اگر گاڑیوں پر کالے شیشے سیکیوریٹی رسک کی وجہ سے ممنوع ہیں تو ایک سوال کا جواب دیا جائے کہ
* کیا 15 ہزار روپے فیس ادا کرنے سے سیکیوریٹی رسک ختم ہو جائے گا؟
* اگر فیس دینے کے بعد وہی کالے شیشے سیکیوریٹی کے لئے خطرہ نہیں رہتے تو پھر صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ سیکیوریٹی نہیں بلکہ وصولی کا ہے
* عام آدمی سے سالانہ 15 ہزار روپے وصول کئے جائیں، جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کو مفت اجازت دی جائے،یہ قانون کی برابری نہیں بلکہ وی آئی پی کلچر اور دوہرے معیار کی ایک اور مثال ہے۔
اگر کالے شیشے خطرناک ہیں تو سب کے لئے خطرناک ہیں، اور اگر محفوظ ہیں تو پھر سب کے لئے اجازت ہونی چاہیے۔
@KismatZimri@Imran_Nawaz_@CMComplaintCell