمبی لمبی زبانیں نکال کر سعودیز کے خلاف بھونک رہے ہیں،
میں نے جنگ شروع ہونے کے بعد بار بار یہ بات دھرائی تھی کہ پوری دنیا میں انہیں انکی بدکاریوں کے بعد کسی نے پناہ نہیں دی نا انکے یار بھارت نے نا روس نے
کام آئے تو اہلسنت ہی انہوں نے سر چھوٹتے ہی سب سے پہلے جسے کاٹا وہ سعودی اور قطر کے جہاز ہی تھے اور اب ھوثی کتے چھوڑ دیے
مطلب ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کی کہ انہوں نے ہمیں بچانے کے لیے کتنی محنت کی ہے!
شیعہ شیطان اور یوتھیا کبھی انسان نہیں بنتا
جواد نقوی کو دیکھ لیجیے!
صحابہ کرام کا اس امت پر کتنا بڑا احسان ہے سورہ فتح کی آیات دیکھ لیجیے خصوصاً آخری آیت ایک مسلمان کا دل جھوم اٹھتا ہے
جنکی تعریف قرآن کرے یہ انکی تکفیر کرتے ہیں ان سے بڑا بد بخت ہوگا سعودی میں اور آپ انکی نظر میں کیا ہو سکتے ہیں یہ تو قدسی نفوس کے بھی دشمن ہیں _
یہ سعودیہ میں پاکستان ایمبیسی کا پیغام ہر طرف پھیلا دیں سعودیہ میں مقیم پاکستانی سوشل میڈیا پر سعودیہ بارے سیاسی تبصرے مت کریں ورنہ گرفتاری جرمانہ سزا بھی ہو گی اور نکال بھی دیں گے میں نے پہلے بتایا تھا لسٹیں بن رہی ہیں یو اے ای والی ایمبیسی بھی اپیل کرتی رہ گئی نہی سنی اب وہ چن چن کر ویزے کینسل کر رہے ہیں
پاکستان میں غیر ملکی سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے عوامل کا خاص جائزہ لینا چاہیے.
خصوصا ایرانی استعمار کے ایجنٹ جو فرقہ وارانہ فسادات کا منبع ثابت ہو چکے ہیں.
منسلک ویڈیو سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی ہے، جو لاہور میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ تشریف لائے تھے
یہ صاحب کون تھے، ان کا دورِ وزارت کیا تھا اور اس دور میں ایران خطے میں کیا کر رہا تھا؟
میں آپکو بتاتا ہوں ۰۰۰۰۰
کمال خرازی 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر خارجہ رہے
یہ وہی عرصہ تھا جب ایران عراق میں اپنے مسلح اثر و رسوخ کو تیزی سے بڑھا رہا تھا
بدر کور ایران میں تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے والی ایرانی حمایت یافتہ قوت تھی
2003 کے بعد ایران نے بدر کے ساتھ ساتھ مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور دوسرے شیعہ مسلح گروہوں کو بھی مالی مدد، تربیت اور ہتھیار فراہم کیے، مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا پر عراق کے اہلِ سنت کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے بھی سنگین الزامات اور ثبوت سب کے سامنے ہیں
میری معلومات کے مطابق 2004 تک ایرانی کیمپوں میں عراقی جنگجوؤں کی تربیت جاری تھی، پھر 2005 میں ابو مصطفیٰ الشیبانی کے نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی ساختہ EFP بم، 107 اور 122 ملی میٹر راکٹ، کاتیوشا اور مارٹر عراق پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئیں
انہی پرانے بدر اسمگلنگ روٹس کے ذریعے مہدی آرمی، بدر اور دوسرے گروہوں کو اسلحہ اور مالی معاونت پہنچنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے
مزے کی بات یہ کہ جب یہ سب چل رہا تھا تو عین اسی وقت کمال صاحب کمال فنکاری سے انکاری تھے کہ ایران ایسا کچھ نہیں کررہا، مارچ 2003 میں کمال خرازی نے بدر کور کے اہلکاروں کو عراق بھیجنے کی تردید کی اور کہا کہ ایران جنگ میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہا، اسی موقع پر انہوں نے ایران کے عراق میں کردار سے متعلق الزامات کو رد کیا
یعنی ایک طرف یہ مؤقف کہ عراق میں ہمارا کوئی کردار نہیں، اور دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ مسلح نیٹ ورک، تربیتی کیمپ، اسلحہ کے راستے اور EFP جیسے مہلک ہتھیاروں کی تفصیلات
لبنان میں بھی خرازی کا مؤقف کسی ابہام میں نہیں تھا، 2005 میں انہوں نے کالعدم تخریبی گروہ حزب اللات کے ہتھیاروں کا دفاع کیا اور اسے محض ملیشیا ماننے کے بجائے مزاحمتی تحریک قرار دیا
یہ تعارف اس شخص کے دورِ وزارت اور اس وقت کی ایرانی پالیسی کا تاریخی ریکارڈ ہے کہ جب ایران نے اپنی پراکسیز کو مسلم ممالک میں مسلح کرکے داخل کرنا شروع کیا اور یہ شخص مکمل طور پر اس ساری سازش اور تخریب کا ایک بہت بڑا کردار اور حصہ تھا
جواد نقوی صاحب ایک ایسے سعودی سفیر پر، جو پاکستان آیا ہی نہیں ، یہ الزام لگا بیٹھے کہ اس نے پاکستانی مفتیوں کو ناشتہ کرایا
ایک ایسے شخص کی میزبانی اور اس کے خلاف الزام، جس کی پاکستان آمد ہی نہیں ہوئی، اگر اتنا بڑا موضوع بن سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کمال خرازی کی میزبانی کے وقت یہ تاریخی پس منظر کیوں یاد نہیں آیا؟
جب آپ اپنے ادارے کے بچوں اور بچیوں کو ایرانی خانہ فرہنگوں کے اسٹاف کے سامنے پیش کرتے ہیں، ایرانی شخصیات کو اپنے تعلیمی ادارے میں مدعو کرتے ہیں، اور دوسری طرف سعودی عرب کے بارے میں محض ایک مفروضے پر الزامات عائد کرتے ہیں تو آپکو آپکا ضمیر بھی نہیں ملامت کرتا؟
کوئ رتی برابر شرم؟
احساس یا ندامت؟
کمال خرازی آج اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی پاکستان عروہ آمد کی یہ ویڈیو موجود ہے، ان کا دورِ وزارت تاریخ کا حصہ ہے اور اس دور کی ایرانی پراکسی پالیسی کا ریکارڈ بھی موجود ہے
لہٰذا میرا سوال کسی ایرانی شخصیت کی پاکستان آمد یا کسی قوم سے دشمنی کا نہیں، سوال یہ ہے کہ جس شخص کے دور میں ایران عراق میں اپنے مسلح نیٹ ورکس، تربیت، اسلحہ رسانی اور پراکسی اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا تھا، لبنان میں حزب اللات کے مسلح کردار کا دفاع کیا جا رہا تھا، اور دنیا کے سامنے عراق میں ایرانی کردار سے انکار بھی کیا جا رہا تھا تو اس شخص کو ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں مدعو کرنے کی ضرورت آخر کیا تھی؟
جواد نقوی صاحب! سعودی سفیر کے بارے میں، جو آیا ہی نہیں، آپ نے ایک مفروضے سے اتنا بڑا الزام کشید کر لیا تو جس شخص کی آمد، میزبانی اور ویڈیو سب ہمارے سامنے موجود ہیں، اس کے بارے میں آپ سے سوال پوچھنا کیا ہمارا حق نہیں؟
کمال خرازی کو عروۃ الوثقیٰ کیوں بلایا گیا؟
وہاں کیا پیغام دیا گیا؟
کس بیانیے کو انجیکٹ کیا گیا؟
اور آخر اس دعوت کے پیچھے ایجنڈا کیا تھا؟
امید ہیکہ ایران نواز ٹولے میں سے کوئ ایک مائ کا لعل یا غیرتمند تمن خور اس تحریر کا جواب دلائل سے دیکر پاکستانی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کرےگا
آفتاب نذیر